رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید

افاناسی نکیتن: روس سے ہندوستان

واسکو ڈے گاما کے کالی کٹ پہنچنے سے تقریباً تیس برس پہلے ایک روسی سوداگر ایک گھوڑا ساتھ لیے ہندوستان کے مغربی ساحل پر اترا تھا۔ وہ برسوں دکن میں رہا اور وہاں کی منڈیوں، بارشوں اور محلوں کا حال…

افاناسی نکیتن: روس سے ہندوستان
علامتی تصویر

واسکو ڈے گاما کے کالی کٹ پہنچنے سے تقریباً تیس برس پہلے ایک روسی سوداگر ایک گھوڑا ساتھ لیے ہندوستان کے مغربی ساحل پر اترا تھا۔ وہ برسوں دکن میں رہا اور وہاں کی منڈیوں، بارشوں اور محلوں کا حال لکھتا رہا۔ اس کا نام افاناسی نکیتن (Afanasy Nikitin) تھا، اور اس کی تحریر روسی ادب میں "تین سمندروں کے پار کا سفر" کے نام سے مشہور ہے۔

تین سمندر اور ایک روزنامچہ

نکیتن روس کے شہر تویر (Tver) کا رہنے والا تھا۔ وہ خود اپنی کتاب کے شروع میں تین سمندروں کے نام گنواتا ہے: پہلا دربند کا سمندر، یعنی بحیرۂ کیسپین؛ دوسرا "ہندوستان کا سمندر"، یعنی بحیرۂ عرب؛ اور تیسرا "استنبول کا سمندر"، یعنی بحیرۂ اسود۔

ہکلوٹ سوسائٹی نے 1857ء میں آر ایچ میجر (R. H. Major) کی مرتب کردہ کتاب "پندرہویں صدی میں ہندوستان" (India in the Fifteenth Century) شائع کی، جس میں نکیتن کا سفرنامہ پہلی بار انگریزی میں آیا۔ ترجمہ لندن میں روسی سفارت خانے کے سیکرٹری کاؤنٹ ویلگورسکی (Count Wielhorsky) نے کیا تھا۔ ان کے بیان کے مطابق یہ تحریر نوگورود کے ایک گرجا گھر میں رکھے جانے والے ایک پرانے روزنامچے میں محفوظ رہی، جو 1821ء میں شائع ہوا۔

وولگا پر لوٹ مار

نکیتن تویر کے حاکم میخائل بوریسووچ کی اجازت سے روانہ ہوا اور دریائے وولگا (Volga) کے راستے نیچے کی طرف چلا۔ نژنی نوگورود میں اس نے دو ہفتے شیروان کے شاہ کے سفیر حسن بیگ کا انتظار کیا، جو ماسکو کے حکمران ایوان سوم کی طرف سے نوّے شکاری باز تحفے میں لے کر جا رہا تھا۔ وہ اسی سفیر کے ساتھ آگے بڑھا۔

استراخان (Astrakhan) کے قریب تاتاری سواروں نے ان کا پیچھا کیا۔ نکیتن لکھتا ہے کہ ان کا ایک آدمی مارا گیا، چھوٹی کشتی پکڑی گئی اور لٹ گئی اور اس کا سارا سامان اسی کشتی میں تھا۔ بڑی کشتی دریا کے دہانے پر ریت میں پھنس کر پکڑی گئی، اور باقی لوگوں کو خالی ہاتھ آگے روانہ کر دیا گیا۔ آگے بحیرۂ کیسپین میں طوفان آیا اور ایک کشتی تارکی کے قریب کنارے پر ٹوٹ گئی، جہاں مقامی قبیلے نے سب کو قید کر لیا۔ شیروان کے شاہ کی سفارش پر وہ رہا ہوئے، مگر شاہ نے انہیں واپسی کا خرچ نہیں دیا۔ نکیتن لکھتا ہے کہ جس کا روس میں کچھ تھا وہ گھر لوٹ گیا، اور جس پر قرض تھا "وہ جدھر آنکھیں لے گئیں ادھر چل پڑا"۔ نکیتن نے آگے جانے کا فیصلہ کیا۔

