رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید

شیر شاہ سوری: پانچ برس کی حکومت، صدیوں کا اثر

1540ء میں مغل بادشاہ ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان سے نکالنے والا افغان سردار صرف پانچ برس حکومت کر سکا، مگر اس مختصر عرصے میں اس نے سڑکوں، سراؤں، ڈاک اور محصول کا ایسا نظام قائم کیا جس کی…

شیر شاہ سوری: پانچ برس کی حکومت، صدیوں کا اثر
علامتی تصویر

1540ء میں مغل بادشاہ ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان سے نکالنے والا افغان سردار صرف پانچ برس حکومت کر سکا، مگر اس مختصر عرصے میں اس نے سڑکوں، سراؤں، ڈاک اور محصول کا ایسا نظام قائم کیا جس کی بنیادوں پر بعد کے حکمرانوں نے بھی کام کیا۔ یہ تھے فرید خان، جو تاریخ میں شیر شاہ سوری (Sher Shah Suri) کے نام سے مشہور ہوئے۔ ان کی حکومت مغلیہ دور کے بیچ ایک وقفہ تھی، جسے "سور سلطنت" کہا جاتا ہے۔

ابتدائی زندگی

شیر شاہ کا اصل نام فرید خان تھا اور ان کا تعلق افغانوں کے سور قبیلے سے تھا۔ ان کے دادا ابراہیم خان سور روہ کے علاقے سے ہندوستان آئے تھے، جبکہ ان کے والد حسن خان سور کو بہار میں سہسرام اور خواص پور کی جاگیر ملی تھی۔ ان کی پیدائش کے سال اور مقام پر اختلاف ہے: بعض روایات میں 1472ء اور بعض میں 1486ء کا ذکر ہے۔ مورخ کالیکا رنجن قانون گو کے مطابق وہ غالباً 1486ء میں حصار فیروزہ میں پیدا ہوئے، جبکہ بعض حوالے سہسرام کو ان کی جائے پیدائش بتاتے ہیں۔

قانون گو کے مطابق گھریلو اختلافات کی وجہ سے فرید نوجوانی میں گھر چھوڑ کر جونپور چلے گئے، جہاں انہوں نے عربی صرف و نحو پڑھی اور گلستان، بوستان اور سکندر نامہ جیسی فارسی کتابیں یاد کیں۔ بعد میں والد نے انہیں اپنی جاگیر کے پرگنوں کا انتظام سونپا۔ یہاں انہوں نے کسانوں سے براہِ راست معاملہ کیا: کچھ کسانوں کا لگان زمین کی پیمائش کی بنیاد پر اور کچھ کا فصل کی تقسیم کی بنیاد پر طے ہوا، اور کسانوں سے تحریری اقرار نامے لیے گئے۔ یہی تجربہ بعد میں ان کی سلطنت کے انتظام کی بنیاد بنا۔

"شیر خان" کا لقب

جاگیر کے معاملات سے الگ ہونے کے بعد فرید بہار کے حاکم بہار خان لوہانی کی ملازمت میں آ گئے۔ اکبر کے حکم پر لکھی گئی عباس خان سروانی کی "تاریخِ شیر شاہی" کے مطابق ایک دن شکار کے دوران ایک شیر سامنے آیا تو فرید نے اسے مار ڈالا۔ اس بہادری پر بہار خان نے انہیں "شیر خان" کا لقب دیا اور اپنے بیٹے جلال خان کا نائب مقرر کیا۔ بہار خان کی وفات کے بعد شیر خان بہار کے عملی حکمران بن گئے۔

اقتدار تک کا سفر

1530ء کی دہائی میں شیر خان نے بہار میں اپنی طاقت مضبوط کی اور بنگال کی سلطنت کے خلاف مہمات کیں۔ جب ہمایوں بنگال کی طرف بڑھے اور وہاں کئی ماہ رکے رہے تو شیر خان نے بہار، بنارس اور جونپور کے راستوں پر قبضہ کر کے ان کا رابطہ کاٹ دیا۔ جون 1539ء میں دریائے گنگا کے کنارے چوسا کے مقام پر انہوں نے مغل فوج پر اچانک حملہ کیا اور اسے شکست دی؛ ہمایوں بمشکل جان بچا سکے۔

مئی 1540ء میں قنوج کے قریب، بلگرام کے علاقے میں، دونوں فوجوں کا دوبارہ مقابلہ ہوا اور مغل فوج کو پھر شکست ہوئی۔ اس کے بعد ہمایوں لاہور اور پھر سندھ کی طرف چلے گئے اور طویل جلاوطنی کا دور شروع ہوا۔ شیر خان نے آگرہ اور دہلی پر قبضہ کر کے "شیر شاہ" کا لقب اختیار کیا۔ اگلے برسوں میں انہوں نے پنجاب، مالوہ اور ماڑواڑ تک اپنی حکومت پھیلائی۔

روہتاس قلعہ

شمال مغربی سرحد کو محفوظ رکھنے اور گکھڑ قبائل پر نظر رکھنے کے لیے شیر شاہ نے دریائے جہلم کے قریب ایک مضبوط قلعہ تعمیر کروایا جسے روہتاس کا نام دیا گیا، جو آج پاکستان میں ہے۔ عباس خان سروانی لکھتے ہیں کہ تعمیر کے دوران نگرانوں نے اطلاع دی کہ پتھر بہت مہنگا پڑ رہا ہے، تو شیر شاہ نے جواب دیا کہ کام نہ رکے، چاہے پتھر کے وزن کے برابر تانبا دینا پڑے۔ ان کے مطابق اس قلعے پر بے پناہ رقم خرچ ہوئی۔ شیر شاہ نے دہلی میں جمنا کے کنارے شہر کو بھی نئے سرے سے تعمیر کروایا۔

