جان کیبٹ: شمالی امریکہ کا ساحل
مئی 1497ء میں انگلستان کی بندرگاہ برسٹل (Bristol) سے ایک چھوٹا سا جہاز نکلا جس پر بیس کے قریب آدمی سوار تھے۔ اس کا کپتان ایک اطالوی سوداگر تھا جو وینس کا شہری تھا اور انگریزوں میں جان کیبٹ (John…

مئی 1497ء میں انگلستان کی بندرگاہ برسٹل (Bristol) سے ایک چھوٹا سا جہاز نکلا جس پر بیس کے قریب آدمی سوار تھے۔ اس کا کپتان ایک اطالوی سوداگر تھا جو وینس کا شہری تھا اور انگریزوں میں جان کیبٹ (John Cabot) کہلاتا تھا؛ اطالوی میں اس کا نام جووانی کابوتو (Giovanni Caboto) تھا۔ تقریباً پانچ ہفتے بعد اس جہاز کے ملاحوں نے بحرِ اوقیانوس کے پار ایک ساحل دیکھا جو آج شمالی امریکہ کا حصہ ہے۔ اس سفر کا کوئی روزنامچہ نہیں بچا، مگر اس زمانے کے چند خطوں نے اس کی کہانی محفوظ کر دی۔
وینس سے برسٹل تک
کینیڈین انسائیکلوپیڈیا میں محقق ڈگلس ہنٹر (Douglas Hunter) لکھتے ہیں کہ کیبٹ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت کم معلوم ہے۔ وہ غالباً 1450ء سے پہلے اٹلی میں پیدا ہوا اور 1476ء میں اسے وینس کی شہریت ملی۔ 1490ء کی دہائی کے شروع میں وہ اسپین میں بندرگاہوں کے تعمیراتی منصوبوں سے وابستہ رہا، اور 1496ء میں انگلستان میں نمودار ہوا۔
5 مارچ 1496ء کو انگلستان کے بادشاہ ہنری ہفتم (Henry VII) نے اسے ایک شاہی اجازت نامہ (letters patent) دیا۔ اس میں کیبٹ کے تین بیٹوں، لوئس، سیبیسٹین اور سانچو، کے نام بھی درج ہیں۔ انہیں پانچ جہازوں کے ساتھ مشرقی، مغربی اور شمالی سمندروں میں نامعلوم جزیرے اور ملک تلاش کرنے کی اجازت ملی، مگر خرچ اپنی جیب سے کرنا تھا۔ شرط یہ تھی کہ واپسی صرف برسٹل کی بندرگاہ پر ہو گی اور خرچ نکال کر منافع کا پانچواں حصہ بادشاہ کو ملے گا۔
ہنٹر کے مطابق کیبٹ نے 1496ء میں ہی برسٹل سے پہلی کوشش کی، مگر طوفانی موسم کی وجہ سے ناکام لوٹ آیا۔
"میتھیو" اور اس کا عملہ
دوسری کوشش مئی 1497ء میں "میتھیو" (Matthew) نامی جہاز پر ہوئی۔ نیو فاؤنڈ لینڈ اینڈ لیبریڈور ہیریٹیج ویب سائٹ کے مطابق یہ پچاس "تونیل" کا ایک چھوٹا جہاز تھا، یعنی اس میں تقریباً پچاس ٹن شراب یا دوسرا سامان لادا جا سکتا تھا۔ اس کے تین مستول تھے۔ اسی ویب سائٹ کے مطابق جہاز کا نام غالباً کیبٹ کی بیوی ماتیا (Mattea) کے نام پر رکھا گیا۔
عملے کی تعداد پر دو بیان ملتے ہیں: ایک خط میں بیس آدمی لکھے ہیں اور دوسرے میں اٹھارہ۔ ہیریٹیج ویب سائٹ کے مطابق جہاز پر کیبٹ کے ساتھ جینوا کا ایک جراح، برگنڈی کا ایک آدمی، برسٹل کے دو سوداگر اور برسٹل کے ملاح تھے۔
سمندر پار: جان ڈے کا خط
اس سفر کا سب سے مفصل بیان ایک خط ہے جو انگریز سوداگر جان ڈے (John Day) نے 1497ء اور 1498ء کی سردیوں میں اسپین کے ایک "لارڈ گرینڈ ایڈمرل" کو لکھا۔ یہ خط 1956ء میں اسپین کے سیمانکاس (Simancas) کے سرکاری دستاویز خانے میں ملا۔ جان ڈے لکھتا ہے کہ جہاز مئی کے آخر کے قریب انگلستان سے نکلا اور تقریباً پینتیس دن بعد زمین نظر آئی۔ ہیریٹیج ویب سائٹ کے مطابق زمین غالباً 24 جون 1497ء کو نظر آئی۔
