رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید

جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا

میر تقی میرؔ کی غزل۔

جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا
علامتی تصویر

میر تقی میرؔ کی غزل۔

غزل

جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گاتو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا

میں وہ رونے والا جہاں سے چلا ہوںجسے ابر ہر سال روتا رہے گا

مجھے کام رونے سے اکثر ہے ناصحتو کب تک مرے منہ کو دھوتا رہے گا

بس اے گریہ آنکھیں تری کیا نہیں ہیںکہاں تک جہاں کو ڈبوتا رہے گا

مرے دل نے وہ نالہ پیدا کیا ہےجرس کے بھی جو ہوش کھوتا رہے گا

تو یوں گالیاں غیر کو شوق سے دےہمیں کچھ کہے گا تو ہوتا رہے گا

بس اے میرؔ مژگاں سے پونچھ آنسوؤں کوتو کب تک یہ موتی پروتا رہے گا

مشکل الفاظ

  • شور: یہاں: رونے کی بلند آواز
  • ہمسایہ: پڑوسی
  • ابر: بادل
  • ناصح: نصیحت کرنے والا
  • گریہ: رونا
  • نالہ: فریاد
  • جرس: کارواں کی گھنٹی
  • مژگاں: پلکیں
  • پروتا: دھاگے میں موتی ڈالتا

پس منظر

اس غزل کے مطلع اور مقطع دونوں میں میرؔ کا نام آیا ہے۔ پوری غزل میں رونے کا مضمون ہے: پڑوسی کی نیند، ہر سال برسنے والا بادل، پلکوں سے موتی پرونا۔ دوسرا شعر، "میں وہ رونے والا جہاں سے چلا ہوںجسے ابر ہر سال روتا رہے گا"، میں شاعر کہتا ہے کہ اس کے جانے کے بعد بادل ہر سال اس پر روئے گا۔ ریختہ پر اس غزل کی احمد محفوظ کی قرأت موجود ہے1۔

متن کا ماخذ: ریختہ پر شائع متن، لفظ بہ لفظ1۔

ماخذ

  1. ریختہ، میر تقی میرؔ: "جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا" (غزل کا متن)۔ https://www.rekhta.org/ghazals/jo-is-shor-se-miir-rotaa-rahegaa-mir-taqi-mir-ghazals?lang=ur
  2. ریختہ، میر تقی میرؔ: تعارف۔ https://www.rekhta.org/poets/meer-taqi-meer/profile?lang=ur
  3. کلیاتِ میر، archive.org (حوالے کے لیے)۔ https://archive.org/details/kulliyatimir
  4. ریختہ لغت (مشکل الفاظ کے معانی کے لیے)۔ https://www.rekhta.org/urdudictionary?lang=ur

کلام: تمام تحریریں ←