سڑکیں، سرائیں اور ڈاک

شیر شاہ کی سب سے مشہور یادگار ان کی سڑکیں اور سرائیں ہیں۔ عباس خان سروانی کے مطابق ہر دو کوس کے فاصلے پر ایک سرائے بنائی گئی۔ ایک بڑی سڑک پنجاب کے قلعے سے بنگال کے شہر سنار گاؤں تک جاتی تھی، دوسری آگرہ سے برہان پور تک، تیسری آگرہ سے جودھ پور اور چتوڑ تک، اور چوتھی لاہور سے ملتان تک۔ عباس کے بیان کے مطابق مختلف سڑکوں پر کل سترہ سو سرائیں تعمیر ہوئیں، اگرچہ ایک قلمی نسخے میں یہ تعداد پچیس سو بتائی گئی ہے۔

ہر سرائے میں ہندو اور مسلمان مسافروں کے لیے الگ الگ قیام گاہیں تھیں، دروازے پر پینے کے پانی کے مٹکے رکھے جاتے، اور درمیان میں ایک کنواں اور پکی اینٹوں کی مسجد ہوتی تھی۔ مسافروں کو حکومت کی طرف سے کھانا اور ان کے جانوروں کے لیے چارہ ملتا تھا۔ سڑک کے دونوں طرف سایہ دار اور پھل دار درخت لگائے گئے۔ ہر سرائے میں دو گھوڑے رکھے جاتے تھے تاکہ خبریں تیزی سے آگے پہنچائی جا سکیں، یوں یہ سرائیں ڈاک کے نظام کا حصہ بھی تھیں۔

انتظام اور محصول

ونسنٹ سمتھ کے مطابق شیر شاہ نے اپنی مختصر حکومت میں کئی انتظامی اصلاحات کیں، خاص طور پر محصول کے شعبے میں، جنہیں بعد میں اکبر نے بھی اپنایا۔ سمتھ یہ بھی لکھتے ہیں کہ فوجی گھوڑوں پر نشان لگانے کا طریقہ شیر شاہ کے دور میں رائج تھا، اور اکبر کے دور کا تانبے کا سکہ "دام" شیر شاہ کے سکوں کے نمونے پر بنایا گیا تھا۔ عباس سروانی کے مطابق شیر شاہ نے ہر جگہ انصاف کے لیے عدالتیں قائم کیں۔

آخری ایام

زندگی کے آخری مہینوں میں شیر شاہ نے بندیل کھنڈ کے مضبوط قلعے کالنجر کا محاصرہ کیا جو کئی ماہ جاری رہا۔ عباس خان سروانی کے مطابق 952 ہجری میں ربیع الاول کی نو تاریخ کو، جب قلعے پر بارود بھرے گولے پھینکے جا رہے تھے، ایک گولہ قلعے کے دروازے سے ٹکرا کر واپس اس جگہ آ گرا جہاں دوسرے گولے رکھے تھے اور زوردار دھماکا ہوا۔ شیر شاہ بری طرح جھلس گئے۔ اسی شام قلعہ فتح ہونے کی خبر ان تک پہنچی، اور مئی 1545ء میں زخموں کے باعث ان کا انتقال ہو گیا۔

انہیں ان کے آبائی علاقے سہسرام میں دفن کیا گیا۔ ان کا مقبرہ ایک مصنوعی جھیل کے بیچ واقع ہے جس کے گرد تراشے ہوئے پتھر کی دیواریں ہیں؛ انیسویں صدی میں ایلیٹ اور ڈاؤسن نے اسے ایک خوبصورت اور باوقار عمارت قرار دیا۔

ورثہ

شیر شاہ کے بعد ان کے بیٹے جلال خان، اسلام شاہ کے لقب سے، تخت پر بیٹھے۔ ان کے بعد خاندان میں اختلافات بڑھے اور 1555ء میں ہمایوں نے ہندوستان واپس آ کر مغل حکومت بحال کر لی۔ سور سلطنت تقریباً پندرہ برس ہی قائم رہی، مگر اس کے قائم کردہ انتظامی طریقے مغل دور میں بھی جاری رہے۔

شیر شاہ سوری کا نام آج بھی سڑکوں اور سراؤں کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ جس شاہراہ کو بعد میں جرنیلی سڑک یا گرینڈ ٹرنک روڈ کہا گیا، اس کی تعمیر و ترقی میں ان کا کردار مورخین کے ہاں بار بار ذکر ہوتا ہے، اور جہلم کے قریب روہتاس قلعہ آج بھی ان کے دور کی یاد دلاتا ہے۔

ماخذ

  1. 'Abbas Khan Sarwani, Tarikh-i Sher Shahi (Tuhfa-i Akbar Shahi), English translation in H. M. Elliot and John Dowson (eds.), The History of India as Told by Its Own Historians, Vol. IV, Trübner & Co., London, 1872. Archive.org copy: https://archive.org/details/india.history.resource.374
  2. Kalika Ranjan Qanungo, Sher Shah: A Critical Study Based on Original Sources, Kar, Majumder & Co., Calcutta, 1921. Archive.org copy: https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.523795
  3. Vincent A. Smith, Akbar the Great Mogul, 1542–1605, Clarendon Press, Oxford, 1917. Archive.org copy: https://archive.org/details/akbargreatmogul100smituoft
  4. Wikipedia, "Sher Shah Suri" (used as a pointer to the dates of Chausa and Kannauj, the disputed birth year and the succession of Islam Shah): https://en.wikipedia.org/wiki/Sher_Shah_Suri

حکمران اور سلاطین: تمام تحریریں ←