رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
باب 29 حصہ چہارم: برطانوی دور

معاہدات کا دور: 1841، 1854، 1876

پچھلے باب میں ہم نے 1839ء میں قلات کا سقوط اور میر محراب خان کی موت دیکھی۔ اس کے بعد قلات اور برطانوی حکومت کے تعلقات کاغذ پر لکھے گئے معاہدوں کے ذریعے طے ہوئے۔ ان میں تین معاہدے سب…

معاہدات کا دور: 1841، 1854، 1876
علامتی تصویر

پچھلے باب میں ہم نے 1839ء میں قلات کا سقوط اور میر محراب خان کی موت دیکھی۔ اس کے بعد قلات اور برطانوی حکومت کے تعلقات کاغذ پر لکھے گئے معاہدوں کے ذریعے طے ہوئے۔ ان میں تین معاہدے سب سے اہم ہیں: 1841ء، 1854ء اور 1876ء کے۔ یہ معاہدے بعد میں سی۔ یو۔ ایچی سن (C. U. Aitchison) کے مرتب کردہ "کلیکشن آف ٹریٹیز، انگیجمنٹس اینڈ سندز" کی بلوچستان والی جلد (جلد یازدہم) میں چھپے۔

1841ء: میر نصیر خان دوم اور شاہ شجاع کی بالادستی

1911ء کے "انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا" کے مطابق میر محراب خان کے قتل کے بعد ان کے کم سن بیٹے میر نصیر خان دوم کو انگریزوں نے قلات کا خان تسلیم کر لیا اور کچھ ہی عرصے بعد علاقہ خالی کر دیا۔ "اسٹیٹس مینز ایئر بُک" (1899ء) بھی یہی لکھتی ہے کہ نصیر خان کو 1841ء میں برطانوی حکومت نے تسلیم کیا۔ برٹانیکا کے بقول اس سال کا معاہدہ میجر جیمز آؤٹرم (James Outram) اور نصیر خان دوم کے درمیان طے پایا۔

1907ء کے سراوان گزیٹیئر کے مطابق اکتوبر 1841ء میں آؤٹرم نے نصیر خان کو قلات کی مسند پر بٹھایا، سراوان اور کچھ گنداوہ کے اضلاع انہیں واپس کیے گئے، اور 6 اکتوبر 1841ء کو ان سے معاہدہ ہوا۔ شرائط کی مزید تفصیل پاکستانی تحقیقی مجلوں میں ہے۔ قرطبہ یونیورسٹی کے مجلے "دی ڈائیلاگ" میں شائع ایک مضمون کے مطابق خان نے قلات کو افغان بادشاہ شاہ شجاع کی باج گزار ریاست مان لیا، اور اس کے بدلے سراوان اور کچھ گنداوہ کے وہ علاقے لوٹا دیے گئے جو 1839ء میں قلات سے لے کر افغان سلطنت کو دیے گئے تھے۔ "پاکستان لینگویجز اینڈ ہیومینیٹیز ریویو" کے ایک مضمون کے مطابق اس معاہدے کی رو سے برطانوی یا افغان فوج قلات میں کہیں بھی رکھی جا سکتی تھی، اور اسی مضمون میں شال (کوئٹہ) کو بھی واپس ملنے والے اضلاع میں گنا گیا ہے۔ کون سے علاقے لوٹائے گئے، اس پر ماخذ ایک زبان نہیں۔ "دی ڈائیلاگ" کے مضمون کے مطابق 1842ء میں شاہ شجاع کی موت اور افغان مہم کی ناکامی کے بعد یہ بندوبست عملاً ختم ہو گیا۔

1854ء: جان جیکب اور "دائمی دوستی" کا معاہدہ

اگلے معاہدے کی تاریخ اور جگہ خود معاہدے کے متن سے طے ہوتی ہے۔ ایچی سن کے مجموعے (جلد یازدہم) میں درج متن کے مطابق اس پر میجر جان جیکب (John Jacob) اور میر نصیر خان نے 14 مئی 1854ء کو مستونگ میں دستخط کیے اور مہریں لگائیں۔ قطر ڈیجیٹل لائبریری میں محفوظ برطانوی ریکارڈ اور ہنٹر کا گزیٹیئر (1885ء) بھی یہی تاریخ دیتے ہیں۔ برٹش لائبریری کی فہرست میں اسے "دائمی دوستی کا معاہدہ" کہا گیا ہے جو جیکب نے اپریل 1854ء میں خان سے طے کیا؛ یہ غالباً مذاکرات کا مہینہ ہے۔ جیکب اس وقت سندھ کی سرحد پر برطانوی نمائندے تھے۔

