رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید

غیاث الدین بلبن: نائبِ سلطنت سے سلطان تک

تیرہویں صدی کی سلطنتِ دہلی میں ایک شخص تقریباً چالیس برس تک اقتدار کے مرکز میں رہا: پہلے بیس برس سلطان ناصر الدین محمود کے نائب کی حیثیت سے، اور پھر 1266ء سے 1287ء تک خود سلطان کی حیثیت سے۔…

غیاث الدین بلبن: نائبِ سلطنت سے سلطان تک
علامتی تصویر

تیرہویں صدی کی سلطنتِ دہلی میں ایک شخص تقریباً چالیس برس تک اقتدار کے مرکز میں رہا: پہلے بیس برس سلطان ناصر الدین محمود کے نائب کی حیثیت سے، اور پھر 1266ء سے 1287ء تک خود سلطان کی حیثیت سے۔ یہ غیاث الدین بلبن (Ghiyas ud-Din Balban) تھے۔ برٹانیکا کے مطابق ان کے دور میں دہلی سلطنت کو تقریباً چالیس برس کا استحکام ملا۔

ابتدائی زندگی

برطانوی مورخ اسٹینلے لین پول (Stanley Lane-Poole) کے مطابق بلبن ترک تھے اور التتمش ہی کے علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا خاندان ترکستان میں ایک قبیلے کا سردار تھا، اور ان کے والد دس ہزار خیموں والے قبیلے کے حاکم تھے۔ بچپن میں وہ پکڑ کر ہندوستان لائے گئے، جہاں انہیں سلطان التتمش نے خرید لیا۔ ان کا ابتدائی نام بہاء الدین بتایا جاتا ہے۔

لین پول کے مطابق ابتدا میں انہیں پانی بھرنے والوں (بہشتیوں) میں رکھا گیا، مگر جلد ہی انہوں نے اپنی صلاحیت ثابت کی، ترقی کرتے گئے اور التتمش کے مشہور "چالیس" (چہلگانی) غلام امرا کے گروہ میں شامل ہو گئے۔

ترقی کا سفر

لین پول کے مطابق رضیہ سلطانہ کے دور میں بلبن شاہی شکار کے نگران (امیرِ شکار) تھے۔ بعد میں انہیں ہانسی کی حکومت ملی، جہاں لین پول کے الفاظ میں وہ ایک بہتری لانے والے اور منصف حاکم ثابت ہوئے۔ 1243ء میں وہ امیرِ حاجب (شاہی حاجب) بنے۔ شمال مغربی سرحد پر منگول حملوں کے مقابلے میں ان کی کوششوں پر انہیں "الغ خان" یعنی "بڑا سردار" کا خطاب ملا۔

بیس برس کی نیابت

برٹانیکا کے مطابق 1246ء تک بلبن، جو "چالیس" کے ایک نسبتاً جونیئر رکن تھے، اتنا اثر حاصل کر چکے تھے کہ نئے سلطان ناصر الدین محمود (1246ء–1266ء) کی حکومت میں انتظام ان کے ہاتھ میں آ گیا، اور وہ سلطان کے نائب بنے۔ لین پول کے مطابق ناصر الدین محمود ایک نرم مزاج اور علم دوست شخص تھے جو نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے، جبکہ سلطنت کا عملی کام بلبن چلاتے تھے۔

لین پول کے مطابق 1253ء میں درباری حریفوں نے بلبن کو دربار سے نکلوا دیا، مگر امرا کے دباؤ پر اگلے ہی سال، 1254ء میں، انہیں تمام اعزازات کے ساتھ واپس بلا لیا گیا۔ اس دور کے دو بڑے کام، لین پول کے مطابق، یہ تھے: سرحدی صوبوں اور قبائل کی تنظیم، جو بلبن کے چچا زاد شیر خان کے سپرد تھی، اور اندرونی بغاوتوں پر قابو۔

سلطان کی حیثیت

1266ء میں ناصر الدین محمود کا انتقال ہوا اور بلبن خود سلطان بن گئے۔ لین پول کے مطابق حکومت کا انداز وہی رہا، مگر اب اس میں پہلے سے زیادہ سختی آ گئی۔

سڑکوں کی حفاظت

بلبن کے دور کا ایک نمایاں کام راستوں کو محفوظ بنانا تھا۔ لین پول کے مطابق اس وقت دہلی کے مضافات تک ڈاکوؤں کے حملے ہوتے تھے، یہاں تک کہ شہر کے لیے پانی بھرنے والے بھی محفوظ نہیں تھے۔ بلبن نے دہلی کے آس پاس کے جنگل کٹوائے، شورش زدہ علاقوں میں قلعے بنوائے اور سڑکوں پر چوکیوں میں فوجی دستے بٹھائے۔ جنگلوں سے راستے نکالنے کے لیے لکڑہارے بھیجے گئے۔

