رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید

جیمز کک: بحرالکاہل کے تین سفر

1768ء سے 1779ء تک، گیارہ برسوں میں، ایک انگریز جہاز ران نے بحرالکاہل کو تین بار چھانا۔ وہ جنوب میں انٹارکٹکا کی برف تک گیا اور شمال میں آبنائے بیرنگ سے آگے برف کی دیوار تک۔ اس کا نام جیمز…

جیمز کک: بحرالکاہل کے تین سفر
علامتی تصویر

1768ء سے 1779ء تک، گیارہ برسوں میں، ایک انگریز جہاز ران نے بحرالکاہل کو تین بار چھانا۔ وہ جنوب میں انٹارکٹکا کی برف تک گیا اور شمال میں آبنائے بیرنگ سے آگے برف کی دیوار تک۔ اس کا نام جیمز کک (James Cook) تھا، اور بریٹانیکا کے الفاظ میں اس نے دنیا کا نقشہ کسی بھی دوسرے فرد سے زیادہ بدلا۔

کوئلے کے جہازوں سے بحریہ تک

انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق کک 27 اکتوبر 1728ء کو انگلستان کے علاقے یارک شائر کے گاؤں مارٹن (Marton) میں ایک کھیت مزدور کے گھر پیدا ہوئے۔ اٹھارہ برس کی عمر میں، 1746ء میں، وہ وِٹبی (Whitby) کے جہاز مالک جان واکر کے پاس شاگرد بنے، جن کے جہاز بحیرۂ شمالی میں کوئلہ ڈھوتے تھے۔ سردیوں میں جب جہاز مرمت کے لیے کھڑے ہوتے تو کک رات کو ریاضی پڑھتے تھے۔ 1755ء میں وہ عام ملاح کے طور پر شاہی بحریہ میں بھرتی ہوئے، اور 1763ء سے 1767ء تک نیو فاؤنڈ لینڈ (Newfoundland) کے ساحلوں کا سروے کیا۔

پہلا سفر: زہرہ کا گزر

بریٹانیکا کے مطابق 1768ء میں لندن کی رائل سوسائٹی (Royal Society) اور بحریہ مل کر بحرالکاہل کی پہلی سائنسی مہم تیار کر رہے تھے، اور چالیس سالہ کک کو اس کا کمانڈر بنایا گیا۔ انہیں وٹبی کا بنا ہوا کوئلہ ڈھونے والا ایک مضبوط جہاز دیا گیا جس کا نام "اینڈیور" (Endeavour) رکھا گیا: 368 ٹن کا، اور تیس میٹر سے کم لمبا۔ 1893ء میں کک کا روزنامچہ مرتب کرنے والے ڈبلیو جے ایل وارٹن (W. J. L. Wharton) کے مطابق جہاز پر کل چورانوے آدمی تھے۔ سائنس دانوں کے سربراہ چھبیس سالہ جوزف بینکس (Joseph Banks) تھے، اور ان کے ساتھ سویڈن کے ماہرِ نباتات ڈینیئل سولینڈر (Daniel Solander)۔

مہم کا ظاہری مقصد سیارہ زہرہ (Venus) کا سورج کے سامنے سے گزرنا دیکھنا تھا۔ رائل میوزیمز گرینچ (Royal Museums Greenwich) کے مطابق جہاز 1768ء کی گرمیوں میں روانہ ہوا اور اپریل 1769ء میں تاہیتی (Tahiti) پہنچا۔ 3 جون 1769ء کے بارے میں کک لکھتے ہیں: "سارا دن ایک بادل بھی نظر نہ آیا اور ہوا بالکل صاف تھی۔" مگر سیارے کے گرد ایک دھندلا سا ہالہ تھا جس نے لمس کے لمحوں کا تعین مشکل کر دیا، اور تینوں مشاہدہ کرنے والوں کے اوقات توقع سے کہیں زیادہ مختلف نکلے۔ گرینچ کے مطابق یہ مشاہدہ جزوی طور پر ہی کامیاب رہا۔

نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور مرجانی چٹان

گرینچ کے مطابق کک کے پاس خفیہ ہدایات بھی تھیں کہ وہ جنوب میں اس فرضی بڑے براعظم کو تلاش کریں جس کے وجود کا اس زمانے میں خیال کیا جاتا تھا۔ بریٹانیکا لکھتا ہے کہ کک نے چھ مہینوں میں پورے نیوزی لینڈ کا نقشہ بنایا، اور گرینچ کے مطابق یہ ثابت کیا کہ وہ کسی بڑے براعظم کا حصہ نہیں۔ پھر 19 اپریل 1770ء کو وہ آسٹریلیا کے جنوب مشرقی ساحل پر پہنچے اور سروے کرتے ہوئے اس کے تقریباً 3,200 کلومیٹر لمبے مشرقی ساحل کے ساتھ شمال کو چلے۔

راستے میں گریٹ بیریئر ریف (Great Barrier Reef) کی مرجانی چٹانیں تھیں۔ کک کے روزنامچے کے مطابق جون 1770ء کی ایک چاندنی رات، گیارہ بجے سے کچھ پہلے، "جہاز ٹکرایا اور پھنس گیا"۔ عملے نے جہاز ہلکا کرنے کے لیے توپیں، لوہے اور پتھر کا وزن، پیپے اور پرانا سامان سمندر میں پھینک دیا، چالیس پچاس ٹن تک۔ اگلی رات جوار کے ساتھ جہاز تیر گیا، مگر رساؤ شدید تھا۔ وارٹن کے حاشیوں کے مطابق اس کی مرمت قریب کے ایک دریا میں ہوئی جو آج اینڈیور ریور (Endeavour River) کہلاتا ہے۔

واپسی پر جاوا کے شہر بٹاویا (آج کا جکارتہ) میں، بریٹانیکا کے مطابق، تیس آدمی بخار اور پیچش سے مر گئے۔ مگر پورے سفر میں کوئی اسکروی (scurvy) سے نہ مرا، کیونکہ کک صفائی اور ہوا کی آمد و رفت پر زور دیتے اور عملے کو ہالون، ساورکراؤٹ (خمیر شدہ بند گوبھی) اور مالٹے کا عرق کھلاتے تھے۔ کک کے روزنامچے کے مطابق 13 جولائی 1771ء کو جہاز انگلستان کے ساحل کے قریب ڈاؤنز (Downs) میں لنگر انداز ہوا۔

دوسرا سفر: قطبی دائرے کے پار

بریٹانیکا کے مطابق جولائی 1772ء سے جولائی 1775ء تک کک نے وٹبی ہی کے بنے جہاز "ریزولوشن" (Resolution) اور اس کے ساتھی جہاز "ایڈوینچر" (Adventure) کے ساتھ سفر کیا۔ نیوزی لینڈ کے کینٹربری میوزیم (Canterbury Museum) کے مطابق 17 جنوری 1773ء کو دونوں جہاز انٹارکٹک دائرے (66 درجے 33 دقیقے جنوب) کو پار کیا؛ میوزیم کے مطابق یہ اس دائرے کا پہلا ریکارڈ شدہ عبور تھا۔ بعد میں دھند میں دونوں جہاز بچھڑ گئے، اور گرینچ کے مطابق ایڈوینچر کے کپتان ٹوبائس فرنو (Tobias Furneaux) نیوزی لینڈ سے واپس انگلستان چلے گئے۔

کک ستر درجے جنوب سے بھی آگے گئے، مگر بریٹانیکا کے مطابق انہیں جنوبی براعظم کا کوئی سراغ نہ ملا۔ اس سفر میں انہوں نے ٹونگا اور ایسٹر آئی لینڈ کا نقشہ بنایا، نیو کیلیڈونیا (New Caledonia) دریافت کیا، اور بحرِ اوقیانوس میں جنوبی جارجیا (South Georgia) اور جنوبی سینڈوچ جزائر تک پہنچے۔ اس بار بھی اسکروی سے کوئی نہ مرا۔ واپسی پر کک کو رائل سوسائٹی کا رکن بنایا گیا اور اسکروی کے خلاف ان کے کام پر لکھے گئے مقالے پر انہیں سوسائٹی کا کوپلے تمغہ (Copley Medal) ملا۔

