خانیتِ قلات کا قیام
پچھلے باب میں ہم نے ہمایوں کو شکست خوردہ حالت میں سبی، مستونگ اور قندھار کے راستے بلوچستان سے گزرتے دیکھا۔ اس باب سے ہماری کہانی کا تیسرا حصہ، "خانیتِ قلات"، شروع ہوتا ہے۔ سولہویں صدی میں قلات مغل اور…

پچھلے باب میں ہم نے ہمایوں کو شکست خوردہ حالت میں سبی، مستونگ اور قندھار کے راستے بلوچستان سے گزرتے دیکھا۔ اس باب سے ہماری کہانی کا تیسرا حصہ، "خانیتِ قلات"، شروع ہوتا ہے۔ سولہویں صدی میں قلات مغل اور صفوی سلطنتوں کے درمیان ایک دور افتادہ قصبہ تھا؛ سترھویں صدی کے آخر تک یہ ایک ایسی ریاست کا مرکز بن چکا تھا جو 1839ء میں انگریزوں کی آمد تک اپنے معاملات خود چلاتی رہی۔ یہ تبدیلی کیسے آئی، اس پر ہمارے پاس دو طرح کے ماخذ ہیں: ایک وہ قبائلی روایتیں جو انیسویں اور بیسویں صدی میں برطانوی افسروں اور سیاحوں نے قلم بند کیں، اور دوسرا وہ جدید تحقیق جس نے ان روایتوں کو پرکھا ہے۔ ہم دونوں کو الگ الگ پیش کریں گے۔
خانیت سے پہلے کا قلات: روایتیں
قلات کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں جو کچھ ہم جانتے ہیں وہ بیشتر روایت ہے، تاریخ نہیں۔ 1908ء میں شائع ہونے والے "امپیریل گزیٹیئر آف انڈیا" کی بلوچستان کی جلد، جسے آر۔ ہیوز بلر (R. Hughes-Buller) نے مرتب کیا، صاف لکھتی ہے کہ "تمام روایت" کے مطابق قلات کے پرانے حکمران ہندو تھے جن کا نام سیوا بتایا جاتا ہے۔ انگریز سیاح ہنری پوٹنجر کے مطابق ان کے زمانے میں بھی قصبہ اکثر "قلاتِ سیوا" کہلاتا تھا، اور ان کی سنی ہوئی روایت میں آخری راجہ سیوا کو کمبر نام کے ایک سردار نے معزول کیا۔ گزیٹیئر یہ بھی لکھتا ہے کہ میرواری، جن سے بعد میں احمدزئی خاندان نکلا، اپنا نسب عرب بتاتے ہیں۔ یہ سب باتیں گزیٹیئر میں روایت کے طور پر ہی درج ہیں، تاریخی واقعے کے طور پر نہیں۔
یہ روایتیں انگریز افسروں سے پہلے بھی قلم بند ہوئی تھیں۔ ہنری پوٹنجر (Henry Pottinger) نے 1810ء کے سفر کے بعد 1816ء میں "ٹریولز اِن بلوچستان اینڈ سندھ" لکھی، جس میں بلوچوں اور براہویوں اور قلات کی تاریخ پر الگ ابواب ہیں؛ اور چارلس میسن (Charles Masson)، جو 1826ء سے 1838ء تک اس خطے میں رہے، نے 1842ء میں اپنا سفرنامہ اور 1843ء میں ایک الگ جلد میں "مشرقی بلوچستان کا تذکرہ" شائع کیا۔ امپیریل گزیٹیئر کی کتابیات میں یہی تحریریں درج ہیں، اور گزیٹیئر کے مرتبین نے انہیں اور قبائلی بیانوں کو اپنی تاریخ کی بنیاد بنایا۔
مغل قندھار کا سایہ
ایک بات جس کی تائید مغل دستاویز سے ہوتی ہے وہ اس خطے کا قندھار سے تعلق ہے۔ کوئٹہ پشین اور سراوان کے گزیٹیئروں (1907ء) کے مطابق اکبر کے دور کی سرکاری کتاب "آئینِ اکبری" میں شال (آج کا کوئٹہ) اور مستونگ سولہویں صدی کے آخر میں قندھار کی سرکار کے مشرقی حصے میں شامل دکھائے گئے ہیں۔ "انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا" میں برائن سپونر (Brian Spooner) لکھتے ہیں کہ قلات کی واپسی اس وقت ممکن ہوئی جب قندھار میں مغل طاقت کمزور پڑی۔ ایرانیکا ہی کے مضمون "براہوی" میں جوزف ایلفن بائن (Josef Elfenbein) اس تعلق کو دوسرے رخ سے دیکھتے ہیں: اکبر کے دور سے مغرب میں مغل دلچسپی بڑھ رہی تھی اور قندھار کا گورنر جنوب کے بڑے علاقے پر حاکم تھا؛ شاہجہان کے دور میں مغل توسیع عروج پر پہنچی تو ان کے بقول اسی دباؤ کے نتیجے میں تاریخ میں پہلی بار ایک مضبوط اور منظم ریاست، "براہوی کنفیڈریسی" یا خانیتِ قلات، ابھری۔