لین پول نے اس دور کے مورخ ضیاء الدین برنی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ "اس کے بعد ساٹھ برس گزر چکے ہیں، مگر راستے آج تک ڈاکوؤں سے محفوظ ہیں۔" برنی اس دور کا بنیادی ماخذ ہیں۔

فوج اور سرحد

لین پول کے مطابق بلبن کی سب سے بڑی فکر منگول حملوں کا خطرہ تھا۔ اسی لیے انہوں نے اپنی فوج کو اعلیٰ درجے کی تنظیم اور تربیت دی، دارالحکومت کے قریب رہے اور دور کی مہمات سے گریز کیا۔ برٹانیکا کے مطابق اس پورے دور میں دہلی منگولوں کے مقابلے میں دفاعی پوزیشن پر رہی۔

انہوں نے بڑے جاگیردار امرا کی اس کوشش کو بھی روکا کہ ان کی جاگیریں موروثی بن جائیں۔ لین پول کے مطابق اس طرح ترک امرا کی پرانی طاقت کم ہو گئی اور سلطان کا اختیار مضبوط ہوا۔

دربار کے آداب

بلبن بادشاہ کے رعب اور وقار پر بہت زور دیتے تھے۔ لین پول کے مطابق ان کا دربار شان و شوکت والا اور آداب کا سخت پابند تھا، اور لوگ دور دور سے یہ شان دیکھنے آتے تھے۔ ان کے ذاتی ملازم بھی انہیں کبھی پورے سرکاری لباس کے بغیر نہیں دیکھتے تھے۔ وہ دربار میں کبھی اونچی آواز میں نہیں ہنستے تھے اور اپنی موجودگی میں ہلکی پھلکی گفتگو کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ عام طور پر بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے ایرانی طرز کے درباری آداب اور نوروز کا تہوار بھی دربار میں رائج کیا۔

علم و ادب

بلبن کے دور کے ادب سے ایک بڑا نام جڑا ہے۔ لین پول کے مطابق فارسی کے مشہور شاعر امیر خسرو بلبن کے بڑے بیٹے شہزادہ محمد کی سرپرستی میں ان کے دربار سے وابستہ تھے، جنہیں لین پول ایک "مہذب اور باذوق" شہزادہ قرار دیتا ہے۔ شہزادہ محمد 1285ء میں دیپالپور کے قریب منگولوں سے لڑائی میں مارے گئے، اور لین پول کے مطابق اس صدمے نے بوڑھے سلطان کو توڑ دیا۔

وفات

لین پول کے مطابق بلبن کا انتقال 1287ء میں ہوا، جب انہیں اقتدار میں چالیس برس ہو چکے تھے، آدھے بطور وزیر اور آدھے بطور بادشاہ۔ عام طور پر ان کی تاریخِ وفات 13 جنوری 1287ء بتائی جاتی ہے۔ ان کا مقبرہ دہلی میں مہرولی کے آثارِ قدیمہ پارک میں ہے۔

لین پول کے مطابق ان کا دوسرا بیٹا بغرا خان بنگال کا حاکم تھا، اور اس کی اولاد نے نصف صدی سے زیادہ بنگال پر حکومت کی، جبکہ دہلی میں بلبن کا خاندان ان کی وفات کے بعد تین برس بھی قائم نہ رہ سکا۔

ورثہ

لین پول بلبن کو دہلی کے بادشاہوں میں سب سے نمایاں شخصیات میں سے ایک قرار دیتا ہے: پانی بھرنے والا غلام، شکار کا نگران، سپہ سالار، وزیر اور آخرکار سلطان۔ ان کے دور کی محفوظ سڑکیں، منظم فوج اور مضبوط مرکزی حکومت بعد میں آنے والے خلجی سلاطین کے لیے بنیاد بنی۔

ماخذ

  1. Stanley Lane-Poole, Mediaeval India under Mohammedan Rule (A.D. 712–1764), G. P. Putnam's Sons, New York, and T. Fisher Unwin, London, 1903 (The Story of the Nations), ch. IV. https://archive.org/details/cu31924024066668
  2. Encyclopaedia Britannica, "Ghiyāth al-Dīn Balban" and "India: the Delhi sultanate". https://www.britannica.com/biography/Ghiyath-al-Din-Balban
  3. Encyclopaedia Britannica, "India: The Khaljīs" (the succession after Balban). https://www.britannica.com/place/India/The-Khaljis
  4. Wikipedia, "Ghiyas ud din Balban" (pointer only: birth name, date of death, tomb at Mehrauli, Nowruz). https://en.wikipedia.org/wiki/Ghiyas_ud_din_Balban

حکمران اور سلاطین: تمام تحریریں ←