ایران سے ہرمز

وہ دربند اور پھر باکو (Baku) گیا، "جہاں آگ کبھی نہیں بجھتی"؛ ترجمے کے حاشیے کے مطابق اس سے مراد وہاں کے تیل کے چشمے ہیں۔ پھر سمندر پار "چیبوخارا" میں چھ مہینے رہا، اور مازندران کے شہروں ساری اور آمل، پھر رے، کاشان، نائین اور یزد سے ہوتا ہوا لار اور پھر ہرمز (Hormuz) پہنچا۔ ہرمز کے بارے میں وہ لکھتا ہے کہ یہ ایک جزیرے پر ہے اور دن میں دو بار سمندر اسے گھیر لیتا ہے، اور "ہرمز میں سورج ایسا تیز ہے کہ آدمی کو جلا دیتا ہے"۔ وہ اسے "ساری دنیا کی منڈی" بھی کہتا ہے۔

گھوڑا لے کر ہندوستان

ہرمز سے نکیتن نے اپنے گھوڑوں کو ایک "تاوا" (tava) یعنی ہندوستانی جہاز میں لادا اور مسقط، گجرات اور کھمبات (Cambay) سے ہوتا ہوا، "جہاں نیل اگتا ہے"، چھ ہفتے کے سفر کے بعد ہندوستان کے مغربی ساحل پر چول (Chaul) پہنچا۔ وہ لکھتا ہے کہ جب وہ باہر نکلتا تو بہت سے لوگ پیچھے چل پڑتے اور "سفید آدمی" کو حیرت سے دیکھتے۔

چول سے وہ خشکی کے راستے جُنّار (Junnar) گیا۔ اس کے بقول یہ شہر ایک پتھریلی پہاڑی پر ہے اور اس تک ایک تنگ راستہ جاتا ہے جس پر ایک وقت میں ایک ہی آدمی چل سکتا ہے اور چڑھائی میں پورا دن لگتا ہے۔ یہیں اس نے دکن کا مون سون دیکھا: "چار مہینے دن رات بارش اور کیچڑ کے سوا کچھ نہیں"، اور اسی موسم میں لوگ زمین جوت کر گندم، مٹر اور سبزیاں بوتے ہیں۔ وہ یہ بھی لکھتا ہے کہ یہاں گھوڑے پیدا نہیں ہوتے، اور سواری اور بار برداری کا کام بیل اور بھینسے کرتے ہیں۔ نکیتن کے بقول جو گھوڑا وہ ساتھ لایا تھا اس پر سو روبل خرچ ہوئے تھے، اور ایک سال پاس رکھ کر اس نے اسے بیدر میں 68 "فوتون" (ایک سکہ) میں بیچا۔

بیدر: بہمنی سلطنت کا دارالحکومت

جُنّار سے ایک مہینے کے سفر کے بعد نکیتن بیدر (Bidar) پہنچا، جو اس وقت دکن کی بہمنی سلطنت کا دارالحکومت تھا، اور یہیں اس نے سب سے زیادہ وقت گزارا۔ وہ لکھتا ہے کہ بیدر میں گھوڑوں، کپڑوں، ریشم اور ہر طرح کے مال کی تجارت ہوتی ہے۔ سلطان کے محل کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازے پر سو پہرے دار اور سو منشی بیٹھتے ہیں جو آنے جانے والے ہر شخص کا نام لکھتے ہیں۔ رات کو شہر کی حفاظت ایک ہزار سوار کرتے ہیں جو زرہ پہنے ہوتے ہیں اور ہر ایک کے ہاتھ میں روشنی ہوتی ہے۔

نکیتن ایک سالانہ میلے کا ذکر بھی کرتا ہے جہاں سارے ہندوستان سے لوگ آ کر دس دن تجارت کرتے ہیں، اور جہاں بیس ہزار تک گھوڑے بکنے آتے ہیں۔ کالی کٹ، سری لنکا اور پیگو (برما) کی بندرگاہوں کا جو حال اس نے لکھا، وہ ویلگورسکی کے مطابق سنی سنائی باتوں پر مبنی ہے؛ کالی کٹ کے بارے میں وہ لکھتا ہے کہ وہاں کالی مرچ، ادرک اور ہر طرح کے مسالے پیدا ہوتے ہیں۔