شرائط کے بارے میں برٹانیکا (1911ء) کا خلاصہ یہ ہے کہ 1841ء کا معاہدہ منسوخ کیا گیا؛ نصیر خان دوم اور ان کے وارثوں نے وعدہ کیا کہ وہ برطانوی حکومت کے ہر دشمن کی مخالفت کریں گے اور اس کی رضامندی کے بغیر کسی دوسری ریاست سے بات چیت نہیں کریں گے۔ اس کے بدلے خان کو پچاس ہزار روپے سالانہ امداد ملنی تھی۔ سراوان گزیٹیئر (1907ء) اور ہنٹر کے گزیٹیئر کے مطابق یہ امداد اس شرط سے مشروط تھی کہ خان راہداری محصول کو ایک یکساں شرح پر لائیں گے، برطانوی علاقے میں یا اس کے قریب زیادتیوں کو روکیں گے، اور تاجروں کی حفاظت کریں گے اور تجارت پر کوئی ناجائز وصولی نہیں ہونے دیں گے۔ سراوان گزیٹیئر کے مطابق خان نے یہ بھی مانا کہ برطانوی فوج ان کے علاقے میں ان مقامات پر رہ سکے گی جنہیں برطانوی حکام مناسب سمجھیں۔ ایچی سن میں قلات کا تاریخی بیان بھی فوج والی شق اور پچاس ہزار کی امداد کی شرائط کی تصدیق کرتا ہے۔

میر خدا داد خان کے ابتدائی برس

سراوان گزیٹیئر (1907ء) کے مطابق نصیر خان دوم کا 1857ء میں انتقال ہوا یا انہیں زہر دیا گیا؛ 1908ء کا امپیریل گزیٹیئر بھی 1857ء دیتا ہے، جبکہ 1911ء کا برٹانیکا 1856ء لکھتا ہے۔ سراوان گزیٹیئر کے مطابق ان کے سوتیلے بھائی خدا داد خان، جو اس وقت سولہ برس کے تھے، سرداروں کے انتخاب سے خان بنے، مگر جلد ہی ان سے ان کا جھگڑا شروع ہو گیا۔

1863ء میں سرداروں کی بغاوت کے نتیجے میں خدا داد خان کو قلات چھوڑنا پڑا اور سرداروں نے ان کے چچا زاد شیر دل خان کو خان بنا دیا۔ 1908ء کے امپیریل گزیٹیئر کے مطابق شیر دل خان کا دور مارچ 1863ء سے مئی 1864ء تک رہا؛ پھر وہ قتل ہوئے اور خدا داد خان دوبارہ خان بنے۔ "بلوچستان ٹائمز" کے مطابق اس کے بعد بھی سرداروں سے کشمکش جاری رہی، اور اسی پس منظر میں رابرٹ سنڈیمن (Robert Sandeman) قلات پہنچے۔

1876ء: مستونگ کا تصفیہ اور جیکب آباد کا معاہدہ

ماخذ کے مطابق سنڈیمن کا پہلا مشن (1875ء) پوری طرح کامیاب نہیں ہوا۔ اس کے بعد مستونگ میں ایک دربار ہوا جس میں خان اور ان کے مخالف سردار شریک ہوئے اور سنڈیمن ثالث بنے۔ قطر ڈیجیٹل لائبریری کی ایک برطانوی دستاویز اسے "مستونگ کنونشن" کہتی ہے اور یہ بھی لکھتی ہے کہ بعض قبائل کے سردار سنڈیمن کے ساتھ قلات تو گئے مگر اس کنونشن کے فریق نہیں تھے۔ اکثر ماخذ اس تصفیے کو 1876ء کا بتاتے ہیں، اور تھارنٹن کی سنڈیمن کی سوانح (1895ء) میں 13 جولائی کی تاریخ 1876ء کے واقعات میں آتی ہے۔ 1908ء کے امپیریل گزیٹیئر (ص 17) میں اس کی تاریخ "13 جولائی 1875ء" چھپی ہے، مگر خود گزیٹیئر کا بیان اسے 1875ء کے پہلے مشن کے "چند ماہ بعد" رکھتا ہے، اس لیے یہ گزیٹیئر کا سہو معلوم ہوتا ہے۔

