اسکائلیکس: دارا کا ملاح، دریائے سندھ سے بحیرۂ احمر تک
تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے ایران کے بادشاہ دارا کے ذہن میں ایک سوال تھا: دریائے سندھ آخر کہاں جا کر سمندر میں گرتا ہے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے اس نے کشتیاں روانہ کیں، اور ان کے…

تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے ایران کے بادشاہ دارا کے ذہن میں ایک سوال تھا: دریائے سندھ آخر کہاں جا کر سمندر میں گرتا ہے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے اس نے کشتیاں روانہ کیں، اور ان کے ساتھ ایشیائے کوچک کے ایک ملاح کو بھیجا جس کا نام اسکائلیکس (Scylax) تھا۔ یہ قافلہ گندھارا کے علاقے سے دریا میں اترا، سندھ کے ڈیلٹا تک پہنچا، اور پھر سمندر کے راستے مکران، عرب اور بحیرۂ احمر سے ہوتا ہوا مصر جا پہنچا۔ ہماری سرزمین سے گزرنے والی جن مہمات کا حال تاریخ میں لکھا ملتا ہے، یہ ان میں قدیم ترین میں سے ہے۔
پس منظر: کاریا کا ملاح اور دارا کی سلطنت
ہیروڈوٹس اسکائلیکس کو "کاریانڈا (Caryanda) کا آدمی" کہتا ہے۔ کاریانڈا ایشیائے کوچک (موجودہ ترکی) کے جنوب مغربی علاقے کاریا (Caria) کی ایک چھوٹی بستی تھی؛ اتفاق سے ہیروڈوٹس کا اپنا شہر ہالی کارناسس بھی اسی علاقے میں تھا۔ یہ علاقہ اس زمانے میں ایرانی ہخامنشی سلطنت کا حصہ تھا، اس لیے اسکائلیکس ایرانی بادشاہ کی ملازمت میں تھا۔
انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا لکھتا ہے کہ ہیروڈوٹس کے مطابق دارا اول نے تقریباً 515 ق م میں اسکائلیکس کو دریائے سندھ کا راستہ معلوم کرنے بھیجا۔ لیویئس ویب سائٹ کے مدیر یونا لینڈرنگ (Jona Lendering) کے مطابق یہ سفر 519 ق م کے بعد ہوا، جب دارا کی حکومت مستحکم ہو چکی تھی، اور 512 ق م سے پہلے، جب ہندوستان کا علاقہ بظاہر ایرانی سلطنت کا حصہ بن چکا تھا۔
سفر: کاسپاتیروس سے سمندر تک
ہیروڈوٹس کتاب چہارم میں لکھتا ہے کہ ایشیا کا بڑا حصہ دارا نے دریافت کیا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ دریائے سندھ، جو اس کے بقول دنیا کے ان دو دریاؤں میں سے ہے جن میں مگرمچھ پائے جاتے ہیں، کہاں سمندر میں گرتا ہے۔ اس نے کئی ایسے لوگوں کو جہازوں کے ساتھ بھیجا جن کی سچائی پر اسے بھروسا تھا، اور ان میں کاریانڈا کا اسکائلیکس بھی تھا۔
یہ لوگ "کاسپاتیروس (Caspatyros) شہر اور پکتوئیکے (Pactyike) کے ملک" سے روانہ ہوئے اور دریا کے بہاؤ کے ساتھ "مشرق اور سورج نکلنے کی سمت" سمندر تک گئے۔ لینڈرنگ لکھتے ہیں کہ پکتوئیکے قدیم گندھارا کا حصہ تھا، اور کاسپاتیروس، جس کا کسی اور ماخذ میں ذکر نہیں، دریائے کابل کے کنارے کہیں ہوگا۔ چونکہ دریائے سندھ مشرق کی طرف نہیں بلکہ جنوب کی طرف بہتا ہے، کئی محققین کا خیال ہے کہ قافلہ پہلے دریائے کابل میں مشرق کی طرف چلا اور سندھ سے ملنے کے بعد جنوب کی طرف مڑا، یا پھر ہیروڈوٹس سے سمت کے بیان میں چوک ہوئی۔
یہی کاسپاتیروس ہیروڈوٹس کی کتاب سوم میں بھی آتا ہے۔ وہاں وہ لکھتا ہے کہ کاسپاتیروس اور پکتوئیکے کے پاس رہنے والے ہندوستانی باقی ہندوستانیوں سے شمال میں رہتے ہیں، سب سے زیادہ جنگجو ہیں، اور وہی ریت کے صحرا میں "سونا کھودنے والی چیونٹیوں" سے سونا لانے جاتے ہیں۔ اس کہانی کا ذکر اس سلسلے کی چھٹی قسط میں ہیروڈوٹس کے حوالے سے آئے گا۔
سمندر کا راستہ: تیسواں مہینہ
ہیروڈوٹس کے مطابق دریا کے دہانے سے یہ لوگ سمندر میں مغرب کی طرف چلے اور تیسویں مہینے میں اس جگہ پہنچے جہاں سے مصر کے بادشاہ نے فونیقی ملاحوں کو افریقہ کے گرد سفر پر روانہ کیا تھا، یعنی بحیرۂ احمر کے شمالی سرے پر۔ بریٹانیکا اسے ڈھائی برس کا سفر لکھتا ہے جو سوئز کے قریب ختم ہوا۔
