سکندر اعظم: مقدونیہ سے جہلم اور مکران کے صحرا تک
چوتھی صدی قبل مسیح میں یونان کے شمال میں واقع ریاست مقدونیہ (Macedon) کے ایک نوجوان بادشاہ نے صرف تیرہ برس میں یونان سے مصر، ایران، افغانستان اور پنجاب تک کا علاقہ فتح کر لیا۔ یہ سکندر سوم تھا جسے…

چوتھی صدی قبل مسیح میں یونان کے شمال میں واقع ریاست مقدونیہ (Macedon) کے ایک نوجوان بادشاہ نے صرف تیرہ برس میں یونان سے مصر، ایران، افغانستان اور پنجاب تک کا علاقہ فتح کر لیا۔ یہ سکندر سوم تھا جسے دنیا سکندر اعظم (Alexander the Great) کے نام سے جانتی ہے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق وہ 356 قبل مسیح میں پیدا ہوا، 336 قبل مسیح میں تخت پر بیٹھا اور 323 قبل مسیح میں بتیس برس کی عمر میں بابل میں وفات پا گیا۔ اس کی مہمات کا ایک اہم باب آج کے پاکستان میں لکھا گیا: دریائے جہلم کے کنارے راجا پورس سے جنگ، اور واپسی پر بلوچستان کے ساحلی صحرا کا کٹھن سفر۔
ابتدائی زندگی
سکندر مقدونیہ کے بادشاہ فیلقوس دوم (Philip II) کا بیٹا تھا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق تیرہ یا چودہ برس کی عمر میں اس کے والد نے یونانی فلسفی ارسطو (Aristotle) کو اس کا اتالیق مقرر کیا، اور سولہ برس کی عمر تک وہ ارسطو سے پڑھتا رہا۔ اٹھارہ برس کی عمر میں اس نے 338 قبل مسیح میں کیرونیا (Chaeronea) کی جنگ میں حصہ لیا جس میں مقدونیہ نے یونانی شہری ریاستوں کے اتحاد کو شکست دی۔ 336 قبل مسیح میں فیلقوس کے قتل کے بعد سکندر بادشاہ بنا اور اپنے والد کا وہ منصوبہ اٹھایا جو ہخامنشی ایرانی سلطنت کی فتح کا تھا۔
ایران کی فتح
334 قبل مسیح میں سکندر بتیس ہزار پیادہ اور پانچ ہزار ایک سو سواروں کے ساتھ ایشیائے کوچک میں داخل ہوا اور دریائے گرانیکس (Granicus) پر ایرانی فوج کو شکست دی۔ 333 قبل مسیح میں ایسس (Issus) کے مقام پر اس نے ایرانی بادشاہ دارا سوم (Darius III) کی بڑی فوج کو ہرایا۔ اس کے بعد فونیقی شہر صور (Tyre) کا طویل محاصرہ ہوا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق شہر فتح ہونے کے بعد وہاں کے باشندوں کو قتل کیا گیا اور بچ جانے والوں کو غلام بنا کر بیچ دیا گیا، اور قدیم و جدید مؤرخین اس واقعے کو سکندر کی سخت گیری کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
332 قبل مسیح کے آخر میں اس نے مصر لیا، 331 قبل مسیح میں اسکندریہ (Alexandria) کی بنیاد رکھی اور گوگامیلا (Gaugamela) میں دارا کو فیصلہ کن شکست دی۔ 330 قبل مسیح میں ایرانی شاہی شہر تخت جمشید (Persepolis) کا محل جلا دیا گیا؛ قدیم مؤرخ دیودورس کے مطابق یہ یونان پر ایرانی حملے کے دوران ایتھنز کے جلائے جانے کا بدلہ تھا، اور جدید مؤرخین اس اقدام پر تنقید کرتے ہیں۔ اسی سال دارا کو اس کے اپنے سردار بسوس (Bessus) نے قتل کر دیا، اور اگلے تین برس سکندر باختر اور سغد میں لڑتا رہا۔
ٹیکسلا اور جہلم کی جنگ
