رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید

احمد بن ماجد: بحرِ ہند کا استاد ملاح

بحرِ ہند کے ملاح کھلے سمندر میں ہفتوں سفر کرتے تھے۔ ان کے پاس ستاروں کا علم تھا، ہواؤں کے موسموں کا حساب تھا، اور ساحلوں، چٹانوں اور بندرگاہوں کی وہ معلومات تھیں جو نسل در نسل چلی آتی تھیں۔…

احمد بن ماجد: بحرِ ہند کا استاد ملاح
علامتی تصویر

بحرِ ہند کے ملاح کھلے سمندر میں ہفتوں سفر کرتے تھے۔ ان کے پاس ستاروں کا علم تھا، ہواؤں کے موسموں کا حساب تھا، اور ساحلوں، چٹانوں اور بندرگاہوں کی وہ معلومات تھیں جو نسل در نسل چلی آتی تھیں۔ پندرہویں صدی میں ایک ملاح نے یہ سارا علم ایک کتاب میں جمع کر دیا۔ اس کا نام احمد بن ماجد (Ahmad ibn Majid) تھا۔

ملاحوں کے خاندان میں

احمد بن ماجد کی پیدائش کے بارے میں ماخذ مختلف ہیں۔ مؤرخ اور عربی دان پال لنڈ (Paul Lunde) نے 2005ء میں "سعودی آرامکو ورلڈ" میں ان پر ایک مضمون لکھا، جس کے مطابق وہ عمان میں، غالباً 1432ء میں پیدا ہوئے۔ سائنس اور تہذیب کی تاریخ پر کام کرنے والی ویب سائٹ "مسلم ہیریٹیج" کے مطابق وہ 1430ء کی دہائی میں جلفار میں پیدا ہوئے، جو آج کا راس الخیمہ ہے۔

دونوں ماخذ اس پر متفق ہیں کہ وہ ملاحوں کے گھرانے سے تھے۔ لنڈ کے مطابق ان کے والد بھی ایک مشہور ملاح تھے، اور مسلم ہیریٹیج کے مطابق سترہ برس کی عمر میں وہ جہاز چلانے لگے تھے۔ انہیں "شیرِ بحر" کا لقب ملا۔ لنڈ لکھتے ہیں کہ ان کی تقریباً چالیس تصانیف معلوم ہیں، جن میں نظم بھی ہے اور نثر بھی، اور ان میں سے آخری، آسمان کے بارے میں ایک نظم، 1500ء کی ہے؛ اس لیے وہ غالباً اس کے کچھ ہی عرصے بعد فوت ہوئے۔

"کتاب الفوائد"

لنڈ کے مطابق ان کی سب سے اہم کتاب "کتاب الفوائد فی اصول علم البحر و القواعد" ہے، یعنی جہاز رانی کے اصولوں اور قاعدوں پر مفید معلومات کی کتاب، جو 1490ء میں لکھی گئی۔ یہ جہاز رانی کا ایک قسم کا دائرۃ المعارف ہے: اس میں جہاز رانی کی تاریخ اور بنیادی اصول ہیں، چاند کی منزلیں، سمتوں کی لکیریں، ساحل کے ساتھ سفر اور کھلے سمندر کے سفر کا فرق، مشرقی افریقہ سے انڈونیشیا تک بندرگاہوں کے مقام، ستاروں کی پوزیشنیں، مون سون اور دوسری موسمی ہواؤں کا حال، اور طوفانوں کا بیان۔ لنڈ کے بقول اس میں ان کا اپنا تجربہ بھی ہے، ان کے والد کا بھی، اور بحرِ ہند کے ملاحوں کی کئی نسلوں کا علم بھی۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ جی آر ٹبٹس (G. R. Tibbetts) نے رائل ایشیاٹک سوسائٹی کے لیے "عرب نیوی گیشن ان دی انڈین اوشن" کے نام سے کیا۔

