سراوان، جھالاوان اور قبائلی وفاق: نصیر خان کا نظامِ حکومت
پچھلے باب میں ہم نے دیکھا کہ 1758ء میں احمد شاہ ابدالی کا قلات کا محاصرہ ایک معاہدے پر ختم ہوا اور میر نصیر خان اپنی ریاست میں واپس اپنے معاملات کی طرف لوٹ آئے۔ اس باب میں ہم میدانِ…

پچھلے باب میں ہم نے دیکھا کہ 1758ء میں احمد شاہ ابدالی کا قلات کا محاصرہ ایک معاہدے پر ختم ہوا اور میر نصیر خان اپنی ریاست میں واپس اپنے معاملات کی طرف لوٹ آئے۔ اس باب میں ہم میدانِ جنگ سے ہٹ کر اندر جھانکیں گے: یہ ریاست چلتی کیسے تھی؟ خان کس کے ذریعے حکم دیتے تھے، سپاہی کہاں سے آتے تھے، اور خزانہ کس زمین سے بھرتا تھا؟ نصیر خان کے دور کا، جو گزیٹیئروں کے مطابق 1749ء یا 1750-51ء سے 1793-94ء تک اور ہنٹر اور برٹانیکا (1911ء) کے مطابق جون 1795ء تک رہا، کوئی سرکاری رجسٹر ہم تک نہیں پہنچا؛ یہ تصویر زیادہ تر بعد کے برطانوی گزیٹیئروں، سیاحوں اور جدید محققین سے بنتی ہے۔
دو صوبے، دو سردار
باب 20 میں ذکر آیا تھا کہ جھالاوان کے گزیٹیئر (1907ء) کے مطابق براہوی قبائل کے دو بڑے گروہ، سراوان یعنی "اوپر" یا شمال کے قبائل، اور جھالاوان یعنی "نیچے" یا جنوب کے قبائل، غالباً اٹھارھویں صدی کے شروع میں میر عبداللہ خان کے دور میں بنے۔ نصیر خان کے زمانے تک یہ تقسیم ریاست کا ڈھانچہ بن چکی تھی۔ 1908ء کا امپیریل گزیٹیئر ریاستِ قلات کے قبائل کو ایک "براہوی کنفیڈریسی" کہتا ہے جس کے سربراہ خانِ قلات تھے؛ ان قبائل کے علاوہ خان کا اپنا "اُلُس" یعنی پیروکار تھے، جو ان علاقوں کے کاشتکار تھے جہاں سے خان براہِ راست محصول وصول کرتے تھے۔ قبائل شمال میں سراوان اور جنوب میں جھالاوان میں بٹے تھے؛ سراوان کے موروثی سردار رئیسانی (Raisani) تھے۔
یونیورسٹی آف بلوچستان کے مجلے "بلوچستان ریویو" (2015ء) میں پرویز احمد، شازیہ جعفر اور عبدالناصر لکھتے ہیں کہ نصیر خان اول کے دور میں سراوان اور جھالاوان کے دو بڑے صوبوں پر "سرداری" یا اعلیٰ سرداری کے دو منصب قائم تھے، اور یہ منصب سراوان کے لیے رئیسانی اور جھالاوان کے لیے زہری (Zehri) خاندان میں موروثی تھے۔ روزنامہ "ڈان" (2020ء) میں شائع ایک تجزیہ بھی یہی کہتا ہے کہ قلات دو اکائیوں میں بٹا تھا: سراوان رئیسانی سرداروں کے تحت اور جھالاوان زہری سرداروں کے تحت۔
مورخ رضوان زیب (Rizwan Zeb) نے "فرائیڈے ٹائمز" (2016ء) میں نصیر خان کی ریاست کو دو طرح کے علاقوں میں بانٹ کر بیان کیا ہے: ایک وہ علاقے جو براہِ راست قلات کے تھے اور جن پر خان اپنے "نائبوں" کے ذریعے حکومت کرتے تھے، اور دوسرے سراوان اور جھالاوان کے صوبے جو اپنے سرداروں کے ذریعے چلتے تھے۔
دربار میں دائیں اور بائیں
اس دوہرے نظام کی سب سے نمایاں علامت دربار کی نشست تھی۔ بلوچستان ریویو کے مضمون کے مطابق دربار میں سراوان کے سردار کی کرسی خان کے دائیں اور جھالاوان کے سردار کی بائیں جانب ہوتی تھی۔ "ڈان" میں 2015ء کے ایک خاکے اور رضوان زیب کے دوسرے مضمون میں بھی یہی ترتیب ملتی ہے؛ رضوان زیب کے مضمون کے مطابق برطانوی دور میں بھی دونوں سردار "پرانے دستور کے مطابق" خان کے دائیں اور بائیں بیٹھتے تھے۔
دربار ایک ایسی جگہ تھی جہاں خان اکیلا نہیں بیٹھتا تھا۔ رضوان زیب لکھتے ہیں کہ کوئی سردار اس وقت تک اپنے قبیلے کا جائز نمائندہ نہیں مانا جاتا تھا جب تک خان اسے "خلعت" نہ پہناتے۔ یعنی سرداری موروثی تھی، مگر اس پر مہر خان لگاتے تھے۔
لشکر: قبیلوں کا قرض
