جلال الدین منکبرنی: دریائے سندھ میں چھلانگ لگانے والا سلطان
تیرہویں صدی عیسوی کے آغاز میں جب چنگیز خان (Genghis Khan) کی منگول فوجیں وسطی ایشیا میں داخل ہوئیں تو خوارزم شاہی سلطنت ان کے سامنے سب سے بڑی طاقت تھی۔ چند ہی برسوں میں یہ سلطنت بکھر گئی، مگر…

تیرہویں صدی عیسوی کے آغاز میں جب چنگیز خان (Genghis Khan) کی منگول فوجیں وسطی ایشیا میں داخل ہوئیں تو خوارزم شاہی سلطنت ان کے سامنے سب سے بڑی طاقت تھی۔ چند ہی برسوں میں یہ سلطنت بکھر گئی، مگر اس کے آخری حکمران نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ جلال الدین منکبرنی (Jalal al-Din Mangburni) نے افغانستان سے سندھ اور پنجاب، اور پھر ایران سے قفقاز تک منگولوں اور دوسرے حریفوں سے لڑائیاں لڑیں۔ اس کی زندگی کا ایک اہم باب دریائے سندھ کے کنارے، پنجاب، سندھ اور مکران میں گزرا۔
خوارزم کا شہزادہ
جلال الدین خوارزم شاہ علاء الدین محمد دوم کا بڑا بیٹا تھا۔ اس کی والدہ ایک ترکمان کنیز تھیں، اور اسی وجہ سے اس کی دادی ترکان خاتون، جو دربار میں بہت طاقتور تھیں، اس کے بجائے ایک چھوٹے بیٹے کی ولی عہدی کی حامی تھیں۔ 1215ء میں والد نے سلطنت بیٹوں میں تقسیم کی تو جلال الدین کے حصے میں سابق غوری سلطنت کے علاقے آئے۔
منگولوں کا حملہ
ہسٹری ڈاٹ کام کے مطابق 1219ء میں چنگیز خان نے خوارزم پر لشکر کشی کی۔ وجہ یہ بنی کہ منگول علاقے سے آنے والے ایک تجارتی قافلے کا مال لوٹ کر تاجر قتل کر دیے گئے اور بعد میں چنگیز خان کے سفیر بھی مارے گئے۔ منگول فوج نے بخارا، سمرقند اور گرگانج جیسے شہر یکے بعد دیگرے فتح کر لیے۔ خوارزم شاہ پسپا ہوتا ہوا بحیرۂ کیسپین کے ایک جزیرے تک جا پہنچا اور 1220ء کے آخر میں وہیں انتقال کر گیا۔
باپ کی وفات کے بعد جلال الدین سلطان بنا۔ دارالحکومت گرگانج میں امرا کی سازش کا پتا چلنے پر وہ چند سو سواروں کے ساتھ نکلا اور منگول دستوں سے بچتا ہوا غزنی پہنچا، جہاں اس کے حامی بڑی تعداد میں جمع ہو گئے۔
پروان کی فتح اور دریائے سندھ کا کنارہ
1221ء میں جلال الدین نے کابل کے شمال میں پروان کے مقام پر منگول سالار شیکی قتوقو کی فوج کو شکست دی۔ مگر فتح کے فوراً بعد مالِ غنیمت پر اس کے لشکر میں جھگڑا ہو گیا۔ رشید الدین کے جامع التواریخ کے ایک تکملے کے مطابق ہرات کے حاکم امین ملک اور سیف الدین اغراق کے درمیان ایک گھوڑے پر تنازع ہوا، امین ملک نے اغراق کو کوڑا مار دیا، اور اغراق اپنی فوج لے کر رات کی تاریکی میں الگ ہو گیا۔ جلال الدین کی فوج آدھی رہ گئی۔
اب اس نے دریائے سندھ پار کر کے ہندوستان جانے کا فیصلہ کیا۔ مورخ عطا ملک جوینی (Juwaini) کی تاریخِ جہاں کشا کے مطابق چنگیز خان دن رات سفر کرتا ہوا غزنی پہنچا تو معلوم ہوا کہ سلطان پندرہ دن پہلے دریائے سندھ کی طرف روانہ ہو چکا ہے۔ منگولوں نے اسے دریا کے کنارے جا لیا اور کمان کی شکل میں گھیرا ڈال دیا۔ جلال الدین دیر تک لڑتا رہا، اور جب گھیرا تنگ ہو گیا تو تازہ گھوڑے پر سوار ہو کر دریا میں کود گیا اور تیرتا ہوا دوسرے کنارے پر جا نکلا۔
جوینی لکھتا ہے کہ یہ منظر دیکھ کر چنگیز خان نے حیرت سے اپنے بیٹوں سے کہا کہ یہ وہ شخص ہے جسے واقعی مرد کہا جا سکتا ہے۔ تاہم سلطان کے بیشتر ساتھی یا تو دریا میں ڈوب گئے یا مارے گئے، اور اس کے خاندان کے مرد ارکان، کم سن بچوں سمیت، قتل کر دیے گئے۔ جدید مورخین اس لڑائی کی تاریخ 24 نومبر 1221ء بتاتے ہیں، جبکہ قدیم مورخین کی دی ہوئی ہجری تاریخیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
پنجاب اور سندھ میں قیام
جوینی کے مطابق دریا پار کرنے کے بعد چند دن تک جلال الدین جنگلوں میں چھپا رہا اور آہستہ آہستہ اس کے بچ جانے والے ساتھی اس سے آ ملے۔ اس نے مقامی دستوں پر حملے کر کے ہتھیار اور سواریاں حاصل کیں، اور اس کی فوج چند سو سے بڑھ کر تین ہزار اور پھر دس ہزار تک جا پہنچی۔ منگولوں کا ایک دستہ اس کے تعاقب میں آیا تو وہ دہلی کی طرف بڑھا اور سلطان شمس الدین التتمش (Iltutmish) کو پیغام بھیجا کہ اسے کچھ عرصے کے لیے رہنے کی جگہ دی جائے۔ جوینی کے مطابق التتمش نے تحائف تو بھیجے مگر یہ عذر کیا کہ یہاں کی آب و ہوا سلطان کے لیے موزوں نہیں۔