ہواؤں کا علم

لنڈ کے مطابق یہ کتاب صرف بڑے مون سون نظام کی بات نہیں کرتی بلکہ ہر علاقے کی چھوٹی چھوٹی ہواؤں کی تفصیل بھی دیتی ہے۔ ابن ماجد لکھتے ہیں کہ جدہ سے شمال میں بحیرۂ احمر کی ہوائیں سب سے مشکل تھیں، کیونکہ وہ سارا سال شمال سے چلتی تھیں۔ اس لیے عام دستور یہ تھا کہ بڑے جہاز جدہ تک جاتے، اور وہاں سے مال یا تو چھوٹی کشتیوں میں لادا جاتا جن کے پائلٹ جدہ اور سویز کے درمیان کے حالات جانتے تھے، یا خشکی کے راستے بھیجا جاتا۔ جدہ تک پہنچنا بھی صرف شمال مشرقی مون سون میں، یعنی اکتوبر سے مارچ کے وسط تک، ممکن تھا۔ خط استوا کے جنوب میں مون سون کی جگہ تجارتی ہوائیں (trade winds) چلتی تھیں، اور بحیرۂ چین کا نظام الگ تھا۔ لنڈ کے بقول ان سب باتوں کو صرف عمر بھر کا سفر ہی ایک "مُعلّم"، یعنی استاد ملاح، کو سکھا سکتا تھا۔

انگلیوں سے ستارے ناپنا

لنڈ کے مطابق ابن ماجد اور ان کے ساتھی ملاح قطبی ستارے سے کام لیتے تھے: افق سے اس کی اونچائی سے عرض بلد معلوم ہوتا تھا، اور اگر اونچائی ایک سی رکھی جائے تو جہاز ایک ہی عرض بلد پر مشرق یا مغرب کی طرف چل سکتا تھا۔ یہ اونچائی بازو پھیلا کر انگلیوں کی چوڑائی سے ناپی جاتی تھی؛ مثلاً کھمبات (Cambay) اس عرض بلد پر تھا جہاں قطبی ستارہ افق سے گیارہ انگلی اونچا ہوتا تھا۔ لنڈ لکھتے ہیں کہ یہ طریقہ جتنا سادہ لگتا ہے اس سے زیادہ درست تھا، کیونکہ ہر "انگلی" کے آٹھ حصے کیے جاتے تھے۔

دوسرا آلہ "کمال" (kamal) تھا: لکڑی کی ایک چھوٹی سی تختی جس کے ساتھ ایک ڈوری بندھی ہوتی، اور ڈوری پر گرہیں لگی ہوتیں۔ ہر گرہ کسی خاص بندرگاہ کے عرض بلد کی نشانی تھی۔ ملاح ڈوری کی گرہ دانتوں میں پکڑتا اور تختی کو آنکھ کے سامنے رکھ کر اس کا نچلا کنارہ افق سے ملاتا؛ جب اوپر کا کنارہ قطبی ستارے کو چھوتا تو جہاز اس بندرگاہ کے عرض بلد پر ہوتا۔ مشرق اور مغرب میں فاصلہ وقت سے ناپا جاتا تھا، "زام" کی اکائی میں، جو تین گھنٹے کا ایک پہرہ تھا اور ایک مقررہ لمبائی کی اگربتی جلا کر ناپا جاتا تھا۔

ابن ماجد کو اپنی روایت پر فخر تھا۔ لنڈ ان کا یہ قول نقل کرتے ہیں: "ہمارے پاس بتیس رُخ ہیں، اور ترفہ، اور زام، اور ستاروں کی اونچائی ناپنے کا علم … ہم ان (یورپی ملاحوں) کا طریقہ سمجھ سکتے ہیں، ان کا نظام استعمال کر سکتے ہیں اور ان کے جہاز چلا سکتے ہیں۔"

دنوں کی گنتی

لنڈ کے مطابق بحرِ ہند کے ملاح سفر کے لیے ایک شمسی کیلنڈر استعمال کرتے تھے جسے "یزدگرد کا کیلنڈر" کہا جاتا تھا۔ اس میں سال کے دنوں کو ایک سے 365 تک بس گنا جاتا تھا، اور سال کا پہلا دن گرمیوں کا سب سے لمبا دن تھا۔ ابن ماجد اپنے 1471ء کے ایک سفر کا حال اسی طرح لکھتے ہیں: "ہم نے دن 135 کو بادبان کھولے … دن 175 کو راس حافون دیکھا اور دن 200 کو تیز شمالی ہواؤں کے خلاف باب المندب میں داخل ہوئے۔"

