رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید

مہاراجہ رنجیت سنگھ: گوجرانوالہ کا سردار جس نے لاہور کو دارالحکومت بنایا

اٹھارہویں صدی کے آخر میں پنجاب کئی چھوٹی چھوٹی ریاستوں اور سرداریوں میں بٹا ہوا تھا۔ مغل سلطنت کمزور ہو چکی تھی، افغان حکمران بار بار حملے کرتے تھے اور سکھ سردار "مثلوں" کے نام سے اپنے اپنے علاقوں پر…

مہاراجہ رنجیت سنگھ: گوجرانوالہ کا سردار جس نے لاہور کو دارالحکومت بنایا
علامتی تصویر

اٹھارہویں صدی کے آخر میں پنجاب کئی چھوٹی چھوٹی ریاستوں اور سرداریوں میں بٹا ہوا تھا۔ مغل سلطنت کمزور ہو چکی تھی، افغان حکمران بار بار حملے کرتے تھے اور سکھ سردار "مثلوں" کے نام سے اپنے اپنے علاقوں پر قابض تھے۔ اسی ماحول میں گوجرانوالہ کے نوجوان سردار رنجیت سنگھ (Ranjit Singh) نے 1799ء میں لاہور پر قبضہ کیا اور اگلے چالیس برس میں ملتان، کشمیر اور پشاور تک پھیلی ریاست قائم کی، جس کا دارالحکومت لاہور تھا۔

ابتدائی زندگی

برطانوی منتظم اور مورخ سر لیپل گریفن (Lepel Griffin) کے مطابق رنجیت سنگھ 1780ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مہان سنگھ سکرچکیا مثل (Sukerchakia misl) کے سردار تھے۔ 1908ء کے امپیریل گزیٹیئر (Imperial Gazetteer) کے مطابق ان کی جائے پیدائش گوجرانوالہ تھی، جس شہر کی اہمیت ان کے والد اور دادا کی وجہ سے بڑھی تھی۔ بچپن میں چیچک کے باعث ان کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی اور چہرے پر اس کے نشان رہ گئے۔

گریفن کے مطابق 1792ء میں جب ان کے والد کا انتقال ہوا تو رنجیت سنگھ کی عمر صرف بارہ برس تھی، مگر وہ اس سے پہلے ہی والد کے ساتھ مہمات میں شریک ہو چکے تھے۔

لاہور تک کا سفر

1797ء اور 1798ء میں افغان حکمران شاہ زمان نے پنجاب پر حملے کیے اور لاہور پر قبضہ کر لیا۔ گریفن کے مطابق واپسی پر دریائے جہلم کی طغیانی میں شاہ زمان کی بارہ توپیں پھنس گئیں، اور انہوں نے رنجیت سنگھ سے وعدہ کیا کہ اگر وہ یہ توپیں نکال کر بھجوا دیں تو انہیں لاہور کا علاقہ اور راجہ کا خطاب دیا جائے گا۔ رنجیت سنگھ نے آٹھ توپیں نکال کر پشاور بھجوا دیں اور شاہ زمان نے وعدہ پورا کیا۔ امپیریل گزیٹیئر میں بھی اس عطیے کا ذکر ہے۔

اس وقت لاہور پر تین سکھ سرداروں کی اولاد کا قبضہ تھا۔ گریفن کے مطابق شہر کے لوگ ان سے ناخوش تھے۔ جولائی 1799ء میں رنجیت سنگھ ایک مضبوط فوج کے ساتھ لاہور پہنچے، شہر کے دروازے ان کے لیے کھول دیے گئے اور دونوں سردار بغیر مزاحمت کے شہر چھوڑ گئے۔ اس وقت رنجیت سنگھ کی عمر انیس برس تھی۔

1802ء میں انہوں نے امرتسر بھی بھنگی سرداروں سے لے لیا۔ گریفن کے مطابق اس کا فوری سبب مشہور "زمزمہ توپ" تھی، جو احمد شاہ ابدالی کے دور میں لاہور میں ڈھالی گئی تھی اور جسے دینے سے بھنگی سرداروں نے انکار کر دیا تھا۔ یہ وہی توپ ہے جو آج لاہور عجائب گھر کے سامنے کھڑی ہے۔

سلطنت کی توسیع

1808ء میں رنجیت سنگھ نے دریائے ستلج کے پار کے علاقوں میں پیش قدمی کی تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے مداخلت کی۔ امپیریل گزیٹیئر کے مطابق دسمبر 1808ء میں کمپنی نے ستلج کے اس پار کی ریاستوں کو اپنی حفاظت میں قرار دیا، اور اپریل 1809ء میں چارلس مٹکاف اور رنجیت سنگھ کے درمیان معاہدہ ہوا جس کے تحت ستلج دونوں کے درمیان حد قرار پائی۔ گریفن کے مطابق فقیر عزیز الدین کے مشورے نے انہیں جنگ سے باز رکھا۔

اس کے بعد ان کی توجہ شمال اور مغرب کی طرف ہو گئی۔ گریفن کے مطابق 1818ء میں ملتان فتح ہوا اور 1819ء میں کشمیر ان کی سلطنت میں شامل ہوا۔ پشاور کا علاقہ 1833ء میں شاہ شجاع کی جانب سے ان کے حوالے کیے جانے کے بعد ایک چال کے ذریعے حاصل کیا گیا۔

