رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید

عبدالرحمٰن الداخل: قرطبہ کی جامع مسجد کی بنیاد رکھنے والا امیر

اسپین کے جنوبی شہر قرطبہ (Cordoba) میں دریائے وادی الکبیر کے کنارے ستونوں اور محرابوں کی ایک وسیع عمارت کھڑی ہے، جسے یونیسکو اپنی وسعت اور اندرونی بلندی کے لحاظ سے ایک منفرد فنی تخلیق قرار دیتا ہے۔ اس عمارت…

عبدالرحمٰن الداخل: قرطبہ کی جامع مسجد کی بنیاد رکھنے والا امیر
علامتی تصویر

اسپین کے جنوبی شہر قرطبہ (Cordoba) میں دریائے وادی الکبیر کے کنارے ستونوں اور محرابوں کی ایک وسیع عمارت کھڑی ہے، جسے یونیسکو اپنی وسعت اور اندرونی بلندی کے لحاظ سے ایک منفرد فنی تخلیق قرار دیتا ہے۔ اس عمارت کی بنیاد آٹھویں صدی میں عبدالرحمٰن اول (Abd al-Rahman I) نے رکھی، جو تاریخ میں "عبدالرحمٰن الداخل" یعنی "اندر آنے والا" کے نام سے مشہور ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق وہ شام کے اموی خاندان کے ایک فرد تھے جنہوں نے اسپین میں ایک نیا اموی خاندانِ حکمرانی قائم کیا۔ انہوں نے 756ء سے 788ء تک حکومت کی۔

ابتدائی زندگی

عبدالرحمٰن 731ء کے لگ بھگ شام میں پیدا ہوئے۔ وہ اموی خلیفہ ہشام بن عبدالملک کے پوتے تھے، جن کا ذکر اس سلسلے کی پچھلی قسط میں آ چکا ہے۔ برطانوی مستشرق اسٹینلے لین پول (Stanley Lane-Poole) کے مطابق قدیم مورخین انہیں بلند قامت، ذہین اور بہت محنتی بتاتے ہیں۔

اندلس آمد

برٹانیکا کے مطابق 750ء میں جب عباسیوں نے اموی خلافت کا خاتمہ کیا تو عبدالرحمٰن شام سے نکل گئے۔ لین پول کے مطابق اس وقت ان کی عمر تقریباً بیس برس تھی، اور اگلے تقریباً پانچ برس انہوں نے شمالی افریقہ میں گزارے۔ وہاں سے انہوں نے اپنے وفادار ملازم بدر کو اندلس (al-Andalus) بھیجا، جہاں بہت سے عرب سردار اموی خاندان کے پرانے وابستگان تھے۔ ان سرداروں کی حمایت ملنے پر عبدالرحمٰن ستمبر 755ء میں سمندر پار کر کے اندلس پہنچے۔

لین پول کے مطابق 756ء کے موسمِ بہار میں اندلس کے گورنر یوسف کو شکست دے کر وہ قرطبہ میں داخل ہوئے اور اسے اپنا دارالحکومت بنایا۔

قرطبہ: دارالحکومت

قرطبہ ایک پرانا شہر تھا۔ یونیسکو کے مطابق اسے رومیوں نے دوسری صدی قبلِ مسیح میں آباد کیا تھا اور یہ رومی صوبے بیٹیکا کا دارالحکومت رہا۔ دریا پر بنا رومی دور کا پل آج بھی موجود ہے۔ یونیسکو کے مطابق آٹھویں صدی میں قرطبہ ایک امارت کا دارالحکومت بنا، اور 929ء میں عبدالرحمٰن ثالث نے یہاں خلافت قائم کی۔ عبدالرحمٰن اول نے خود خلیفہ کا لقب اختیار نہیں کیا بلکہ امیر کہلائے۔ یونیسکو کے مطابق آٹھویں سے دسویں صدی تک قرطبہ مغربی دنیا کا سب سے بڑا شہری اور ثقافتی مرکز تھا۔

انتظام

برٹانیکا کے مطابق جب عبدالرحمٰن کی کامیابی کی خبر مشرق تک پہنچی تو وہ لوگ جو پہلے اموی انتظامیہ میں کام کر چکے تھے، اسپین آ کر ان کے ساتھ شامل ہو گئے، اور یوں ان کا انتظامی نظام اسی طرز کا بن گیا جو پہلے دمشق میں رائج تھا۔ انہوں نے اہم عہدوں پر اپنے خاندان کے افراد کو مقرر کیا اور ایک باقاعدہ فوج اور سرکاری عملہ تیار کیا۔

لین پول نے اندلس کے مورخ ابن حیان کے حوالے سے ان کا جو خاکہ دیا ہے، اس کے مطابق وہ خوش بیان اور تیز فہم تھے، فیصلہ کرنے میں دیر لگاتے تھے مگر فیصلہ کر لینے کے بعد اس پر ثابت قدمی سے عمل کرتے تھے۔ وہ حکومت کا کام کسی اور کے سپرد کرنے کے بجائے خود چلاتے تھے، البتہ مشکل معاملات میں تجربہ کار اور دانا لوگوں سے مشورہ ضرور کرتے تھے۔ لین پول کے مطابق عباسی خلیفہ منصور بھی ان کی ہمت اور تدبیر کے معترف تھے اور انہیں "صقرِ قریش"، یعنی قریش کا شاہین، کہتے تھے۔