قطب نما اور ایک پرانا سوال

لنڈ لکھتے ہیں کہ ابن ماجد کی شہرت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ عرب روایت قطب نما کی ایجاد ہی ان سے منسوب کرتی ہے۔ لنڈ کے خیال میں ممکن ہے کہ انہوں نے ایک ڈبے میں بند، کارڈ پر جڑا ہوا کھڑا قطب نما رائج کیا ہو۔ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ 1509ء میں یورپ میں چھپنے والی جہاز رانی کی پہلی کتاب میں قطبی ستارے کی اونچائی ناپنے کا جو طریقہ ہے وہ تقریباً یقیناً بحرِ ہند کے ملاحوں سے آیا تھا، اور بحرِ ہند کے سب سے پرانے یورپی نقشوں میں بندرگاہوں کا مقام "انگلیوں" میں دیا گیا ہے۔

ابن ماجد کے بارے میں ایک مشہور کہانی یہ ہے کہ 1498ء میں انہوں نے واسکو ڈے گاما کو ملندی سے کالی کٹ پہنچایا؛ مگر بریٹانیکا کے مطابق ملندی سے لیا گیا پائلٹ ایک گجراتی تھا، ہکلوٹ سوسائٹی کے ای جی ریونسٹائن کے مطابق پرتگالی مؤرخ اسے "ملیمو کانا" لکھتے ہیں، اور مسلم ہیریٹیج کے مطابق اس موضوع کے بڑے محقق ٹبٹس بھی اسے ابن ماجد ماننے سے اختلاف کرتے ہیں۔

ان کی اصل پہچان ان کی کتابیں ہیں، جن میں پندرہویں صدی کے بحرِ ہند کی ہواؤں، ستاروں اور بندرگاہوں کا وہ علم محفوظ ہے جو ورنہ صرف ملاحوں کے سینوں میں رہ جاتا۔

اگلی قسط: کرسٹوفر کولمبس: بحرِ اوقیانوس کا پہلا سفر۔

ماخذ

  1. Paul Lunde, "The Navigator: Ahmad ibn Majid", Saudi Aramco World, vol. 56 no. 4, July/August 2005, pp. 45–48 (with the box "The Calendar of Yazdagird and the Rasulid Almanac"). https://archive.aramcoworld.com/issue/200504/the.navigator.ahmad.ibn.majid.htm
  2. "Ibn Majid al-Najdi", Muslim Heritage (Foundation for Science, Technology and Civilisation), Scholars A–Z (Julfar, seafaring family, navigating at 17, "lion of the sea", c. 40 works, death probably 1500, Tibbetts on the da Gama story). https://muslimheritage.com/people/scholars/ibn-majid-al-najdi/
  3. "Vasco da Gama", Encyclopaedia Britannica (the Gujarati pilot taken on at Malindi, 14 April 1498). https://www.britannica.com/biography/Vasco-da-Gama
  4. E. G. Ravenstein (trans. and ed.), A Journal of the First Voyage of Vasco da Gama, 1497–1499, Hakluyt Society, First Series no. 99, London, 1898, note 132 (the Malindi pilot, "Malema Cana"). Project Gutenberg eBook #46440. https://www.gutenberg.org/ebooks/46440
  5. G. R. Tibbetts, Arab Navigation in the Indian Ocean before the Coming of the Portuguese: being a translation of Kitāb al-Fawā'id fī uṣūl al-baḥr wa'l-qawā'id of Aḥmad b. Mājid al-Najdī, Oriental Translation Fund, New Series vol. XLII, Royal Asiatic Society of Great Britain and Ireland, London, 1971 (bibliographic reference only; the archive.org copy is access-restricted and its text was not consulted). https://archive.org/details/arabnavigationin0042ahma
  6. "Ahmad ibn Majid", Wikipedia (pointer only, to the Tibbetts debate). https://en.wikipedia.org/wiki/Ahmad_ibn_Majid

مہمات: تمام تحریریں ←