رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
باب 7 حصہ اول، قدیم بلوچستان

موریا، یونانی باختری اور کشان

سکندرِ اعظم 323 قبل مسیح میں مر گیا۔ اس کے بعد تقریباً پانچ سو برس تک بلوچستان کے بارے میں ہمارے پاس کوئی ایسی تفصیلی تحریر نہیں جیسی پچھلے باب میں سکندر کے مکران والے سفر کی ملتی ہے۔ مگر…

موریا، یونانی باختری اور کشان
علامتی تصویر

سکندرِ اعظم 323 قبل مسیح میں مر گیا۔ اس کے بعد تقریباً پانچ سو برس تک بلوچستان کے بارے میں ہمارے پاس کوئی ایسی تفصیلی تحریر نہیں جیسی پچھلے باب میں سکندر کے مکران والے سفر کی ملتی ہے۔ مگر یہ صدیاں خالی نہیں تھیں۔ شمال میں قندھار، مشرق میں سندھ اور پنجاب اور مغرب میں سیستان ایک کے بعد ایک بڑی سلطنتوں کے ہاتھ میں آئے: موریا، یونانی باختری، ساکا، ہند پارتھی اور کشان۔ بلوچستان ان سب کا کنارہ تھا۔ یہ باب بتاتا ہے کہ ان کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں، اور بلوچستان کی زمین سے اس دور کا کیا ثبوت ملا ہے۔

سلوکس اور چندر گپت: پانچ سو ہاتھیوں کا سودا

سکندر کے مشرقی علاقے اس کے سپہ سالار سلوکس کے حصے میں آئے۔ رومی مورخ اپیان لکھتا ہے کہ سلوکس نے دریائے سندھ پار کیا اور ہندوستانی بادشاہ اندروکوٹس سے جنگ کی، یہاں تک کہ دونوں میں سمجھوتہ اور رشتہ داری ہو گئی۔ یہ اندروکوٹس، جسے سٹرابو سندروکوٹس لکھتا ہے، وہی چندر گپت موریا ہے جس نے موریا سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔

یونانی جغرافیہ دان سٹرابو تفصیل بتاتا ہے: دریائے سندھ کے کنارے کے علاقے، جن میں پاروپامیساڈے (کابل کے گرد)، اراکوسیا (قندھار کا علاقہ) اور گیدروسینی (مکران) کے لوگ شامل تھے، سلوکس نے رشتہ داری کی شرط اور پانچ سو ہاتھیوں کے بدلے سندروکوٹس کو دے دیے۔ ہندوستانی ماہرِ کتبات ڈی سی سرکار کے مطابق یہ معاہدہ تقریباً 305 قبل مسیح کا ہے، اور اس میں افغانستان اور بلوچستان کے بڑے علاقے چندر گپت کو ملے۔

یعنی کاغذ پر مکران اور قندھار موریا سلطنت کا حصہ بن گئے۔ مگر یہ معاہدہ ہمیں صرف یونانی اور رومی مصنفین سے معلوم ہے؛ مکران کی زمین پر موریا دور کا کوئی ثبوت اب تک سامنے نہیں آیا۔

اشوک کی آواز قندھار میں

ثبوت شمال سے ملا۔ چندر گپت کا پوتا اشوک، جس کا دورِ حکومت سرکار کے مطابق تقریباً 272 تا 232 قبل مسیح ہے، اپنے فرمان چٹانوں اور ستونوں پر کھدواتا تھا۔ یہ فرمان ہندوستان، نیپال، پاکستان اور افغانستان میں کئی مقامات پر ملے ہیں۔ قندھار کے قریب شاری کونہ کے مقام پر ایک چٹان سے اشوک کا ایک فرمان ملا جو دو زبانوں میں تھا: یونانی اور آرامی۔ سرکار نے 1967ء میں لکھا کہ اسی علاقے سے ایک اور فرمان ملنے کی خبر بھی آئی ہے۔

بعد کا یونانی مصنف اسیدور اراکوسیا کے صدر شہر اسکندروپولس کو، جسے اس کا مترجم شوف آج کا قندھار مانتا ہے، "یونانی" شہر کہتا ہے؛ اشوک نے یہاں کے یونانیوں سے ان کی زبان میں بات کی۔ فرمان میں وہ اپنے اخلاقی اصولوں کی تبلیغ کرتا ہے، جن میں جان نہ لینا اور ماں باپ اور بزرگوں کا خیال رکھنا شامل ہے۔ اپنے تیرہویں چٹانی فرمان میں بھی اشوک یونانی بادشاہ انطیوکس کا نام لیتا ہے؛ موریا دربار یونانی دنیا سے واقف تھا۔

قندھار بلوچستان کی سرحد کے قریب ہے، اور یہ فرمان اس بات کا سب سے ٹھوس ثبوت ہیں کہ موریا حکومت بلوچستان کے شمالی کنارے تک پہنچی تھی۔ مگر ان کی نوعیت پر بحث ہوئی ہے: کتبے کے ناشرین میں سے جی لیوی دیلا ویدا کے مطابق آرامی متن یونانی کا ترجمہ نہیں بلکہ دونوں ایک مشترکہ اصل سے نکلے، اور مورخ ڈی ڈی کوسامبی کے خیال میں یہ فرمان خاص اسی سرحدی علاقے کے لیے لکھا گیا تھا۔