فوج اور دربار

رنجیت سنگھ کا سب سے اہم کام ان کی فوج کی تنظیمِ نو سمجھا جاتا ہے۔ گریفن کے مطابق سکھ روایتی طور پر گھڑ سوار جنگجو تھے اور پیادہ فوج کو کم تر سمجھا جاتا تھا، مگر رنجیت سنگھ نے انگریزی فوج کے نظم و ضبط کا بغور مطالعہ کیا اور اسی طرز پر باقاعدہ فوج تیار کی۔ اس کام میں نپولین کی فوج کے دو سابق افسروں، اطالوی جنرل وینتورا (Ventura) اور فرانسیسی جنرل الارڈ (Allard)، نے اہم کردار ادا کیا۔ وینتورا کو "فوجِ خاص" نامی منظم ترین دستے کی کمان ملی۔

ان کے دربار میں مختلف مذاہب کے لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ گریفن کے مطابق ان کے سب سے بااعتماد وزیروں میں فقیر عزیز الدین بھی شامل تھے، جو ایک مسلمان خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ 1799ء میں لاہور پر قبضے کے فوراً بعد رنجیت سنگھ آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا ہوئے تو نوجوان عزیز الدین نے ان کا علاج کیا، اور بعد میں وہ ان کے ذاتی معالج اور پھر وزیرِ خارجہ بنے۔ کئی اہم عہدے دار ہندو بھی تھے۔

کوہِ نور

گریفن کے مطابق مشہور ہیرا کوہِ نور افغان حکمران شاہ شجاع کے پاس تھا، جو جلاوطنی میں لاہور آئے۔ اس کے حصول کی دو روایات ہیں: سکھ وقائع نگاروں کے مطابق یہ حفاظت کے بدلے دیا گیا، جبکہ شاہ شجاع کے مطابق ان سے دباؤ کے ذریعے لیا گیا۔ گریفن کے مطابق یہ ہیرا 1849ء تک لاہور میں رہا۔

لاہور کی یادگاریں

امپیریل گزیٹیئر کے مطابق رنجیت سنگھ کے دور میں لاہور ایک بار پھر ایک خوشحال ریاست کا مرکز بنا۔ انہوں نے شالامار باغ کی مرمت کروائی اور لاہور کے شاہی قلعے اور بادشاہی مسجد کے درمیان کھلی جگہ، یعنی آج کے حضوری باغ، میں ایک خوبصورت بارہ دری تعمیر کروائی، جسے گزیٹیئر نے "واقعی خوبصورت" قرار دیا ہے۔

اندرون شہر کے شمالی سرے پر بادشاہی مسجد اور شاہی قلعے کے پہلو میں رنجیت سنگھ کی سمادھی ہے، جس کی گول چھت اور باہر نکلی ہوئی بالکونیاں دور سے نظر آتی ہیں۔ گزیٹیئر کے مطابق یہ عمارت ہندو اور مسلم طرزِ تعمیر کا امتزاج ہے اور سکھ دور کی آخری تعمیرات میں شمار ہوتی ہے۔ ان کی راکھ کا ایک حصہ گوجرانوالہ میں بھی ایک گنبد کے نیچے محفوظ ہے، جہاں ان کے والد مہان سنگھ کا مقبرہ بھی ہے۔

آخری ایام

گریفن کے مطابق 1834ء میں رنجیت سنگھ پر فالج کا حملہ ہوا اور 1838ء میں دوسرا حملہ ہوا۔ آخری بیماری کے دوران فقیر عزیز الدین ان کے معالج کے طور پر مسلسل ان کے ساتھ رہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کھڑک سنگھ کو جانشین مقرر کیا اور 27 جون 1839ء کو لاہور میں انتقال کر گئے۔

ان کی وفات کے بعد کے برس، گریفن کے الفاظ میں، "طوفان اور انتشار" کا دور تھے، جن میں تخت کئی بار بدلا۔ امپیریل گزیٹیئر کے مطابق دوسری اینگلو سکھ جنگ کے اختتام پر 29 مارچ 1849ء کو کم سن مہاراجہ دلیپ سنگھ نے حکومت انگریزوں کے حوالے کر دی۔

رنجیت سنگھ کے بعد ان کی ریاست دس برس بھی قائم نہ رہ سکی، مگر حضوری باغ کی بارہ دری اور شاہی قلعے کے پہلو میں کھڑی سمادھی آج بھی لاہور کی تاریخ کے اس باب کی گواہ ہیں۔

ماخذ

  1. Sir Lepel Griffin, Ranjit Singh (Rulers of India series, ed. W. W. Hunter), Clarendon Press, Oxford, 1898. https://archive.org/details/ranjit-singh
  2. Government of Punjab, Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Punjab, vol. II (The Lahore, Rawalpindi and Multan Divisions; and Native States), Superintendent of Government Printing, Calcutta, 1908 (entries: Lahore District, Lahore City, Gujranwala Town, Maler Kotla State). https://archive.org/details/dli.csl.2922
  3. Wikipedia, "Ranjit Singh" (pointer only: exact birth date, 1801 coronation, views of later historians on revenue administration, date of Peshawar's occupation). https://en.wikipedia.org/wiki/Ranjit_Singh
  4. "Lahore Fort", Wikipedia (pointer only, fact-check 20 Oct 2026: the Fort, Badshahi Mosque and Samadhi stand at the northern end of the Walled City). https://en.wikipedia.org/wiki/Lahore_Fort

حکمران اور سلاطین: تمام تحریریں ←