اصل معاہدہ 8 دسمبر 1876ء کو جیکب آباد میں خان اور وائسرائے لارڈ لٹن (Lord Lytton) کے درمیان ہوا۔ "دی ڈائیلاگ" کے مضمون اور دیگر ثانوی ماخذ اس کی شرائط یوں بیان کرتے ہیں: 1854ء کے معاہدے کی تجدید ہوئی؛ خان کی درخواست پر برطانوی فوج ایسی جگہوں پر رکھی جا سکتی تھی جو برطانوی حکومت مناسب سمجھے؛ قلات میں ریلوے اور تار کی لائنیں بچھانے پر اتفاق ہوا؛ خان کے دربار میں ایک برطانوی ایجنٹ رہے گا؛ اور خان اور سرداروں کے جھگڑوں میں پہلے ایجنٹ صلح کرائے گا اور ناکامی کی صورت میں معاملہ برطانوی ثالثی میں جائے گا۔ سالانہ امداد بڑھا کر ایک لاکھ روپے کر دی گئی۔

1911ء کے برٹانیکا کے مطابق 1876ء کے معاہدے میں امداد ایک لاکھ روپے کی گئی اور سرداروں کو بھی تسلیم کیا گیا؛ گلوبل سکیورٹی کے بیان کے مطابق اس معاہدے نے 1854ء کی شرائط تو دہرائیں مگر عدم مداخلت کی پالیسی "یکسر بدل دی"، کیونکہ اس میں خان کے ساتھ سرداروں کو بھی تسلیم کیا گیا اور برطانوی حکومت ان کے درمیان ثالث بن گئی۔

اگلے اتوار: رابرٹ سنڈیمن اور "سنڈیمن نظام": 1876ء کے معاہدے کے بعد قبائلی بلوچستان کا انتظام کیسے چلایا گیا۔