اس ریاست کی فوج زیادہ تر قبیلوں کی فوج تھی۔ بلوچستان ریویو کے مصنفین لکھتے ہیں کہ جاگیردارانہ طرز کا لشکر سراوان اور جھالاوان کے خاندانوں سے آتا تھا۔ رضوان زیب کے مطابق نصیر خان کا لشکر پچیس ہزار آدمیوں اور ایک ہزار اونٹوں پر مشتمل تھا اور تین حصوں میں بٹا تھا: "دستۂ خاص"، جو خان کے اپنے براہوی قبائلیوں پر مشتمل تھا اور جس کی تعداد وہ سترہ سو پچاس بتاتے ہیں؛ "دستۂ سراوان"؛ اور "دستۂ جھالاوان"۔ آخری دو دستے دونوں صوبوں کے سردار فراہم کرتے تھے۔ اسی مضمون کے مطابق قبائلی لشکر کا، جسے "غمی لشکر" کہا گیا ہے، بارھواں حصہ مستقل طور پر قلات میں رہتا تھا اور اس کا خرچ خان اٹھاتے تھے۔ یہ اعداد ایک ہی ماخذ سے ہیں اور ان کا اصل حوالہ ہم نہیں دیکھ سکے، اس لیے انہیں حتمی نہیں سمجھنا چاہیے۔
سراوان کے گزیٹیئر (1907ء) میں ایک الگ ضمیمہ اس فہرست پر ہے کہ سراوان کے براہوی قبائل کتنے "مسلح آدمی" فراہم کرتے تھے، اور ایک دوسرا ضمیمہ خالصہ یعنی سرکاری زمینوں کے محصول کی شرحوں پر؛ یہ فہرستیں بیسویں صدی کے آغاز کی صورتِ حال بتاتی ہیں۔
زمین کے بدلے سپاہی: کچھی
یہ گنتی زمین سے بندھی تھی۔ کچھی کے گزیٹیئر (1907ء) کے مطابق کچھی کے میدان میں کچھ قطعے میر محبت خان اور ان کے بھائی نصیر خان نے قبائلیوں میں اس شرط پر بانٹے کہ وہ خان کی بے قاعدہ فوج کے لیے مقررہ تعداد میں مسلح آدمی مہیا کریں گے۔ اسی گزیٹیئر کے مطابق محصول دینے والی بہت سی زمین خان کے براہِ راست قبضے میں رہی۔ رضوان زیب بھی لکھتے ہیں کہ جنگ کے وقت فوجی مدد کے وعدے کے بدلے سرداروں کو قابلِ کاشت زمین دی گئی۔
آمدنی: مستونگ، کوئٹہ اور کچھی
مستونگ کی آمدنی کی کہانی خانیت سے بھی پرانی ہے۔ سراوان کے گزیٹیئر کے مطابق "آئینِ اکبری" میں مستونگ ایک کچے قلعے والا مقام ہے جو سالانہ محصول دیتا اور سو سوار اور پانچ سو پیادوں کا دستہ فراہم کرتا تھا۔ گزیٹیئر یہ بھی لکھتا ہے کہ میر محبت خان نے مستونگ کی آمدنی اپنے دو بھائیوں کے گزارے کے لیے مقرر کی تھی، اور یہ کہ کوئٹہ، مستونگ، ہرند اور داجل کے علاقے احمد شاہ نے نصیر خان کو عطا کیے۔
نصیر خان کے دور کی آمدنی کا کوئی ہم عصر عدد ہمیں نہیں ملا۔ قریب ترین عدد ہنری پوٹنجر (Henry Pottinger) کا ہے، جو 1810ء میں، نصیر خان کی وفات کے تقریباً پندرہ سولہ برس بعد، قلات گئے۔ ان کے 1816ء کے سفرنامے کے مطابق ریاست کی آمدنی تقریباً ساڑھے چار لاکھ روپے تھی جو دکانوں، باغوں اور پیداوار پر محصول سے آتی تھی۔ رضوان زیب کے بقول پوٹنجر کا بیان خان کی مرکزی حیثیت اور خودمختاری پر زور دیتا ہے اور اس میں سرداروں کے مقام کا کوئی واضح ذکر نہیں۔
نائب اور وزیر
خان اپنے براہِ راست علاقوں میں نائبوں کے ذریعے حکومت کرتے تھے، اور رضوان زیب کے مطابق نصیر خان نے باقاعدہ انتظامی ڈھانچہ قائم کیا، ایک وزیرِ اعظم مقرر کیا اور سرداروں کی ایک کونسل بنائی۔ ان عہدوں کی مزید تفصیل ہم دستیاب ماخذ میں نہیں دیکھ سکے۔ "ڈان" کا تجزیہ بھی لکھتا ہے کہ نصیر خان نے ایک متحد فوجی اور انتظامی نظام قائم کیا۔
خان اور سردار: توازن