اس کے بعد جلال الدین نے کوہِ نمک (کوہِ جود) کے علاقے کا رخ کیا۔ جوینی لکھتا ہے کہ کھوکھر سردار رائے سنکین نے اپنی بیٹی اس سے بیاہ دی اور اپنے بیٹے کو ایک دستے کے ساتھ اس کی خدمت میں بھیجا۔ اس زمانے میں سندھ اور ملتان پر ناصر الدین قباچہ کی حکومت تھی۔ جلال الدین کے سالار ازبک پائی نے سات ہزار سواروں کے ساتھ اچ کے قریب قباچہ کے بیس ہزار کے لشکر پر رات کو حملہ کر کے اسے منتشر کر دیا۔ اسی دوران پسرور کے قلعے کے محاصرے میں جلال الدین کے سر پر تیر لگا۔
پھر وہ جنوب کی طرف سندھ میں اترا۔ جوینی کے مطابق سدوسان (سیہون) کے حاکم فخر الدین سالاری نے اطاعت قبول کی تو سلطان نے ایک ماہ وہاں قیام کے بعد اسے دوبارہ حاکم مقرر کر دیا۔ وہاں سے وہ دیبل اور دمریلہ کی طرف گیا، جہاں کا حاکم کشتی میں بیٹھ کر سمندر کی طرف نکل گیا۔ ادھر منگولوں کے ایک دستے نے ملتان کا محاصرہ کیا مگر شدید گرمی کی وجہ سے واپس جانا پڑا۔
اسی دوران عراق سے خبر آئی کہ وہاں کے لشکری اس کی واپسی کے منتظر ہیں۔ چنانچہ جلال الدین مکران کے راستے ایران روانہ ہوا۔ جوینی لکھتا ہے کہ مکران کی آب و ہوا اتنی ناموافق تھی کہ اس کی فوج کا بڑا حصہ راستے میں ضائع ہو گیا۔ برصغیر میں اس کا قیام دو سے تین برس رہا؛ مورخین اس کی مدت مختلف بتاتے ہیں۔
ایران واپسی اور انجام
کرمان پہنچ کر اس نے وہاں کے حاکم براق حاجب کی بیٹی سے شادی کی، اور پھر عراقِ عجم، آذربائیجان اور قفقاز میں اپنی حکومت دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کی۔ 1225ء میں اس نے تبریز پر قبضہ کیا اور گرجستان (جارجیا) کے خلاف بھی لڑا۔ مگر ہمسایوں سے مسلسل جنگوں نے اسے تنہا کر دیا۔ 1230ء میں سلجوقی سلطان علاء الدین کیقباد اور ایوبی اتحادیوں نے اسے یاسی چمن کی لڑائی میں شکست دی، اور 1231ء میں منگولوں کی ایک نئی فوج نے اس کا رہا سہا لشکر بھی منتشر کر دیا۔ وہ پہاڑوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوا اور اسی برس اگست میں ایک کرد کے ہاتھوں مارا گیا جو اپنے بھائی کے قتل کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔
ورثہ
جلال الدین کے بارے میں قدیم اور جدید مورخین کی رائے ملی جلی ہے۔ اس کے دوست اور ہم سفر محمد نسوی نے، جس نے اس کی سوانح لکھی، اسے بے حد بہادر اور نرم مزاج قرار دیا، اور منہاج سراج جوزجانی نے بھی اس کی بہادری کا ذکر کیا۔ دوسری طرف بعض جدید مورخین، جن میں روسی مستشرق بارتھولڈ شامل ہیں، اس کی سیاسی بصیرت اور حکمرانی پر سخت تنقید کرتے ہیں۔
جلال الدین کی کہانی ایک ایسے حکمران کی ہے جس کی سلطنت اس کی آنکھوں کے سامنے ختم ہو گئی، مگر جس کے دریائے سندھ پار کرنے کا واقعہ صدیوں بعد بھی تاریخ کی کتابوں اور مصوری میں زندہ ہے۔
ماخذ
- H. M. Elliot and John Dowson (eds.), The History of India, as Told by Its Own Historians, vol. II, Trübner, London, 1869: extracts from 'Ata-Malik Juwaini, Tarikh-i Jahan-kusha (pp. 388–401), and Appendix, Note H, "Sultan Jalalu-d din Mankburni" (pp. 549–562, with extracts from the continuator of Rashid al-Din's Jami' al-Tawarikh and other authors). Internet Archive: https://archive.org/details/B-001-002-955
- HISTORY.com Editors, "Genghis Khan", HISTORY.com (A&E Television Networks). https://www.history.com/topics/asian-history/genghis-khan
- "Jalal al-Din Mangburni", Wikipedia (pointer: parentage, 1215 appanage, Parwan, Tabriz, Yassıçemen, death, historians' assessments). https://en.wikipedia.org/wiki/Jalal_al-Din_Mangburni
- "Battle of the Indus", Wikipedia (pointer: modern date of the battle). https://en.wikipedia.org/wiki/Battle_of_the_Indus