ہیروڈوٹس سفر کی تفصیل نہیں دیتا۔ لینڈرنگ کے مطابق راستہ دریائے سندھ، بحرِ ہند کے ساحل اور خلیج فارس سے گزرا ہوگا، اور پھر جزیرہ نمائے عرب کے گرد گھوم کر بحیرۂ احمر میں داخل ہوا ہوگا۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس ساحل کا اندازہ ہمیں دو صدی بعد کے ایک سفر سے ہوتا ہے: سکندرِ اعظم کا امیر البحر نیارخوس (Nearchus) اسی راستے سے سندھ سے مکران کے ساحل کے ساتھ خلیج فارس تک گیا، اور اس کے بیان میں مد و جزر، وہیل مچھلیوں اور گیڈروسیا کے ساحل کی سخت زندگی کا ذکر ہے۔ نیارخوس کا یہ سفر اس سلسلے کی ساتویں قسط کا موضوع ہے۔
سفر کے بعد: سندھ ایرانی سلطنت میں
ہیروڈوٹس لکھتا ہے کہ اس سفر کے بعد دارا نے ہندوستانیوں کو اپنے تابع کیا اور اس سمندر کو استعمال کرنے لگا۔ لینڈرنگ کے مطابق اسی لیے یہ مہم دراصل وادیٔ سندھ کی فتح کی تیاری تھی۔ ہیروڈوٹس دارا کی سلطنت کے صوبوں کی فہرست میں ہندوستانیوں کا بیسواں صوبہ گنواتا ہے جو ہر سال تین سو ساٹھ ٹیلنٹ سونے کا برادہ خراج دیتا تھا، جو اس کے بقول سب صوبوں سے زیادہ تھا۔
بعض مبصرین نے یہ شک بھی ظاہر کیا ہے کہ یہ سفر ہیروڈوٹس کے بیان کے مطابق ہوا یا نہیں، کیونکہ اس کا واحد تفصیلی ذکر اسی کی کتاب میں ہے؛ مگر بریٹانیکا اور لینڈرنگ دونوں اسے تاریخی مانتے ہیں۔
اسکائلیکس کی گم شدہ کتاب
بریٹانیکا کے مطابق اسکائلیکس جغرافیے کا ایک پیش رو اور ہندوستان کا حال لکھنے والا پہلا مغربی مشاہدہ کار تھا۔ قدیم مصنفین کے حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے سفروں کا حال لکھا تھا، مگر وہ کتاب ضائع ہو گئی۔ جو چند ٹکڑے بچے ہیں ان سے لگتا ہے کہ یہ ملاحوں کے لیے ساحلی رہنما کی شکل میں تھی، جس میں جغرافیہ بھی تھا، لوگوں کا حال بھی، اور ہندوستان کے بیان میں کچھ عجیب و غریب قصے بھی۔
یونانی فلسفی ارسطو (Aristotle) اپنی کتاب "سیاسیات" (Politics) میں اسی کتاب کا حوالہ دیتا ہے: وہ لکھتا ہے کہ حکمران اپنی رعایا سے اتنے برتر نہیں ہوتے "جتنا اسکائلیکس بتاتا ہے کہ ہندوستان میں ہیں"۔ بریٹانیکا کے مطابق جو "پیری پلس" (ساحلی سفرنامہ) آج اسکائلیکس کے نام سے موجود ہے وہ اس کا لکھا ہوا نہیں ہو سکتا، بلکہ بعد کے کسی مصنف کا ہے۔ لینڈرنگ لکھتے ہیں کہ قدیم دنیا میں اسکائلیکس کی شہرت اتنی بڑی تھی کہ چوتھی صدی قبل مسیح کی ایک بحری رہنما کتاب اسی کے نام سے شائع کی گئی۔
اہمیت
اسکائلیکس کا سفر وہ پہلا موقع ہے جب دریائے سندھ، گندھارا اور سندھ کے ساحل یونانی تحریروں میں داخل ہوئے۔ اسی سے یونانیوں کو معلوم ہوا کہ ہندوستان سے سمندر کے راستے مصر تک پہنچا جا سکتا ہے۔ دو صدی بعد سکندر اور نیارخوس اسی راستے پر چلے، اور اس کے بعد صدیوں تک سندھ کے ڈیلٹا سے بحیرۂ احمر تک تجارتی جہاز چلتے رہے، جن کا ذکر اس سلسلے کی دسویں قسط میں ہوگا۔
اگلی قسط: ہینو: کارتھیج کا امیر البحر اور افریقہ کا مغربی ساحل۔
ماخذ
- Herodotus, The History of Herodotus, Volume 1 (Books I–IV), translated by G. C. Macaulay, Macmillan, London, 1890; Project Gutenberg eBook #2707. Book III.94 and III.102; Book IV.44. https://www.gutenberg.org/ebooks/2707
- Britannica Editors, "Scylax of Caryanda", Encyclopaedia Britannica. https://www.britannica.com/biography/Scylax-of-Caryanda
- Jona Lendering, "Scylax of Caryanda", Livius.org, created 2001, last modified 21 April 2020. https://www.livius.org/articles/person/scylax-of-caryanda/
- Aristotle, Politics: A Treatise on Government, translated by William Ellis, J. M. Dent, London, 1912; Project Gutenberg eBook #6762, Book VII ch. 14 (Scylax on the kings of India). https://www.gutenberg.org/ebooks/6762
- "Scylax of Caryanda", Wikipedia (pointer only, for the Kabul-river reading of the route and the later Periplus of Pseudo-Scylax), accessed October 2026. https://en.wikipedia.org/wiki/Scylax_of_Caryanda
- Wikimedia Commons, "File:Eastern Satrapies of the Achaemenid Empire.jpg" (map by Mossmaps, CC BY-SA 4.0). https://commons.wikimedia.org/wiki/File:Eastern_Satrapies_of_the_Achaemenid_Empire.jpg