تو اس ریاست میں اصل طاقت کس کے پاس تھی؟ بلوچستان ریویو کے مصنفین کے مطابق خان سرداروں کے منتخب کردہ ہوتے تھے، اگرچہ انتخاب احمدزئی خاندان ہی کے افراد میں سے ہوتا تھا۔ ان کے بقول دونوں صوبوں کے سرداروں کو ریاست کے معاملات میں حقیقی اختیار حاصل تھا، مگر یہ اختیار انتظامی سے زیادہ مشاورتی تھا، جبکہ بیرونی معاملات میں خان کا اختیار تقریباً مطلق تھا۔ پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی کے مجلے میں ابن خلدون کے تصورِ "عصبیت" کی روشنی میں خانیت کا جائزہ لینے والے مضمون میں نوید رزاق اور رابعہ اسلام (2023ء) لکھتے ہیں کہ 1729ء سے 1893ء تک کے خانوں میں نصیر خان اول واحد خان تھے جنہوں نے اپنے سرداروں کو ایک بار بھی بغاوت کا موقع نہیں دیا؛ اسی جملے میں وہ اس کامیابی کو ان کے "دہشت کے راج" (reign of terror) سے جوڑتے ہیں۔
امریکی ماہرِ بشریات نینا سوئڈلر (Nina Swidler) نے 1992ء میں خانیت کو ایک ایسی "چیفڈم" کہا جس میں نسبی قبائلی اتحاد مرکزی طاقت کی مزاحمت بھی کرتے تھے اور اس سے سمجھوتہ بھی۔ نصیر خان کا نظام اسی سمجھوتے کی ایک شکل لگتا ہے: سرداری موروثی، مگر خلعت خان کی؛ لشکر قبیلوں کا، مگر اس کا ایک حصہ قلات میں خان کے خرچ پر؛ زمین سرداروں کو، مگر بدلے میں سپاہی؛ اور کچھی، مستونگ اور کوئٹہ کی آمدنی خان کے اپنے ہاتھ میں۔ یہ توازن ایک مضبوط حکمران کی موجودگی میں قائم رہا۔ نصیر خان کے بعد اس کا کیا بنا، یہ ہم آگے دیکھیں گے۔
اگلے اتوار: جام درک اور دربارِ قلات کی ادبی روایت، جہاں ہم اسی دربار کی شاعری اور اس کے سب سے مشہور شاعر سے ملیں گے۔
ماخذ
- Baluchistan District Gazetteer Series, vol. VI-B: Jhalawan, compiled by Rai Sahib Jamiat Rai, Bombay Education Society's Press, 1907 (Sarawan and Jhalawan divisions "probably formed … by Mir Abdulla in the early part of the 18th century"; recalled from chapter 20; reign of Nasir Khan I "1750-51 to 1793-94"). https://irrigation.sindh.gov.pk/files/Books//136.pdf · Combined scan of vols. VI, VI-A, VI-B: https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.22668
- Baluchistan District Gazetteer Series, vol. VI-A: Kachhi, 1907 (tracts in Kachhi distributed by Muhabbat Khan and Nasir Khan on condition of supplying men-at-arms for the Khan's irregular troops; revenue-paying land kept under the Khan's direct control). https://irrigation.sindh.gov.pk/files/Books//137.pdf
- Baluchistan District Gazetteer Series, vol. VI: Sarawan, 1907, in the combined volumes VI, VI-A and VI-B (Ain-i-Akbari on Mastung: revenue and a contingent of 100 horse and 500 foot; Mohabbat Khan's assignment of Mastung revenues to his brothers; Quetta, Mastung, Harrand and Dajal bestowed on Nasir Khan by Ahmad Shah; Appendix VII, men-at-arms supplied by the Brahui tribes in Sarawan; Appendix VIII, revenue rates in crown lands; reign "1750-1 to 1793-4"). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.22668
- Pervez Ahmed, Shazia Jaffar and Abdul Nasir, "The History of Kalat Affairs 1666 to 1871", Balochistan Review (Balochistan Study Centre, University of Balochistan) XXXIII/2 (2015), pp. 61–72 (hereditary Raisani and Zehri sardarships; chiefs' authority "more consultative than executive"; the Khan's near-absolute power in external affairs; seating in the durbar; Khans elected by the chiefs from the Ahmadzai family; feudal army from the Sarawan and Jhalawan families). https://uob.ac.pk/Journals/Balochistan-Review/data/BR%2002%202015/61-72%20The%20History%20of%20Kalat%20Affairs%201666%20to%201871,%20Pervez%20Ahmed.pdf