327 قبل مسیح میں سکندر نے برصغیر کا رخ کیا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق ٹیکسلا کے راجا امبھی (Omphis) نے بغیر لڑے اطاعت قبول کر لی، جبکہ اسپاسیوئی اور اساکینوئی قبائل نے سخت مزاحمت کی۔ 326 قبل مسیح میں سکندر کا سامنا پورو ریاست کے راجا پورس (Porus) سے دریائے ہائیڈسپیز (Hydaspes) کے کنارے ہوا۔ آریان کی کتاب کے انگریزی مترجم ای جے چنک کے مطابق یہی دریا آج جہلم کہلاتا ہے، جو دریائے سندھ کے پانچ بڑے معاون دریاؤں میں سے ایک ہے۔
ہسٹری ڈاٹ کام کے مطابق پورس کی فوج کے پاس جنگی ہاتھی تھے، اور یہ جنگ طوفانی بارش میں لڑی گئی جس میں آخرکار پورس کو شکست ہوئی۔ آریان کے مطابق اس جنگ میں سکندر کے تقریباً تین سو دس آدمی کام آئے۔ آریان کے بیان کے مطابق جب گرفتار پورس سے پوچھا گیا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے تو اس نے جواب دیا: "اے سکندر، میرے ساتھ بادشاہوں جیسا سلوک کرو۔" سکندر نے اسے نہ صرف اس کی سلطنت لوٹا دی بلکہ اس سے بڑا علاقہ اس کے سپرد کیا۔ اسی جنگ میں سکندر کا مشہور گھوڑا بوسیفالس (Bucephalus) مارا گیا اور اس نے اس کی یاد میں ایک شہر بوسیفالا آباد کیا۔
سکندر آگے گنگا کی طرف بڑھنا چاہتا تھا، مگر برسوں کی مہمات سے تھکی ہوئی فوج نے آگے جانے سے انکار کر دیا، اور سکندر کو ان کی بات ماننی پڑی۔
واپسی: گیدروسیا اور مکران کا صحرا
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق سکندر نے فوج کو دو حصوں میں بانٹا: ایک حصہ امیرالبحر نیارخس (Nearchus) کی کمان میں سمندر کے راستے خلیج فارس کی طرف روانہ ہوا، جبکہ وہ خود باقی فوج کے ساتھ 325 قبل مسیح میں گیدروسیا (Gedrosia) کے صحرا سے گزرا۔ آریان کے مترجم چنک کے حواشی کے مطابق گیدروسیا ایرانی سلطنت کا انتہائی جنوب مشرقی صوبہ تھا جو بلوچستان کے جنوب مشرقی حصے پر مشتمل تھا، اور اس کے ساحل پر "اکتھیوفیگی" یعنی مچھلی خور لوگ آباد تھے۔ یہ وہی ساحلی پٹی ہے جو آج مکران کہلاتی ہے۔
آریان (Arrian) کے بیان کے مطابق اس راستے میں کئی جگہ پانی نہیں تھا، فوج کو زیادہ تر رات کو سفر کرنا پڑتا تھا، اور ریت کے نرم ٹیلوں میں قدم دھنس جاتے تھے۔ گرمی اور پیاس سے بہت سے جانور اور سپاہی ہلاک ہوئے، اور ایک رات پہاڑوں پر ہونے والی بارش سے ایک برساتی نالے میں اچانک سیلاب آیا جو فوج کے ساتھ چلنے والے بہت سے خاندانوں اور شاہی سامان کو بہا لے گیا۔ آریان کے مطابق اورائی (Oritians) کے علاقے سے گیدروسیا کے صدر مقام پورا (Pura) تک پہنچنے میں ساٹھ دن لگے، اور چنک کے مطابق پورا غالباً بمپور کے مقام پر تھا۔
