ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا
خواجہ میر دردؔ کی غزل۔

خواجہ میر دردؔ کی غزل۔
غزل
ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیاپر اسے آہ کچھ اثر نہ کیا
سب کے ہاں تم ہوئے کرم فرمااس طرف کو کبھو گزر نہ کیا
کیوں بھویں تانتے ہو بندہ نوازسینہ کس وقت میں سپر نہ کیا
کتنے بندوں کو جان سے کھویاکچھ خدا کا بھی تو نے ڈر نہ کیا
دیکھنے کو رہے ترستے ہمنہ کیا رحم تو نے پر نہ کیا
آپ سے ہم گزر گئے کب کےکیا ہے ظاہر میں گو سفر نہ کیا
کون سا دل ہے وہ کہ جس میں آہخانہ آباد تو نے گھر نہ کیا
تجھ سے ظالم کے سامنے آیاجان کا میں نے کچھ خطر نہ کیا
سب کے جوہر نظر میں آئے دردؔبے ہنر تو نے کچھ ہنر نہ کیا
مشکل الفاظ
- نالہ سر: نالہ سر کرنا: فریاد بلند کرنا
- اثر: تاثیر
- کرم فرما: مہربانی کرنے والا
- کبھو: کبھی (پرانی صورت)
- بندہ نواز: غلاموں پر مہربانی کرنے والا
- سپر: ڈھال
- خانہ آباد: آباد، بسا ہوا
- خطر: خطرہ، ڈر
- جوہر: خوبی، ہنر
- بے ہنر: بغیر ہنر کے
پس منظر
ہر شعر "نہ کیا" پر ختم ہوتا ہے: کون سی رات تھی جب فریاد نہ کی، مگر اس پر اثر نہ ہوا۔ مقطع میں دردؔ خود سے کہتے ہیں کہ سب کے ہنر دکھائی دے گئے، تم نے بے ہنر رہ کر کوئی ہنر نہ دکھایا؛ ریختہ کے تعارف کے مطابق دردؔ شاعرانہ "استادی" دکھانے کے قائل نہ تھے2۔ متن ریختہ کے صفحے سے ہے1۔
متن کا ماخذ: ریختہ پر شائع متن، لفظ بہ لفظ1۔
ماخذ
- ریختہ، خواجہ میر دردؔ: "ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا" (غزل کا متن)۔ https://www.rekhta.org/ghazals/ham-ne-kis-raat-naala-sar-na-kiyaa-khwaja-meer-dard-ghazals?lang=ur
- ریختہ، خواجہ میر دردؔ: تعارف۔ https://www.rekhta.org/poets/khwaja-meer-dard/profile?lang=ur
- دیوانِ درد، مرتبہ نسیم احمد، archive.org (حوالے کے لیے)۔ https://archive.org/details/DeewanEDard
- ریختہ لغت (مشکل الفاظ کے معانی کے لیے)۔ https://www.rekhta.org/urdudictionary?lang=ur







