رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید

اب جو اک حسرت جوانی ہے

میر تقی میرؔ کی غزل۔

اب جو اک حسرت جوانی ہے
علامتی تصویر

میر تقی میرؔ کی غزل۔

غزل

اب جو اک حسرت جوانی ہےعمر رفتہ کی یہ نشانی ہے

رشک یوسف ہے آہ وقت عزیزعمر اک بار کاروانی ہے

گریہ ہر وقت کا نہیں بے ہیچدل میں کوئی غم نہانی ہے

ہم قفس زاد قیدی ہیں ورنہتا چمن ایک پرفشانی ہے

اس کی شمشیر تیز ہے ہمدممر رہیں گے جو زندگانی ہے

غم و رنج و الم نکو یاں سےسب تمہاری ہی مہربانی ہے

خاک تھی موجزن جہاں میں اورہم کو دھوکا یہ تھا کہ پانی ہے

یاں ہوئے میرؔ تم برابر خاکواں وہی ناز و سرگرانی ہے

مشکل الفاظ

  • حسرت: ادھوری آرزو، افسوس
  • عمرِ رفتہ: گزری ہوئی عمر
  • رشکِ یوسف: جس پر یوسفؑ کو بھی رشک آئے
  • وقتِ عزیز: قیمتی وقت
  • کاروانی: کارواں کا، مسافر
  • بے ہیچ: بے حقیقت؛ یہاں: بلا وجہ
  • غمِ نہانی: چھپا ہوا غم
  • قفس زاد: پنجرے میں پیدا ہونے والا
  • پَرفشانی: پر پھڑپھڑانا، اڑان
  • شمشیر: تلوار
  • ہمدم: ساتھی
  • الم: دکھ
  • نکو: مت، نہیں (پرانی صورت)
  • موجزن: لہریں مارتا ہوا
  • سرگرانی: ناراضی، بے رخی

پس منظر

مطلع جوانی کے گزر جانے پر ہے: اب جو جوانی کی حسرت رہ گئی ہے، وہی گزری عمر کی نشانی ہے۔ چوتھا شعر، "ہم قفس زاد قیدی ہیں ورنہتا چمن ایک پرفشانی ہے"، اس پرندے کی بات ہے جو پنجرے ہی میں پیدا ہوا اور نہیں جانتا کہ باغ تو بس ایک اڑان دور ہے۔ متن ریختہ کے صفحے سے ہے1۔

متن کا ماخذ: ریختہ پر شائع متن، لفظ بہ لفظ1۔

ماخذ

  1. ریختہ، میر تقی میرؔ: "اب جو اک حسرت جوانی ہے" (غزل کا متن)۔ https://www.rekhta.org/ghazals/ab-jo-ik-hasrat-e-javaanii-hai-mir-taqi-mir-ghazals?lang=ur
  2. ریختہ، میر تقی میرؔ: تعارف۔ https://www.rekhta.org/poets/meer-taqi-meer/profile?lang=ur
  3. کلیاتِ میر، archive.org (حوالے کے لیے)۔ https://archive.org/details/kulliyatimir
  4. ریختہ لغت (مشکل الفاظ کے معانی کے لیے)۔ https://www.rekhta.org/urdudictionary?lang=ur

کلام: تمام تحریریں ←