رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید

غالب: ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

یہ مرزا غالب کی سب سے زیادہ پڑھی اور گائی جانے والی غزلوں میں سے ہے اور اس کا مطلع ضرب المثل بن چکا ہے [1]۔ تیسرے شعر میں حضرت آدمؑ کے جنت سے نکلنے کی روایت کو بنیاد بنا…

غالب: ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
علامتی تصویر

مرزا اسد اللہ بیگ خاں غالب (1797–1869)2

پس منظر

یہ مرزا غالب کی سب سے زیادہ پڑھی اور گائی جانے والی غزلوں میں سے ہے اور اس کا مطلع ضرب المثل بن چکا ہے1۔ تیسرے شعر میں حضرت آدمؑ کے جنت سے نکلنے کی روایت کو بنیاد بنا کر شاعر اپنے محبوب کے کوچے سے رسوا ہو کر نکلنے کا ذکر کرتا ہے۔ پانچویں شعر میں وہ شوخی سے کہتا ہے کہ محبوب کو خط لکھوانا ہو تو اسی سے لکھوائے، اور مقطع میں واعظ پر لطیف طنز ہے۔

غزل

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پروہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکنبہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کااگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے

مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائےہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے

ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامیپھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے

ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کیوہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کااسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظپر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

مشکل الفاظ

  • دم نکلے: جان نکل جائے؛ کسی چیز کی شدید چاہت
  • ارمان: آرزو، دل کی خواہش
  • چشم تر: آنسوؤں سے بھیگی آنکھ
  • دم بدم: لگاتار، ہر لمحہ
  • خلد: جنت، بہشت
  • بے آبرو: بے عزت، رسوا
  • قامت کی درازی: قد کی لمبائی
  • طرۂ پر پیچ و خم: بل کھاتی ہوئی زلف
  • جام جم: ایرانی بادشاہ جمشید کا افسانوی پیالہ جس میں دنیا کا حال دکھائی دیتا تھا
  • خستگی: تھکن، شکستہ حالی
  • خستۂ تیغ ستم: ظلم کی تلوار سے زخمی
  • واعظ: وعظ و نصیحت کرنے والا

ماخذ

  1. ریختہ (Rekhta), مرزا غالب، غزل "ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے"، متن جوں کا توں اسی صفحے سے (9 اشعار)، دیکھا گیا 18 اکتوبر 2026. https://www.rekhta.org/ghazals/hazaaron-khvaahishen-aisii-ki-har-khvaahish-pe-dam-nikle-mirza-ghalib-ghazals?lang=ur
  2. ریختہ (Rekhta), "مرزا غالب: پروفائل اور سرگزشت": اصل نام مرزا اسد اللہ بیگ خاں، پیدائش 27 دسمبر 1797 آگرہ، وفات 15 فروری 1869 دہلی. https://www.rekhta.org/poets/mirza-ghalib/profile?lang=ur
  3. "Ghalib", Wikipedia (English): pen names Asad and Ghalib; titles Najm-ud-Daula and Dabir-ul-Mulk from Bahadur Shah Zafar in 1850 (citing Pavan K. Varma, Ghalib: The Man, The Times, Penguin, 1989). https://en.wikipedia.org/wiki/Ghalib

کلام: تمام تحریریں ←