میر حسن اور میر احمد خان: احمدزئی سلسلے کا آغاز
خانیت کے قیام کی روایت کو ایرانیکا یوں بیان کرتی ہے: مغل طاقت کے زوال پر براہوی سردار میر ابراہیم خان میرواری نے قلات واپس لے لیا، مگر خود حکومت کرنے سے انکار کیا اور خانی اپنے بہنوئی میر حسن کو سونپ دی۔ ایرانیکا میر حسن کو "بلوچوں کا پہلا خان" لکھتی ہے۔ میر حسن لاولد فوت ہوئے تو اقتدار میر احمد خان قمبرانی کو ملا، اور انہی کے نام سے احمدزئی خاندان کہلایا۔ بلوچستان کے ضلعی گزیٹیئر کی سراوان اور جھالاوان کی جلدیں (1907ء) یہ روایت کچھ مختلف سناتی ہیں: براہویوں نے قلات کے مغل حاکم کو نکالا اور میر ابراہیم خان میرواری سے، جو جھالاوان میں رہتے تھے، ایک بیٹا سردار کے طور پر مانگا؛ انہوں نے اپنے پوتے میر حسن کو بھیجا۔ سراوان کے گزیٹیئر کے مطابق میر حسن اور ان کے جانشینوں نے بارہ پشتوں تک قلات پر حکومت کی، یہاں تک کہ 1666-67ء میں میر احمد مسند پر بیٹھے، جنہوں نے مغل حاکم آغا جعفر کو شکست دے کر مستونگ لے لیا۔
یہاں ایک احتیاط ضروری ہے۔ 1666ء کی تاریخ پر بھی ماخذ متفق نہیں: ایلفن بائن میر احمد خان اول کو میرواری لکھتے ہیں اور ان کا دور تقریباً 1660ء سے 1695ء تک بتاتے ہیں؛ ان کے مطابق آخری خان کے سابق سیکرٹری یوسف گچکی نے 1666ء کو طباعت کی غلطی کہا تھا۔ ایلفن بائن یہ بھی لکھتے ہیں کہ تاریخ میں براہویوں کا پہلا یقینی ذکر سترھویں صدی کے مغل بیانات میں ملتا ہے، اور وہ بھی خانیتِ قلات کے حوالے سے۔ یعنی جس ریاست کا قیام ہم بیان کر رہے ہیں، وہی اس قوم کا تاریخ میں پہلا پکا نشان بھی ہے۔ امپیریل گزیٹیئر بھی "مستند تاریخ" کا آغاز میر احمد ہی سے کرتا ہے اور اس سے پہلے کی باتوں کو روایت مانتا ہے۔
سراوان اور جھالاوان: قبائل کا ڈھانچہ
خانیتِ قلات کوئی عام بادشاہت نہیں تھی۔ گزیٹیئر آف بلوچستان کی جھالاوان کی جلد (1907ء) کے مطابق براہوی اتحاد کے قبائل دو بڑے حصوں میں بٹے تھے: سراوان، یعنی "اوپر" یا شمال کے قبائل، اور جھالاوان، یعنی "نیچے" یا جنوب کے قبائل؛ "جھالاوان" بلوچی لفظ "جہل" سے نکلا ہے جس کا مطلب نیچے یا جنوب ہے۔ گزیٹیئر یہ بھی لکھتا ہے کہ یہ دونوں حصے اپنی موجودہ شکل میں غالباً اٹھارھویں صدی کے شروع میں میر عبداللہ خان کے دور میں بنے، یعنی خانیت کے قیام کے کوئی پچاس برس بعد۔ لانگ ورتھ ڈیمز (Longworth Dames) نے 1904ء میں "دی بلوچ ریس" میں لکھا کہ سراوان اور جھالاوان کے یہ گروہ مجموعی طور پر براہوی ہیں اور براہوی زبان بولتے ہیں۔
ایلفن بائن کے مطابق خانیت کی طاقت شروع ہی سے اتحادوں اور سرپرستی کے ایک پیچیدہ نظام پر قائم تھی، جس میں بڑے براہوی قبیلے (قمبرانی، میرواری اور اِلتازئی)، رند اور لاشاری بلوچ، اور دہوار کاشتکار شامل تھے۔ امپیریل گزیٹیئر لکھتا ہے کہ مغل طاقت کمزور ہوئی تو احمدزئی خانوں کا پہلا مسئلہ ریاست کی "ڈھیلی قبائلی تنظیم" میں باہمی ربط پیدا کرنا تھا، اور یہ کام ہر فتح کا ایک حصہ غریب پہاڑی قبائل میں بانٹ کر کیا گیا۔ اسی گزیٹیئر کا ایک باب "قلات ہمیشہ ایک ماتحت ریاست رہی" کے عنوان سے ہے: اس کے مطابق قلات کے حکمران کبھی پوری طرح خود مختار نہیں رہے، اور پہلے مغل بادشاہوں اور قندھار کے حکمرانوں کے احکام مانتے اور مانگنے پر سپاہی فراہم کرتے تھے۔ یعنی خان کی طاقت ایک طرف قبائل کے سرداروں سے اور دوسری طرف بڑی سلطنتوں سے بندھی ہوئی تھی۔