قرطبہ کی جامع مسجد

عبدالرحمٰن کا سب سے بڑا تعمیری کام قرطبہ کی جامع مسجد کا آغاز تھا۔ اس کے سالِ آغاز کے بارے میں مآخذ میں معمولی فرق ہے: یونیسکو اسے تقریباً 785ء بتاتا ہے، عام طور پر 785ء۔786ء کا سال لیا جاتا ہے، اور لین پول 784ء لکھتے ہیں۔ لین پول کے مطابق عبدالرحمٰن نے اس پر سونے کے اسّی ہزار سکے خرچ کیے، اور ان کے بیٹے ہشام اول نے 793ء میں اس کا پہلا حصہ مکمل کیا۔

یونیسکو کے مطابق اس عمارت میں قدیم رومی اور اس کے بعد کے دور کے ستون دوبارہ استعمال کیے گئے، جو اس کی تعمیر کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ بعد میں تین صدیوں تک اس میں مسلسل توسیع ہوتی رہی، اور ہر حکمران نے اس میں کوئی نیا حصہ یا آرائش شامل کی۔ یونیسکو کے مطابق اس کی وسعت اور اندرونی چھتوں کی غیر معمولی بلندی اسے ایک منفرد فنی کارنامہ بناتی ہے، اور یہ عمارت آٹھویں صدی سے مغرب کے اسلامی فنِ تعمیر پر گہرا اثر ڈالتی رہی، یہاں تک کہ انیسویں صدی کے "نیو موریش" طرزِ تعمیر میں بھی اس کی جھلک ملتی ہے۔

لین پول لکھتے ہیں کہ آج بھی یہاں آنے والے مسافر ستونوں کے اس "جنگل" میں حیران کھڑے رہ جاتے ہیں، جو ہر طرف نہ ختم ہونے والی قطاروں میں پھیلا ہوا ہے، اور اس کا صحن آج بھی نارنگی کے درختوں سے سرسبز ہے۔ یونیسکو کے مطابق اسے 1984ء میں عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا، اور 1994ء میں اس فہرست میں قرطبہ کا تاریخی مرکز، رومی پل اور دریا کا کنارہ بھی شامل کر لیے گئے۔

باغ اور شام کی یاد

لین پول، مورخ المقری کے حوالے سے، لکھتے ہیں کہ عبدالرحمٰن نے قرطبہ میں ایک باغ لگوایا جو ان کے دادا ہشام کے شام والے باغ کی طرز پر تھا، جہاں انہوں نے بچپن گزارا تھا۔ انہوں نے شام سے کھجور کا ایک درخت منگوا کر اس باغ میں لگایا، اور اس پر ایک مختصر نظم کہی جس میں درخت کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ بھی ان کی طرح اپنے وطن اور اپنوں سے دور ایک اجنبی زمین میں اُگا ہے۔

لین پول کے مطابق عبدالرحمٰن نے نایاب درخت، پودے اور بیج لانے کے لیے دور دور تک لوگ بھیجے، اور ان کے مالیوں کی مہارت سے یہ غیر ملکی پودے جلد ہی یہاں کی آب و ہوا میں پنپ گئے اور شاہی باغ سے نکل کر پورے ملک میں پھیل گئے۔ انار بھی اسی طرح دمشق سے لائے گئے ایک پودے کے ذریعے اندلس پہنچا۔

وفات

عبدالرحمٰن کا انتقال 788ء میں قرطبہ میں ہوا۔ لین پول کے مطابق انہوں نے بتیس برس حکومت کی، اور ان کے بعد ان کے بیٹے ہشام اول تیس برس کی عمر میں امیر بنے۔

ورثہ

لین پول کے مطابق عبدالرحمٰن کا قائم کیا ہوا خاندان تقریباً تین صدیوں تک قرطبہ پر حکمران رہا۔ یونیسکو کے مطابق 929ء سے 1031ء تک قرطبہ خلافت کا مرکز رہا، اور کہا جاتا ہے کہ اس دور میں شہر میں تین سو مساجد اور بے شمار محل اور سرکاری عمارتیں تھیں، جو قسطنطنیہ، دمشق اور بغداد کی ہمسری کرتی تھیں۔

ان کی سب سے بڑی یادگار قرطبہ کی جامع مسجد ہے، جو بارہ صدیوں سے زیادہ گزرنے کے بعد بھی کھڑی ہے، اور دمشق سے آنے والے اس شہزادے کی یاد دلاتی ہے جس نے شام کے فنِ تعمیر اور باغبانی کی روایت کو اندلس تک پہنچایا۔

ماخذ

  1. Britannica Editors, "ʿAbd al-Raḥmān I", Encyclopaedia Britannica, 31 Jan. 2024. https://www.britannica.com/biography/Abd-al-Rahman-I
  2. UNESCO World Heritage Centre, "Historic Centre of Cordoba" (no. 313). https://whc.unesco.org/en/list/313/
  3. Stanley Lane-Poole (with Arthur Gilman), The Moors in Spain, T. Fisher Unwin, London, 1887 (chapters on Abd-er-Rahman I and "The City of the Khalif"). https://archive.org/details/moorsinspain00laneuoft
  4. Wikipedia, "Abd al-Rahman I" (pointer only: birth year 731, death 30 September 788, start of rule May 756, mosque begun 785–786 / AH 169, family members in high office). https://en.wikipedia.org/wiki/Abd_al-Rahman_I

حکمران اور سلاطین: تمام تحریریں ←