غالب: گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
ردیف "کہے بغیر" والی اس غزل کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کچھ باتیں کہے بغیر نہیں سمجھی جاتیں، اور کچھ کہے بغیر ہی ظاہر ہو جاتی ہیں [1]۔ مطلع میں عاشق محبوب کے در پر گھر بنا لیتا ہے،…

مرزا اسد اللہ بیگ خاں غالب (1797–1869)2
پس منظر
ردیف "کہے بغیر" والی اس غزل کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کچھ باتیں کہے بغیر نہیں سمجھی جاتیں، اور کچھ کہے بغیر ہی ظاہر ہو جاتی ہیں1۔ مطلع میں عاشق محبوب کے در پر گھر بنا لیتا ہے، اور مقطع میں مان لیتا ہے کہ بار بار عرض کرنے کی ضرورت نہیں، حال سب پر ظاہر ہے۔
غزل
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیرجانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر
کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقت سخنجانوں کسی کے دل کی میں کیونکر کہے بغیر
کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میںلیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر
جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہمسر جائے یا رہے نہ رہیں پر کہے بغیر
چھوڑوں گا میں نہ اس بت کافر کا پوجناچھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر
مقصد ہے ناز و غمزہ ولے گفتگو میں کامچلتا نہیں ہے دشنہ و خنجر کہے بغیر
ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگوبنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
بہرا ہوں میں تو چاہیئے دونا ہو التفاتسنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر
غالبؔ نہ کر حضور میں تو بار بار عرضظاہر ہے تیرا حال سب ان پر کہے بغیر
مشکل الفاظ
- در: دروازہ
- طاقت سخن: بولنے کی طاقت
- ستم گر: ظلم کرنے والا
- وگرنہ: ورنہ
- بت کافر: کافر محبوب، سنگ دل محبوب
- خلق: لوگ، دنیا
- ناز و غمزہ: ناز اور ادا
- دشنہ: خنجر
- مشاہدۂ حق: اللہ کے جلوے کا مشاہدہ (صوفیانہ اصطلاح)
- التفات: توجہ، مہربانی
- مکرر: دوبارہ
- حضور: کسی بڑے کی موجودگی، دربار
ماخذ
- ریختہ (Rekhta), مرزا غالب، غزل "گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر"، متن جوں کا توں اسی صفحے سے (9 اشعار)، دیکھا گیا 18 اکتوبر 2026. https://www.rekhta.org/ghazals/ghar-jab-banaa-liyaa-tire-dar-par-kahe-bagair-mirza-ghalib-ghazals?lang=ur
- ریختہ (Rekhta), "مرزا غالب: پروفائل اور سرگزشت": اصل نام مرزا اسد اللہ بیگ خاں، پیدائش 27 دسمبر 1797 آگرہ، وفات 15 فروری 1869 دہلی. https://www.rekhta.org/poets/mirza-ghalib/profile?lang=ur
- "Ghalib", Wikipedia (English): pen names Asad and Ghalib; titles Najm-ud-Daula and Dabir-ul-Mulk from Bahadur Shah Zafar in 1850 (citing Pavan K. Varma, Ghalib: The Man, The Times, Penguin, 1989). https://en.wikipedia.org/wiki/Ghalib