خط کے مطابق کیبٹ نے خشکی پر صرف ایک جگہ قدم رکھا، اس مقام کے قریب جہاں زمین پہلی بار دکھائی دی تھی۔ وہاں ایسے اونچے درخت تھے جن سے جہازوں کے مستول بنتے ہیں، اور زمین گھاس سے بھری تھی۔ ملاحوں کو اندر جاتی ایک پگڈنڈی، آگ جلنے کی ایک جگہ، جانوروں کا گوبر اور آدھے گز کی ایک تراشی ہوئی رنگین لکڑی ملی، جس سے انہوں نے اندازہ لگایا کہ یہاں لوگ رہتے ہیں۔ کیبٹ کمان کے ایک تیر کی مار سے آگے اندر نہیں گیا، اور تازہ پانی لے کر جہاز پر لوٹ آیا۔
پھر جہاز ساحل کے ساتھ چلتا رہا۔ جان ڈے لکھتا ہے کہ پورے ساحل پر ایسی مچھلیاں بے شمار تھیں جنہیں آئس لینڈ میں کھلی ہوا میں سکھا کر انگلستان بیچا جاتا ہے اور جنہیں انگریزی میں "اسٹاک فش" کہتے ہیں۔ ایک جگہ ملاحوں نے کنارے پر دو شکلیں ایک دوسرے کے پیچھے دوڑتی دیکھیں مگر یہ نہ جان سکے کہ وہ انسان تھے یا جانور۔ تقریباً ایک مہینہ ساحل دیکھنے کے بعد وہ واپس مڑے اور پندرہ دن میں یورپ کے ساحل تک پہنچ گئے۔ ملاحوں نے کیبٹ کو یہ کہہ کر الجھا دیا کہ وہ بہت شمال کی طرف جا رہا ہے، اس لیے جہاز پہلے فرانس کے علاقے برٹنی (Brittany) جا لگا۔ ہیریٹیج ویب سائٹ کے مطابق کیبٹ 6 اگست کو برسٹل واپس پہنچا۔
لندن میں دھوم
وینس کے ایک تاجر لورینزو پاسکوالیگو (Lorenzo Pasqualigo) نے 23 اگست 1497ء کو لندن سے اپنے بھائیوں کو لکھا کہ برسٹل سے ایک چھوٹے جہاز میں جانے والا "ہمارا وینیشین" لوٹ آیا ہے اور کہتا ہے کہ اس نے سات سو فرسنگ دور ایک بڑی زمین دریافت کی ہے، جسے وہ "گرینڈ خان کا ملک" یعنی ایشیا سمجھتا ہے۔ اس نے تین سو فرسنگ تک ساحل دیکھا، کسی آدمی سے ملاقات نہیں ہوئی، مگر شکار پکڑنے کے پھندے اور جال بننے کی ایک سوئی ساتھ لایا۔ بادشاہ نے اگلی بہار کے لیے دس جہازوں کا وعدہ کیا، اور لوگ کیبٹ کو "گرینڈ ایڈمرل" کہنے لگے۔
میلان کے سفیر رائمونڈو دی سونچینو (Raimondo di Soncino) نے 18 دسمبر 1497ء کو اپنے ڈیوک کو لکھا کہ کیبٹ اٹھارہ آدمیوں کے ساتھ ایک چھوٹے جہاز میں گیا تھا۔ اس کے ساتھی کہتے تھے کہ وہاں کا سمندر مچھلیوں سے اتنا بھرا ہے کہ انہیں صرف جال سے نہیں بلکہ پتھر باندھ کر پانی میں لٹکائی گئی ٹوکریوں سے بھی پکڑا جا سکتا ہے، اور اتنی مچھلی لائی جا سکتی ہے کہ انگلستان کو آئس لینڈ کی ضرورت نہ رہے۔ سونچینو کے مطابق کیبٹ کا اگلا ارادہ اسی ساحل کے ساتھ آگے بڑھ کر جاپان تک پہنچنے کا تھا۔ جان ڈے کے مطابق بادشاہ نے کیبٹ کے لیے بیس پاؤنڈ سالانہ وظیفہ مقرر کیا؛ ہنٹر کے مطابق یہ دسمبر 1497ء میں منظور ہوا۔
1498ء: آخری سفر
ہنٹر کے مطابق فروری 1498ء میں کیبٹ کو نیا شاہی اجازت نامہ ملا اور مئی کے شروع میں غالباً پانچ جہازوں کا بیڑا برسٹل سے روانہ ہوا۔ لندن کے ایک قدیم وقائع نامے کے مطابق ساتھ کے جہازوں میں موٹا کپڑا اور ٹوپیاں جیسا سامانِ تجارت لدا تھا۔ اس بیڑے کا انجام آج بھی معلوم نہیں۔ ہنٹر لکھتے ہیں کہ کم از کم ایک جہاز ضرور واپس آیا ہو گا، کیونکہ 1500ء میں ہسپانوی نقشہ نویس خوان دے لا کوسا (Juan de la Cosa) کے نقشے پر اس ساحل کے ساتھ "انگریزوں کا دریافت کردہ سمندر" لکھا ہے۔ کیبٹ کا وظیفہ 1499ء تک ادا ہوتا رہا، مگر وہ خود کب اور کہاں فوت ہوا، یہ کسی کو معلوم نہیں۔
کیبٹ کہاں اترا؟