واپسی کا طویل سفر

کئی برس دکن میں گزارنے کے بعد نکیتن نے واپسی کا ارادہ کیا اور دابول (Dabul) کی بندرگاہ پہنچا، جسے وہ "ہندوستان اور حبشہ کے ساحلوں کی سب قوموں کے ملنے کی جگہ" کہتا ہے۔ وہاں اس نے ہرمز تک کا کرایہ سونے کے دو سکے طے کیا۔ یہ سفر مشکل نکلا: ایک مہینہ وہ سمندر میں رہے اور کچھ نظر نہ آیا، اگلے مہینے حبشہ (افریقہ) کے پہاڑ دکھائی دیے۔ وہاں پانچ دن ٹھہرے، اور نکیتن لکھتا ہے کہ اس نے مقامی لوگوں میں کالی مرچ اور روٹی بانٹی تاکہ وہ جہاز کو نقصان نہ پہنچائیں۔ پھر بارہ دن میں مسقط اور نو دن میں ہرمز پہنچے۔

ہرمز سے وہ خشکی کے راستے لار، شیراز، یزد، اصفہان، کاشان، قم اور تبریز سے ہوتا ہوا ترابزون (Trebizond) پہنچا، جہاں وہاں کے پاشا نے اس کے سامان کی تلاشی لی اور خاص طور پر تحریریں ڈھونڈیں۔ بحیرۂ اسود میں شمالی طوفان نے جہاز کو واپس ترابزون کی طرف دھکیل دیا، پندرہ دن ایک قریبی بندرگاہ میں رکنا پڑا، اور دو بار پھر مخالف ہوا نے آگے نہ بڑھنے دیا۔ آخرکار وہ کریمیا کے شہر کافا (Caffa)، آج کے فیودوسیا، پہنچا۔ سفرنامہ یہیں ختم ہوتا ہے۔

ویلگورسکی کے مطابق ایک روسی وقائع نگار لکھتا ہے کہ نکیتن سمولینسک (Smolensk) پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہو گیا، اور اس کا روزنامچہ کچھ سوداگر ماسکو لائے اور ریاست کے ایک عہدے دار کے حوالے کیا۔

سفر کب ہوا؟

نکیتن کے سفر کی تاریخیں یقینی نہیں۔ ویلگورسکی نے ایک روسی وقائع نگار کے اشارے سے اندازہ لگایا کہ وہ 1468ء میں روانہ ہوا اور 1474ء میں لوٹا؛ بریٹانیکا یہ سفر 1466ء سے 1472ء کے درمیان رکھتا ہے؛ اور ماہرینِ ہندیات کی سوانحی لغت "ہُو واز ہُو ان انڈولوجی" (Who Was Who in Indology) کے مطابق روانگی کا سال آج بھی طے نہیں۔ اسی لغت کے مطابق نکیتن کو ہندوستان آنے والا پہلا روسی سمجھا جاتا ہے۔

اگلی قسط: بارتھولومیو دیاز: راس امید کا چکر۔

ماخذ

  1. R. H. Major (ed.), India in the Fifteenth Century: Being a Collection of Narratives of Voyages to India, Hakluyt Society, First Series no. 22, London, 1857; "The Travels of Athanasius Nikitin, of Twer", translated by Count Wielhorsky, pp. 3–32, and Wielhorsky's account in the Introduction, pp. lxxiv–lxxx. https://archive.org/details/indiainfifteenth00majo
  2. "Russian literature: Works reflecting Muscovite power", Encyclopaedia Britannica (Nikitin's travels to India and Persia, 1466–72), via the entry "Afanasy Nikitin". https://www.britannica.com/biography/Afanasy-Nikitin
  3. "NIKITIN, Afanasij", Who Was Who in Indology (uncertain starting year; Bidar; Kaffa 1472 or 1474; death near Smolensk; first Russian visitor to India; manuscript history). https://whowaswho-indology.info/4382/nikitin-afanasij/
  4. "Afanasy Nikitin", Wikipedia (pointer only, for the modern dating debate). https://en.wikipedia.org/wiki/Afanasy_Nikitin

مہمات: تمام تحریریں ←