یوسف بن تاشفین: مراکش شہر کا بانی
شمالی افریقہ کے ملک مراکش (Morocco) کا نام دراصل ایک شہر کے نام سے نکلا ہے: مراکش (Marrakesh)، جو کوہِ اطلس کے دامن میں ایک وسیع میدان میں آباد ہے۔ برٹانیکا کے مطابق یہ شہر گیارہویں صدی کے وسط میں…

شمالی افریقہ کے ملک مراکش (Morocco) کا نام دراصل ایک شہر کے نام سے نکلا ہے: مراکش (Marrakesh)، جو کوہِ اطلس کے دامن میں ایک وسیع میدان میں آباد ہے۔ برٹانیکا کے مطابق یہ شہر گیارہویں صدی کے وسط میں مرابطین (Almoravids) کے حکمران یوسف بن تاشفین (Yusuf ibn Tashfin) نے بسایا۔ یوسف نے 1061ء سے 1106ء تک حکومت کی، اور برٹانیکا کے مطابق اپنے دور میں انہوں نے مرابطین کی چھوٹی اور غیر محفوظ عملداری کو ایک وسیع سلطنت میں بدل دیا۔
صحرا کے بربر
برٹانیکا کے مطابق مرابطین صحرائے اعظم کے بربر قبائل لمتونہ، جدالہ اور مسوفہ کا ایک اتحاد تھے، جو صنہاجہ قبیلے کی شاخیں تھیں۔ یوسف بن تاشفین اسی بربر نسل سے تھے، اور برٹانیکا انہیں ایک بہترین سپہ سالار اور سادہ زندگی گزارنے والا شخص بتاتا ہے، جو اپنی مثال سے اپنے ساتھیوں کو متاثر کرتا تھا۔
قیادت کی منتقلی
1061ء میں مرابطین کے سربراہ ابوبکر کو صحرا میں ایک قبائلی بغاوت سے نمٹنے کے لیے جنوب جانا پڑا۔ برٹانیکا کے مطابق انہوں نے شمال میں اپنی فوج کی کمان اپنے چچا زاد یوسف بن تاشفین کے سپرد کی۔ یوسف اتنے مقبول ہو گئے کہ جب ابوبکر واپس آئے تو انہوں نے اقتدار یوسف ہی کے پاس رہنے دیا۔
مراکش شہر کی بنیاد
یوسف کا سب سے دیرپا کام مراکش شہر کی بنیاد ہے۔ برٹانیکا اس کا زمانہ تقریباً 1062ء بتاتا ہے، جبکہ یونیسکو کے مطابق مرابطین نے یہ شہر 1070ء اور 1072ء کے درمیان بسایا۔ برٹانیکا کے مطابق یہ شہر 1147ء تک مرابطین کا دارالحکومت رہا۔
یونیسکو کے مطابق مراکش طویل عرصے تک ایک سیاسی، معاشی اور ثقافتی مرکز رہا اور اس کا اثر شمالی افریقہ سے اندلس تک پورے مغربی اسلامی خطے میں محسوس کیا گیا۔ اس کی فصیلیں، بڑے دروازے، قصبہ اور باغات اسی ابتدائی دور کی یاد دلاتے ہیں۔
شہر کی زندگی کا ایک اہم حصہ پانی کا انتظام تھا۔ برٹانیکا کے مطابق مرابطین کے دور میں آبپاشی کا جو نظام بنایا گیا، وہ آج بھی شہر کے باغات کو پانی دیتا ہے۔ مراکش اپنے باغات کے لیے مشہور ہے؛ برٹانیکا کے مطابق ان میں منارہ کا زیتون کا باغ اور چار سو ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلا ہوا اگدال کا باغ نمایاں ہیں۔
سلطنت کی وسعت
برٹانیکا کے مطابق یوسف نے تقریباً پورا مراکش اور مغربی الجزائر، الجزائر شہر تک، اپنی حکومت میں شامل کر لیا۔ 1086ء میں جزیرہ نما آئبیریا میں زلاقہ (al-Zallaqah) کے مقام پر انہوں نے قشتالہ کے بادشاہ الفانسو ششم کی فوج کو شکست دی، جس سے برٹانیکا کے مطابق قشتالہ کی پیش قدمی رک گئی۔ اس کے بعد وہ مراکش واپس چلے گئے، مگر 1089ء میں دوبارہ اندلس آئے۔
برٹانیکا کے مطابق ان کی وفات کے وقت ان کی سلطنت میں موجودہ مراکش اور الجزائر کے بڑے حصے، جزیرہ نما آئبیریا کا مسلم علاقہ شمال میں فراگا (Fraga) تک، اور بحیرۂ روم کے جزائر میورقہ، منورقہ اور ابیزا شامل تھے۔
افریقہ اور اندلس کا ملاپ
اس سیاسی اتحاد کے ثقافتی نتائج یوسف کے بعد زیادہ واضح ہوئے۔ برٹانیکا کے مطابق ان کے بیٹے علی بن یوسف (1106ء–1142ء) کے دور میں اسپین اور افریقہ کا رشتہ اور مضبوط ہوا: انتظامی ڈھانچہ اندلسی نمونے پر بنا، ادیب اور فنکار آبنائے جبل الطارق پار کر کے آنے جانے لگے، اور علی کی بنوائی ہوئی عمارتیں خالص اندلسی فن کا نمونہ بنیں۔ مراکش شہر اس تبادلے کا مرکز تھا۔
وفات
برٹانیکا کے مطابق یوسف بن تاشفین کا انتقال 1106ء میں ہوا۔ ان کے بعد ان کے بیٹے علی بن یوسف حکمران بنے۔ مرابطین کی حکومت 1147ء تک قائم رہی، جب مراکش شہر موحدین (Almohads) کے ہاتھ آیا۔
ورثہ
برٹانیکا کے مطابق مراکش شہر نے بعد میں اس پوری مملکت کو اپنا نام دیا جس کا وہ طویل عرصے تک دارالحکومت رہا۔ مرابطین کے بعد موحدین، سعدی اور علوی خاندانوں نے بھی اس شہر میں عمارتیں بنوائیں، اور 1985ء میں یونیسکو نے مراکش کے پرانے شہر (مدینہ) کو عالمی ورثہ قرار دیا۔ اس شہر کی بنیاد آج بھی یوسف بن تاشفین کے نام سے جڑی ہے۔
ماخذ
- Encyclopaedia Britannica, "Yūsuf ibn Tāshufīn". https://www.britannica.com/biography/Yusuf-ibn-Tashufin
- Encyclopaedia Britannica, "Almoravids". https://www.britannica.com/topic/Almoravids
- Encyclopaedia Britannica, "Marrakech". https://www.britannica.com/place/Marrakech
- UNESCO World Heritage Centre, "Medina of Marrakesh". https://whc.unesco.org/en/list/331/