ماخذ

  1. C. U. Aitchison (comp.), A Collection of Treaties, Engagements and Sanads relating to India and Neighbouring Countries, vol. XI (Baluchistan), revised ed., Government of India, Delhi, 1933 (texts of the 1841, 1854 and 1876 treaties; 1854 treaty "signed and sealed by Major John Jacob … and Meer Nusseer Khan … at Mustoong on the 14th May A.D. 1854"; Kalat narrative confirming the troops clause and the Rs 50,000 subsidy conditions). Scan: https://archive.org/details/acollectionoftreatiesengagementsandsanadsaitchisonc.u.vol11_83_O · Catalogue: https://catalog.hathitrust.org/Record/001755518
  2. "Baluchistan", Encyclopaedia Britannica, 11th edition, 1911, vol. 3, p. 313 (Nasir Khan II recognised in 1841; 1841 treaty by Major Outram; 1854 terms: 1841 treaty annulled, opposition to Britain's enemies, no negotiations without consent, Rs 50,000 subsidy). https://en.wikisource.org/wiki/Page:EB1911_-_Volume_03.djvu/313
  3. The Statesman's Year-Book 1899 (American edition), Macmillan, 1899, p. 511 (Nasir Khan II acknowledged by the British Government in 1841). https://en.wikisource.org/wiki/Page:Statesman's_Year-Book_1899_American_Edition.djvu/511
  4. Brian Spooner, "Baluchistan i. Geography, History and Ethnography", Encyclopaedia Iranica (1854 Rs 50,000 subsidy; Mastung settlement terms; Rs 100,000 in 1876; Iranica places the 1854 treaty at Khangarh, which the treaty text contradicts and the body does not use). https://www.iranicaonline.org/articles/baluchistan-i/
  5. "The British Occupation of Kalat: A Critical Appraisal of the Establishment of British Rule in Baluchistan", The Dialogue (Qurtuba University of Science and IT, Peshawar) (author and year to be confirmed) (1841 vassalage to Shah Shuja; return of Sarawan and Kach Gandava; revocation after 1842; 1854 annulled 1841; 1876 terms: troops, railway/telegraph, agent, arbitration, subsidy raised). https://journals.qurtuba.edu.pk/ojs/index.php/thedialogue/article/view/86126 · PDF: https://journals.qurtuba.edu.pk/ojs/index.php/thedialogue/article/download/86126/469/7682
  6. "A Historical Approach towards Baloch-British Contact", Pakistan Languages and Humanities Review (author and year to be confirmed) (1841: British or Afghan troops could be stationed in Kalat; Shal among the restored districts). https://ojs.plhr.org.pk/journal/article/download/292/211/416
  7. Javed Haider Syed, "The British Advent in Balochistan", Pakistan Journal of History and Culture (NIHCR, Islamabad) XXVIII/2 (July–December 2007) (background to the 1841 and 1876 treaties; Jacobabad, 8 December 1876). https://www.nihcr.edu.pk/Latest_English_Journal/The_British_Advent.pdf
  8. Qatar Digital Library, India Office Records, treaty collection record (1854 treaty dated 14 May 1854). https://www.qdl.qa/archive/81055/vdc_100023462215.0x0000ab
  9. Qatar Digital Library, "Papers Relating to John Jacob's Career in Sinde, to the Anglo-Persian War (1856–57), and Events in Kelat", f. 354v (Jacob deputed to conclude the treaty with Nasir Khan II). https://www.qdl.qa/en/archive/81055/vdc_100100861306.0x000073
  10. British Library, Search Archives, catalogue record 040-002311305 (treaty of perpetual friendship negotiated with the Khan by Jacob, April 1854). https://searcharchives.bl.uk/catalog/040-002311305
  11. GlobalSecurity.org, "Baluchistan Under the British" (1876 renewal "completely reversed" the policy of non-intervention; used only for that phrase, see points_to_verify). https://www.globalsecurity.org/military/world/pakistan/baloch-brits.htm
  12. Qatar Digital Library, India Office Records file (the "Mastung Convention"; sardars who went with Sandeman to Kalat but were not parties to it). https://www.qdl.qa/en/archive/81055/vdc_100080241541.0x00001e
  13. "Khodadad Khan and Sandeman: 'A second kernel in one almond'", Balochistan Times (1863 revolt and Sherdil Khan; continuing conflict with the sardars; Sandeman's missions). https://balochistantimes.com/khodada-khan-and-sandeman-a-second-kernel-in-one-almond/
  14. Baluchistan District Gazetteer Series, vol. VI: Sarawan, Times Press, Bombay, 1907, History, pp. 34–35 (Nasir Khan II installed by Outram in October 1841; "Sarawan and Kach Gandava … were restored to Nasir Khan"; treaty of 6 October 1841; 1854 terms: troops "to occupy such positions in his territory as might be thought advisable", Rs 50,000 subsidy on condition of uniform transit dues, preventing outrages and protecting merchants; Nasir Khan "died or was poisoned in 1857"; Khudadad Khan, half-brother, "a lad of sixteen", selected by the chiefs). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.22668
  15. Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, Calcutta, 1908 (Nasir Khan II's death in 1857; Sherdil Khan's rule "March, 1863, to May, 1864"; p. 17, the Mastung settlement printed as "July 13, 1875"). https://archive.org/details/ImperialGazetteerOfIndiaBaluchistan · W. W. Hunter, The Imperial Gazetteer of India, 2nd ed., vol. II, 1885, p. 41 (1854 treaty "executed on the 14th of May 1854"; subsidy conditions). · T. H. Thornton, Colonel Sir Robert Sandeman: His Life and Work on our Indian Frontier, John Murray, London, 1895 (the Mastung settlement of 13 July in the 1876 narrative). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.209278
  16. Wikipedia, "Treaty of Kalat" and "Baluchistan Agency" (pointers only: 8 December 1876 at Jacobabad with Lord Lytton; Mastung 1876; Agency 1877). https://en.wikipedia.org/wiki/Treaty_of_Kalat · https://en.wikipedia.org/wiki/Baluchistan_Agency

بلوچستان: تاریخ کا سفر: تمام تحریریں ←