کیا بنا، کیا نہیں بنا
سترھویں صدی کے آخر تک قلات میں ایک ایسا سیاسی ڈھانچہ موجود تھا جس کے دو ستون تھے: احمدزئی خان، اور براہوی و بلوچ قبائل۔ تیسرا ستون، کچھی کے میدان کی آمدنی، ابھی باقی تھا۔ کچھی کے گزیٹیئر کے مطابق میر عبداللہ خان، جو سندھ کے نور محمد کلہوڑا کے ہم عصر تھے، نے اس میدان پر حملہ کیا جو اس وقت کلہوڑوں کی طرف سے چلایا جا رہا تھا۔ یہ لڑائیاں اگلے باب کا موضوع ہیں۔ خانیت کا "قیام" کوئی ایک دن یا ایک معرکہ نہیں؛ یہ روایتوں کی ایک تہہ ہے جس کے نیچے سے آہستہ آہستہ ایک ریاست ابھرتی ہے۔
اگلے اتوار: میر عبداللہ خان: کچھی کے میدان کی لڑائیاں اور خانیت کی پہلی توسیع۔
ماخذ
- Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, compiled by R. Hughes-Buller, Superintendent of Government Printing, Calcutta, 1908: p. 13 ("The rise of the Ahmadzais of Kalat": "All tradition asserts that the former rulers of Kalat were Hindus, Sewa by name"), p. 14 (the Mirwaris "claim Arab origin"; Mir Hasan; Mir Ahmad 1666-7; "Authentic history now begins"; "Kalat always a dependent State": "The rulers of Kalat were never fully independent"), p. 15 ("the loose tribal organization of the state"), p. 86 (bibliography: Pottinger 1816, Masson 1842 and 1843). https://archive.org/details/ImperialGazetteerOfIndiaBaluchistan/page/n27 (p. 13) · /page/n28 (p. 14) · /page/n29 (p. 15) · /page/n100 (p. 86)
- Baluchistan District Gazetteer Series, vol. VI-B: Jhalawan, Text and Appendices, Bombay Education Society's Press, Bombay, 1907: p. 1 (Jhalawan from jahl, a Baluchi word meaning "below, or to the south"; Sarawan "the above, or to the north"; the two divisions "probably formed into these units … by Mir Abdulla in the early part of the 18th century"), p. 38 (Mir Ibrahim Khan Mirwari sends his grandson Mir Hasan; Mir Ahmad I, 1666-67 to 1695-96). https://irrigation.sindh.gov.pk/files/Books//136.pdf · Combined scan of vol. VI (Sarawan, Kachhi, Jhalawan): https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.22668/page/n547 (Jhalawan p. 1) · /page/n584 (Jhalawan p. 38)
- Baluchistan District Gazetteer Series, vol. VI-A: Kachhi, Text and Appendices, Times Press, Bombay, 1907, p. 18 (Mir Abdulla "the contemporary of Nur Muhammad Kalhora"; invasion of Kachhi, then "governed for them" by the Kalhoras' naib). https://irrigation.sindh.gov.pk/files/Books//137.pdf · https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.22668/page/n340
- Baluchistan District Gazetteer Series, vol. V: Quetta-Pishin, R. Hughes-Buller and Jamiat Rai, Ajmer, 1907, p. 33 (Ain-i-Akbari: Shal and Pushang in the eastern division of the Kandahar sarkar). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.46886/page/n55