اس راستے کے انتخاب کی وجہ پر مؤرخین میں بحث ہے۔ آریان، سکندر کے امیرالبحر نیارخس کے حوالے سے لکھتا ہے کہ سکندر نے سنا تھا کہ ملکہ سمیرامیس اور کورش اعظم دونوں اس صحرا سے گزرتے ہوئے اپنی فوج کا بیشتر حصہ گنوا بیٹھے تھے، اور وہ ان سے بڑھ کر کچھ کرنا چاہتا تھا؛ دوسری وجہ بحری بیڑے کے لیے راستے میں رسد کا انتظام تھا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اس فیصلے کی وجوہات آج بھی واضح نہیں۔ آریان یہ بھی لکھتا ہے کہ سکندر کے اکثر مؤرخین کے نزدیک ایشیا کی کوئی مشقت اس سفر کے برابر نہیں تھی۔
آخری ایام
324 قبل مسیح میں سکندر شوش (Susa) پہنچا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اس نے ان صوبیداروں کو سزا دی جنہوں نے اس کی غیر موجودگی میں اختیارات کا غلط استعمال کیا تھا، اور پاسارگاد میں کورش اعظم کے مقبرے کی مرمت کا حکم دیا۔
323 قبل مسیح میں بابل میں وہ دس دن تیز بخار میں مبتلا رہا اور 10 یا 11 جون کو وفات پا گیا۔ اس کی موت کی وجہ معلوم نہیں؛ زہر، ملیریا اور آلودہ پانی سے ہونے والے انفیکشن تک مختلف نظریات پیش کیے گئے ہیں۔ اس نے کوئی واضح جانشین نامزد نہیں کیا تھا، اور اس کی سلطنت اس کے جرنیلوں میں بٹ گئی جو "دیادوخی" (جانشین) کہلاتے ہیں۔
ورثہ
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق سکندر کی مہمات کے بعد یونانی زبان اور ثقافت مصر سے برصغیر تک پھیلی اور "ہیلینسٹک دور" (Hellenistic Period) کا آغاز ہوا۔
پاکستان کے قاری کے لیے سکندر کی کہانی صرف ایک دور دراز فاتح کی کہانی نہیں۔ ٹیکسلا، جہلم کا کنارہ، دریائے سندھ کا سفر اور مکران کا صحرا، سب اس داستان کا حصہ ہیں، اور آریان جیسے قدیم مؤرخین کے بیانات آج بھی اس خطے کی قدیم تاریخ کا ایک اہم ماخذ ہیں۔
ماخذ
- Joshua J. Mark, "Alexander the Great", World History Encyclopedia, 14 November 2013. https://www.worldhistory.org/Alexander_the_Great/
- Arrian, The Anabasis of Alexander, literally translated with a commentary by E. J. Chinnock, London: Hodder and Stoughton, 1884 (Project Gutenberg edition): Book V, ch. 19 (Porus); Book VI, ch. 22–27 (march through Gadrosia); notes 493, 636, 784, 793, 796. https://www.gutenberg.org/ebooks/46976
- HISTORY.com Editors, "Alexander the Great", HISTORY.com. https://www.history.com/articles/alexander-the-great
- Wikipedia, "Battle of the Hydaspes" (pointer only: Hydaspes = Jhelum, Punjab). https://en.wikipedia.org/wiki/Battle_of_the_Hydaspes
- Wikipedia, "Alexander the Great" (pointer only: return through the Gedrosian Desert and Makran). https://en.wikipedia.org/wiki/Alexander_the_Great
- "Alexander the Great", Encyclopaedia Britannica (fact-check 20 Oct 2026: Egypt taken late 332 BC; Alexandria founded and Gaugamela fought in 331 BC). Arrian (source 2), Book V ch. 18, gives about 310 of Alexander's men killed at the Hydaspes; the figure of about 1,000 is Diodorus's. https://www.britannica.com/biography/Alexander-the-Great