کیبٹ کے اترنے کی جگہ پر محققین کی رائیں مختلف ہیں: ہنٹر کے خیال میں جان ڈے کے دیے گئے عرض بلد جنوبی لیبریڈور اور شمالی نیو فاؤنڈ لینڈ کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جبکہ ہیریٹیج ویب سائٹ کے مطابق بعض محققین کا خیال ہے کہ سمندری دھاروں اور قطب نما کے انحراف نے اسے کافی جنوب کی طرف دھکیل دیا ہو گا، اور اسی لیے کیپ بریٹن (Cape Breton) جیسے جنوبی مقامات بھی تجویز کیے گئے ہیں۔
1997ء میں اس سفر کی پانچ سو سالہ یادگار کے لیے برسٹل میں "میتھیو" کی ہوبہو نقل تیار کی گئی۔ یہ جہاز 2 مئی 1997ء کو انیس افراد کے عملے کے ساتھ برسٹل سے روانہ ہوا، اور ہیریٹیج ویب سائٹ کے مطابق چوّن دن سمندر میں گزار کر 24 جون 1997ء کو نیو فاؤنڈ لینڈ کے قصبے بوناوسٹا (Bonavista) پہنچا۔
اگلی قسط: واسکو ڈے گاما: یورپ سے ہندوستان کا بحری راستہ۔
ماخذ
- James A. Williamson, The Cabot Voyages and Bristol Discovery under Henry VII, Hakluyt Society, Second Series no. 120, Cambridge University Press, 1962 (London chronicles of the 1498 voyage, pp. 220–23, as transcribed on the University of Bristol page "London Chronicles of John Cabot's voyage of 1498"). https://www.bristol.ac.uk/Depts/History/Maritime/Sources/1498chronicles.htm
- University of Bristol, Department of History, "The Smugglers' City" source pages: First letters patent to John Cabot, 5 March 1496 (from H. P. Biggar, The Precursors of Jacques Cartier, Ottawa, 1911, pp. 8–10); Lorenzo Pasqualigo to his brothers, 23 August 1497 (Biggar, pp. 14–15); Raimondo de Soncino to the Duke of Milan, 18 December 1497 (Calendar of State Papers, Milan, vol. I, 1912, no. 552). https://www.bristol.ac.uk/Depts/History/Maritime/Sources/1496cabotpatent.htm ; https://www.bristol.ac.uk/Depts/History/Maritime/Sources/1497pasqualigo.htm ; https://www.bristol.ac.uk/Depts/History/Maritime/Sources/1497soncino.htm
- John Day to the Lord Grand Admiral, winter 1497/8, English translation from L. A. Vigneras, "The Cape Breton landfall: 1494 or 1497. Note on a letter from John Day", Canadian Historical Review 38 (1957), pp. 219–28; University of Bristol source page. https://www.bristol.ac.uk/Depts/History/Maritime/Sources/1497johnday.htm
- Douglas Hunter, "John Cabot", The Canadian Encyclopedia, 2008, last edited 2017 (early life, letters patent, the three voyages, pension, landfall reading). https://www.thecanadianencyclopedia.ca/en/article/john-cabot
- Newfoundland and Labrador Heritage Web Site, "John Cabot's Voyage of 1497" and "The Matthew" (ship, crew, dates, landfall debate, 1997 replica). https://www.heritage.nf.ca/articles/exploration/cabot-1497.php ; https://www.heritage.nf.ca/articles/exploration/matthew.php
- Government of Newfoundland and Labrador, news release "Follow the Matthew on the World-Wide Web", 9 May 1997 (replica's departure on 2 May 1997 with a crew of 19). https://www.releases.gov.nl.ca/releases/1997/tcr/0509n06.htm







