رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید

ایک نوجوان کے نام

«بالِ جبریل» (1935ء) کی یہ مختصر نظم ایک خوش حال مگر آرام طلب نوجوان سے خطاب ہے، جس کے گھر کے صوفے یورپ کے اور قالین ایران کے ہیں [1][2][3]۔ شاعر اسے یاد دلاتا ہے کہ اصل عزت سامان میں…

ایک نوجوان کے نام
علامتی تصویر

علامہ محمد اقبال · بالِ جبریل

پس منظر

«بالِ جبریل» (1935ء) کی یہ مختصر نظم ایک خوش حال مگر آرام طلب نوجوان سے خطاب ہے، جس کے گھر کے صوفے یورپ کے اور قالین ایران کے ہیں123۔ شاعر اسے یاد دلاتا ہے کہ اصل عزت سامان میں نہیں، بلند حوصلے اور بے نیازی میں ہے۔ «تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں» اسی نظم کا آخری مصرع ہے۔

کلام

ترے صوفے ہیں افرنگی ترے قالیں ہیں ایرانیلہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی

امارت کیا شکوہ خسروی بھی ہو تو کیا حاصلنہ زور حیدری تجھ میں نہ استغنائے سلمانی

نہ ڈھونڈ اس چیز کو تہذیب حاضر کی تجلی میںکہ پایا میں نے استغنا میں معراج مسلمانی

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میںنظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں

نہ ہو نومید نومیدی زوال علم و عرفاں ہےامید مرد مومن ہے خدا کے راز دانوں میں

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پرتو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

مشکل الفاظ

  • افرنگی: یورپی، فرنگیوں کا
  • تن آسانی: آرام طلبی، سستی
  • امارت: دولت مندی، امیری
  • شکوہِ خسروی: بادشاہوں جیسی شان
  • زورِ حیدری: حضرت علیؓ (حیدر) جیسی طاقت
  • استغنائے سلمانی: حضرت سلمان فارسیؓ جیسی بے نیازی
  • تہذیبِ حاضر: موجودہ (مغربی) تہذیب
  • تجلی: چمک دمک
  • معراج: بلندی کا آخری درجہ
  • عقابی روح: عقاب جیسا حوصلہ
  • نومید: مایوس
  • عرفاں: معرفت، پہچان
  • راز دانوں: بھید جاننے والوں
  • نشیمن: ٹھکانہ، گھونسلا
  • قصرِ سلطانی: شاہی محل
  • بسیرا: رات گزارنے کی جگہ، ٹھکانا

ماخذ

  1. Rekhta, «ایک نوجوان کے نام», Allama Iqbal: text, with note "(بالِ جبریل)". https://www.rekhta.org/nazms/ek-nau-javaan-ke-naam-tire-sofe-hain-afrangii-tire-qaaliin-hain-iiraanii-allama-iqbal-nazms?lang=ur
  2. International Iqbal Society, Kulliyat-e-Iqbal (Urdu), Bal-e-Jibril, Manzumat, «ایک نوجوان کے نام»: text used for comparison. https://iqbal.com.pk/poetical-works/906-poetical-works/kuliyat-e-iqbal-urdu/bal-e-jibril/bal-e-jibril-manzomaat/661-aik-naujawan-ke-naam.html
  3. International Iqbal Society, "Time Line": "1935: Published Bal-e-Jibril in Urdu". https://iqbal.com.pk/iqbal/time-line.html

کلام: تمام تحریریں ←