فیرنس پشکاش: ہنگری کا سرپٹ دوڑتا میجر
فیرنس پشکاش (Ferenc Puskás) 1950 کی دہائی کی اس ہنگری ٹیم کے کپتان تھے جسے "میجیکل میگیارز" یعنی "جادوئی ہنگیرین" کہا گیا [3]۔ ان کے بائیں پاؤں کی شاٹ اور گول کرنے کی مسلسل صلاحیت اتنی مشہور ہوئی کہ 2009…

فیرنس پشکاش (Ferenc Puskás) 1950 کی دہائی کی اس ہنگری ٹیم کے کپتان تھے جسے "میجیکل میگیارز" یعنی "جادوئی ہنگیرین" کہا گیا3۔ ان کے بائیں پاؤں کی شاٹ اور گول کرنے کی مسلسل صلاحیت اتنی مشہور ہوئی کہ 2009 میں فیفا نے سال کے سب سے خوبصورت گول کا ایوارڈ انہی کے نام سے شروع کیا5۔ ہنگری کے بعد انہوں نے اکتیس برس کی عمر میں ریال میڈرڈ میں دوسرا شاندار کیریئر بنایا اور تین یورپی کپ جیتے6۔
ابتدائی زندگی اور آغاز
پشکاش یکم اپریل 1927 کو بوداپیسٹ میں پیدا ہوئے اور قریبی علاقے کیسپیسٹ میں پلے بڑھے۔ ان کے والد مقامی کلب کیسپیسٹ کے کوچ تھے، جہاں پشکاش نے بچپن میں کھیلنا شروع کیا۔ نومبر 1943 میں انہوں نے کیسپیسٹ کی سینئر ٹیم کے لیے پہلا میچ کھیلا6۔
کلب کیریئر
1949 میں کیسپیسٹ کو ہنگری کی وزارت دفاع نے سنبھال لیا اور اس کا نام بوداپیسٹ ہونویڈ (Budapest Honvéd) رکھا گیا۔ کھلاڑیوں کو فوجی عہدے دیے گئے؛ پشکاش میجر بنے، اور یہیں سے ان کا لقب "سرپٹ دوڑتا میجر" پڑا۔ ہونویڈ کے ساتھ انہوں نے ہنگری کی لیگ پانچ بار جیتی اور چار بار لیگ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی رہے6۔
1956 کے آخر میں ہونویڈ یورپی کپ کھیلنے ملک سے باہر تھی کہ ہنگری میں بغاوت ہوئی جسے سوویت فوج نے کچل دیا۔ پشکاش نے ہنگری واپس نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد ان پر دو سال کی پابندی لگی، اور وہ اتنا عرصہ باقاعدہ مقابلوں سے دور رہے67۔
1958 میں، اکتیس برس کی عمر میں، وہ ریال میڈرڈ (Real Madrid) میں شامل ہوئے۔ ہسپانوی لیگ میں انہوں نے 180 میچوں میں 156 گول کیے اور چار بار لیگ کے ٹاپ اسکورر رہے۔ ریال نے 1961 سے 1965 تک لگاتار پانچ لیگ ٹائٹل جیتے6۔
یورپی کپ میں ان کا سب سے یادگار دن 1960 کا فائنل تھا، جب گلاسگو میں ریال نے آئنٹراخٹ فرینکفرٹ کو 7–3 سے ہرایا؛ پشکاش نے چار اور ڈی اسٹیفانو نے تین گول کیے۔ اسی سال پہلے انٹرکانٹی نینٹل کپ کے فائنل میں پینارول کے خلاف 5–1 کی جیت میں پشکاش نے دو گول کیے4۔ 1962 کے یورپی کپ فائنل میں انہوں نے ہیٹ ٹرک کی، مگر بینفیکا 5–3 سے جیت گیا۔ ریال نے 1966 کا یورپی کپ بھی جیتا، اگرچہ وہ فائنل میں نہیں کھیلے6۔ ٹرانس مارکٹ کے مطابق ان کا آخری سرکاری میچ مئی 1966 میں تھا1۔
بین الاقوامی کیریئر
20 اگست 1945 کو آسٹریا کے خلاف پہلے ہی میچ میں انہوں نے ہنگری کے لیے گول کیا۔ 1952 کے ہیلسنکی اولمپکس میں ہنگری نے سونے کا تمغہ جیتا اور فائنل میں یوگوسلاویہ کے خلاف پہلا گول پشکاش کا تھا6۔
نومبر 1953 میں ہنگری نے ویمبلی میں انگلینڈ کو 6–3 سے ہرایا۔ فیفا کے مطابق برطانوی جزائر سے باہر کی کسی ٹیم نے پہلی بار انگلینڈ کو اس کے اپنے میدان پر شکست دی تھی، اور یہ میچ "صدی کا میچ" کہلایا3۔ پشکاش نے اس میچ میں دو گول کیے، اور بوداپیسٹ میں 7–1 سے جیتے گئے واپسی کے میچ میں بھی دو6۔