تیسرا سفر: شمال کی برفانی دیوار

بحرالکاہل کا ایک راز ابھی باقی تھا: کیا شمالی امریکہ کے گرد بحرِ اوقیانوس اور بحرالکاہل کو ملانے والا کوئی بحری راستہ موجود ہے؟ بریٹانیکا کے مطابق جولائی 1776ء میں کک پھر ریزولوشن پر، وٹبی کے ایک اور جہاز "ڈسکوری" (Discovery) کے ساتھ، اسی تلاش میں نکلے۔ سرکاری روداد کے مطابق 18 جنوری 1778ء کی صبح شمالی بحرالکاہل میں اچانک ایک جزیرہ نظر آیا، پھر دوسرا۔ گرینچ کے مطابق کک نے ان جزائر (آج کے ہوائی) کا نام بحریہ کے سربراہ ارل آف سینڈوچ کے نام پر "سینڈوچ جزائر" رکھا۔

وہاں سے جہاز شمالی امریکہ کے مغربی ساحل پر نوٹکا ساؤنڈ (Nootka Sound) گئے، پھر الاسکا کے ساحل کا نقشہ بناتے ہوئے آبنائے بیرنگ سے گزر کر شمال میں پہنچے۔ کک لکھتے ہیں کہ 17 اگست 1778ء کو افق پر برف کی چمک دکھائی دی اور پھر برف کا ایک وسیع میدان سامنے آ گیا۔ اگلے دن 70 درجے 44 دقیقے عرضِ بلد پر وہ برف کے کنارے پر تھے، جو "دیوار کی طرح ٹھوس" تھی اور کم از کم دس بارہ فٹ اونچی دکھائی دیتی تھی۔ برف پر بے شمار والرس (walrus) تھے۔ قریب کی زمین کے ایک سرے کو، جو برف سے گھرا تھا، کک نے "آئسی کیپ" (Icy Cape) کا نام دیا۔ آگے کوئی راستہ نہ تھا۔

ہوائی میں انجام

جہاز سردیاں گزارنے ہوائی لوٹ آئے۔ گرینچ کے مطابق فروری 1779ء میں وہ روانہ ہوئے مگر ریزولوشن کا اگلا مستول ٹوٹ جانے پر دو دن بعد واپس آنا پڑا۔ بریٹانیکا کے مطابق ایک کشتی کی چوری پر مقامی لوگوں سے مختصر جھڑپ ہوئی، اور 14 فروری 1779ء کو کک کیلاکیکوا بے (Kealakekua Bay) کے ساحل پر مارے گئے۔ گرینچ کے مطابق ان کے بعد کپتان کلرک (Clerke) نے کمان سنبھالی مگر چھ ماہ بعد تپ دق سے فوت ہو گئے، اور لیفٹیننٹ گور (Gore) اکتوبر 1780ء میں دونوں جہاز انگلستان واپس لائے۔

اگلی قسط: لا پیروز: گم شدہ فرانسیسی مہم۔

ماخذ

  1. Alan John Villiers and Britannica Editors, "James Cook", Encyclopaedia Britannica (early life; Endeavour; New Zealand and Australia; Batavia and scurvy; second and third voyages; death). https://www.britannica.com/biography/James-Cook
  2. Royal Museums Greenwich, "Captain James Cook timeline". https://www.rmg.co.uk/stories/maritime-history/captain-james-cook-timeline
  3. Captain Cook's Journal during his First Voyage Round the World made in H.M. Bark "Endeavour" 1768–71, edited by W. J. L. Wharton, London, Elliot Stock, 1893 (introduction; entries for 3 June 1769, 11–12 June 1770, 13 July 1771). Project Gutenberg #8106. https://www.gutenberg.org/ebooks/8106
  4. James Cook and James King, A Voyage to the Pacific Ocean … performed under the direction of Captains Cook, Clerke, and Gore, in His Majesty's ships the Resolution and Discovery, in the years 1776, 1777, 1778, 1779, and 1780, vol. II, London, 1784 (January 1778; 17–18 August 1778, Icy Cape). https://archive.org/details/voyagetopacifico02cook
  5. Canterbury Museum (Christchurch), "Milestones and medals: Antarctica celebrates a 250th anniversary" (17 January 1773 crossing). https://www.canterburymuseum.com/explore/our-stories/milestones-and-medals-antarctica-celebrates-a-250th-anniversary
  6. J. C. Beaglehole (ed.), The Journals of Captain James Cook on his Voyages of Discovery, Hakluyt Society Extra Series, Cambridge University Press, 1955–1967 (standard edition; listed for readers, not consulted online).

مہمات: تمام تحریریں ←