- Rizwan Zeb, "Khans and fractious chieftains", The Friday Times, Lahore, 22 July 2016 (two zones, direct rule through naibs; army of 25,000 men and 1,000 camels; dasta khas, dasta Sarawan, dasta Jhalawan; one twelfth of the ghami lashkar at Kalat; land for military support; prime minister and council of sardars; Pottinger's emphasis on the Khan). https://thefridaytimes.com/2016/07/22/khans-and-fractious-chieftains
- Rizwan Zeb, "The Raj and the Khan", The Friday Times, Lahore, 25 November 2016 (Sarawan and Jhalawan chiefs on the Khan's right and left "as of old"; a sardar legitimised only after investiture with the khilat by the Khan). https://www.thefridaytimes.com/25-Nov-2016/the-raj-and-the-khan
- "Baloch nationalism", Dawn, Karachi, 2020 (Sarawan under the Raisani and Jhalawan under the Zehri chiefs; Nasir Khan's unified military and administrative system). https://www.dawn.com/news/1570090
- "Profile: A sardar back in the saddle", Dawn, Karachi, 2015 (Sarawan chief on the Khan's right, Jhalawan chief on his left). https://www.dawn.com/news/1225893
- Naveed Razzaq and Rabia Islam, "Khanate of Kalat in the Light of Ibn Khaldun's Concept of Asabbiya (1731–1893)", Journal of the Pakistan Historical Society LXXI/2 (2023), p. 111 ff. ("the only Khan in the period from 1729-1893 who never gave a single chance of rebellion", the same sentence continuing "reign of terror"). https://phs.com.pk/index.php/phs/article/download/307/144
- Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, Superintendent of Government Printing, Calcutta, 1908, Kalat State (the tribes forming "the Brahui confederacy with the Khan of Kalat at its head", and "a distinct body … in the Khan's own ulus or following", cultivators of the lands from which the Khan collects revenue direct). https://archive.org/details/ImperialGazetteerOfIndiaBaluchistan
- Henry Pottinger, Travels in Beloochistan and Sinde, Longman, Hurst, Rees, Orme and Brown, London, 1816 (revenue of about four and a half lakhs of rupees, on shops, gardens and produce). https://books.google.com/books/about/Travels_in_Beloochistan_and_Sinde.html?id=7s0qAAAAMAAJ · https://archive.org/details/travelsinbelooc00pottgoog
- Nina Swidler, "Kalat: the political economy of a tribal chiefdom", American Ethnologist 19/3 (August 1992), pp. 553–570 (abstract only: descent-based alliances that both resisted and accommodated central power). DOI: 10.1525/ae.1992.19.3.02a00080. https://anthrosource.onlinelibrary.wiley.com/doi/10.1525/ae.1992.19.3.02a00080 (paywalled)
- For the alternative death date of June 1795: W. W. Hunter, The Imperial Gazetteer of India, 2nd ed., vol. II, London, 1885, p. 41, "Baluchistan"; and "Baluchistan (India)", Encyclopædia Britannica, 11th ed., 1911, https://en.wikisource.org/wiki/1911_Encyclop%C3%A6dia_Britannica/Baluchistan_(India) (see chapter 21).