- Baluchistan District Gazetteer Series, vol. VI: Sarawan, Bombay, 1907, pp. 26–27 (Ain-i-Akbari: Mastung in the eastern division of the Kandahar sarkar; the Brahuis oust the Mughal governor of Kalat; Mir Hasan and his successors for twelve generations; Mir Ahmad 1666-7 defeats Agha Jafar and takes Mastung). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.22668/page/n48 (p. 26) · /page/n49 (p. 27)
- Brian Spooner, "Baluchistan i. Geography, History and Ethnography", Encyclopaedia Iranica III/6, pp. 598–632 (sections 6–7: Mir Ebrahim Khan Mirwari, Mir Hasan "the first 'khan of the Baloch'", Mir Ahmad Khan Qambarani; "the autonomous khanate, 1666-1839"; section 2: Sarawan and Jahlawan as divisions of "the largely Brahui-speaking confederation"). https://www.iranicaonline.org/articles/baluchistan-i/
- Josef Elfenbein, "Brahui", Encyclopaedia Iranica IV/4, pp. 433–443 (Brahui a Dravidian language, Baluchi "a genetically unrelated Iranian language"; Brahuis describe themselves as Baluch; the "Brahui problem", Bray 1934; first certain appearance of the Brahuis "in 17th-century Mughal notices on the Khanate of Kalat"; Mughal expansion and the "Brahui Confederacy"; Mir Ahmad Khan I, ca. 1660–95, and Gichki's "printing error"; alliances of the Qambarani, Mirwari and Iltazay, Rind and Lashari, and Dehwar). https://www.iranicaonline.org/articles/brahui/
- M. Longworth Dames, The Baloch Race: A Historical and Ethnological Sketch, Royal Asiatic Society Monographs IV, London, 1904, pp. 2–3 (Jahlawans and Sarawans "are Brahois, and make use of the Brahoi … language"; the names from the Balochi words jahla, below, and sara, above). https://archive.org/details/balochracehistor00damerich/page/n11
- Henry Pottinger, Travels in Beloochistan and Sinde, Longman, Hurst, Rees, Orme and Brown, London, 1816: chap. I (departure from Bombay, 2 January 1810); the chapter on the Belooches and Brahooes; "History of Beloochistan", chap. III, pp. 275–278 (history of Kelat: Kelat "very frequently spoken of as Kelate Sehwa"; Kumbur deposes the Rajah). https://archive.org/details/travelsinbelooc00pottgoog/page/n308 (p. 276)
- Charles Masson, Narrative of Various Journeys in Balochistan, Afghanistan and the Panjab, including a residence in those countries from 1826 to 1838, 3 vols., Richard Bentley, London, 1842. https://archive.org/details/dli.ministry.04704 · Charles Masson, Narrative of a Journey to Kalât, including an account of the insurrection at that place in 1840; and a memoir on Eastern Balochistan, Richard Bentley, London, 1843 (preface). https://archive.org/details/narrativeofjourn00mass