1954 کے ورلڈ کپ میں ہنگری نے جنوبی کوریا کو 9–0 سے ہرایا، جس میں پشکاش کے دو گول تھے۔ مغربی جرمنی کے خلاف 8–3 کی جیت میں ان کے ٹخنے پر چوٹ لگی اور وہ کوارٹر فائنل اور سیمی فائنل نہ کھیل سکے۔ فائنل میں وہ واپس آئے اور گول بھی کیا، مگر مغربی جرمنی نے 2–0 کے خسارے سے واپسی کر کے میچ 3–2 سے جیت لیا۔ اس ٹورنامنٹ میں ہنگری کے 27 گول آج بھی کسی ایک ورلڈ کپ میں کسی ٹیم کا ریکارڈ ہیں3۔
ہسپانوی شہریت کے بعد وہ اسپین کے لیے چار میچ کھیلے، تین 1962 کے ورلڈ کپ میں6۔
کھیل کا انداز
پشکاش بنیادی طور پر بائیں پاؤں کے کھلاڑی تھے۔ ان کا پہلا ٹچ اور گیند پر قابو غیر معمولی تھا، اور وہ تیز، درست پاس دیتے تھے۔ وہ جسم کی حرکت سے مخالف کو غلط سمت میں بھیج دیتے۔ ان کی بائیں پاؤں کی شاٹ تیس پینتیس میٹر سے بھی گول تک پہنچ جاتی، اور وہ فری کک کے ماہر تھے6۔
اعداد و شمار
| ٹیم | سال | میچ | گول |
|---|---|---|---|
| کیسپیسٹ / ہونویڈ | 1943–1956 | 7 (نامکمل) | 4 (نامکمل) |
| ریال میڈرڈ | 1958–1966 | 262 | 242 |
| کلب (کل، صرف ریکارڈ شدہ میچ) | 1943–1966 | 269 | 246 |
| ہنگری | 1945–1956 | 80 | 80 |
| اسپین | 1961–1962 | 4 | 0 |
یہ اعداد و شمار ٹرانس مارکٹ کے میچ بہ میچ ریکارڈ (سرکاری میچ) سے 18 اکتوبر 2026 کو لیے گئے ہیں1؛ ہنگری کی لیگ 1943–1956 کے میچ اس ریکارڈ میں شامل نہیں، اس لیے ہونویڈ کا اندراج اور کلب کا مجموعہ نامکمل ہیں۔ ٹرانس مارکٹ 1952 کی اولمپک ٹیم کے 5 میچ اور 4 گول الگ درج کرتا ہے؛ انہیں ملا کر ہنگری کے لیے ان کے 85 میچ اور 84 گول بنتے ہیں26۔
اعزازات
- اولمپک طلائی تمغہ: 1952 [6]
- ورلڈ کپ: رنر اپ 1954 [3]
- یورپی کپ: 1959، 1960، 1966 [6]
- انٹرکانٹی نینٹل کپ: 1960 [4]
- ہسپانوی لیگ: 5 بار (1961–1965) [6]
- ہنگری کی لیگ: 5 بار [6]
ورثہ
ہر سال دیا جانے والا فیفا پشکاش ایوارڈ ان کا نام زندہ رکھے ہوئے ہے5۔ 2002 میں بوداپیسٹ کا قومی اسٹیڈیم ان کے نام سے منسوب کیا گیا۔ کھیل چھوڑنے کے بعد وہ کوچ بنے اور 1971 میں یونان کے کلب پیناتھینائیکوس کو یورپی کپ کے فائنل تک لے گئے؛ 17 نومبر 2006 کو ان کا انتقال ہوا6۔
ماخذ
- Transfermarkt, "Ferenc Puskás – Stats by club" (match-by-match record, accessed 18 October 2026). https://www.transfermarkt.com/ferenc-puskas/leistungsdatenverein/spieler/103092
- Transfermarkt, "Ferenc Puskás – National team career" (accessed 18 October 2026). https://www.transfermarkt.com/ferenc-puskas/nationalmannschaft/spieler/103092
- FIFA, "Magical Magyars' incredible goal haul" (16 December 2024). https://www.fifa.com/en/articles/hungary-most-goals-in-one-edition
- FIFA, "Every Real Madrid FIFA club competition final" (18 December 2024). https://www.fifa.com/en/articles/real-madrid-finals-tournaments
- FIFA, "The Best: Watch every FIFA Puskás Award winner" (15 December 2024). https://www.fifa.com/en/articles/watch-every-puskas-award-winner
- Wikipedia, "Ferenc Puskás" (accessed 18 October 2026). https://en.wikipedia.org/wiki/Ferenc_Pusk%C3%A1s
- Olympedia, "Ferenc Puskás" (biography: 1956 revolt, decision not to return, two-year ban). https://www.olympedia.org/athletes/25748