باختر کے یونانی

موریا سلطنت کے شمال میں، آج کے شمالی افغانستان یعنی باختر میں، سلوکی سلطنت کے یونانی گورنروں نے بغاوت کر کے اپنی بادشاہت قائم کر لی۔ رومی مصنف جسٹن لکھتا ہے کہ باختر کے "ہزار شہروں" کا گورنر تھیوڈوٹس باغی ہو کر بادشاہ بن گیا۔ یہ یونانی باختری بادشاہ پھر جنوب کی طرف بڑھے۔ سٹرابو کے بقول انھوں نے سکندر سے زیادہ قبائل فتح کیے، خاص طور پر میناندر نے، اور دریائے سندھ کے دہانے کا علاقہ بھی ان کے قبضے میں آیا۔ انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا کے مطابق باختر کے بادشاہ یوتھیدیمس کے بیٹے دیمیتریس نے ہندوستان میں بڑی فتوحات کیں؛ جسٹن اسے "ہندوستانیوں کا بادشاہ" کہتا ہے۔ تقریباً 175 قبل مسیح میں ایک حریف یوکراتیدیس باختر میں ابھرا اور دیمیتریس اس سے شکست کھا کر غالباً مارا گیا۔

ان بادشاہوں کے بارے میں ہم جو جانتے ہیں وہ زیادہ تر سکوں سے ہے؛ ایرانیکا میں ان کے فوراً بعد کے ساکا دور کا مقالہ نگار صاف کہتا ہے کہ اس دور کی تاریخ کے لیے سکوں کے تجزیے کے سوا بہت کم کچھ بچا ہے۔ بلوچستان میں یونانی باختری یا ہند یونانی حکومت کا کوئی کتبہ یا عمارت ہمارے علم میں نہیں۔

ساکا اور ہند پارتھی

دوسری صدی قبل مسیح کے آخر میں وسطی ایشیا سے ساکا قبائل جنوب کی طرف آئے۔ ایرانیکا کے مطابق ماؤیس ہندوستان کا پہلا ساکا بادشاہ تھا، اور آخری ساکا بادشاہ آزیس دوم 6 عیسوی میں بھی اراکوسیا اور پنجاب پر حکومت کر رہا تھا۔ اسی دور کا یونانی مصنف اسیدور، جو ایران سے ہندوستان کے راستے کی منزلیں بیان کرتا ہے، اراکوسیا کے بارے میں لکھتا ہے کہ پارتھی اسے "سفید ہندوستان" کہتے ہیں۔

ساکا کے بعد ہند پارتھی آئے۔ ان کا سب سے مشہور بادشاہ گوندوفرنیس تھا جس نے ایرانیکا کے مطابق تقریباً 20 سے 46 عیسوی تک سیستان، اراکوسیا اور خاص طور پر پنجاب پر حکومت کی؛ اس کی تاریخ تختِ بہائی کے ایک کتبے سے طے ہوتی ہے۔ ہند پارتھی سکے قندھار اور بیگرام کی ٹکسالوں سے نکلتے تھے اور ان کی حکومت سیستان سے سندھ تک پھیلی تھی۔ یعنی بلوچستان کے شمال، مغرب اور مشرق، تینوں طرف ایک ہی حکومت تھی، مگر بلوچستان کے اندر اس کا کوئی نشان نہیں ملا۔

کشان: وسطی ایشیا سے گندھارا تک

کشانوں کی کہانی چین کی سرحد سے شروع ہوتی ہے۔ چینی تاریخوں کے مطابق یوئے چی نامی قبائل کو 176 قبل مسیح میں شیونگ نو قبائل نے شکست دی اور وہ مغرب کی طرف ہجرت کر کے باختر میں آباد ہوئے۔ ان ہی کے ایک حصے، کشانوں، کے سردار کجولا کدفیسس نے پہلی صدی عیسوی میں پوری قبائلی وفاق پر حکومت قائم کی۔ رباطک سے ملنے والے باختری زبان کے کتبے نے سب سے مشہور کشان بادشاہ کنشک کا شجرہ دے دیا: کجولا کدفیسس اس کا پردادا اور ویما تکتو اس کا دادا تھا؛ کنشک سے پہلے ویما کدفیسس کا دور آیا۔

کنشک کی تاریخ پر ماہرین ایک صدی سے بحث کر رہے ہیں؛ ایرانیکا کے مطابق اب یہ مسئلہ حل کے قریب ہے اور کنشک کا سنہ 127 یا 128 عیسوی سے شروع ہوتا ہے۔ کشان سلطنت وسطی ایشیا اور شمالی ہندوستان کی بڑی طاقت تھی۔ اس دور میں بدھ خانقاہوں اور استوپوں کی تعمیر بڑھی اور گندھارا کا وہ فن پروان چڑھا جس میں بدھا کو انسانی صورت میں کلاسیکی طرز کے لباس میں دکھایا گیا۔ تیسری صدی میں ساسانی بادشاہ شاپور اول نے اپنے کتبے میں دعویٰ کیا کہ "کشان شہر" اس کے قبضے میں ہے؛ وہ کہانی اگلے باب کی ہے۔

بلوچستان کی زمین کیا کہتی ہے؟

اس پورے دور کا سب سے اہم ثبوت بلوچستان کے شمال مشرق، لورالائی اور دُکی کے علاقے سے ملا ہے۔ 1926ء اور 1927ء کے موسمِ سرما میں سر اورل سٹائن نے دریائے تھل کے کنارے تور ڈھیرائی نامی ٹیلے پر ایک بدھ عبادت گاہ کی کھدائی کی۔ انھیں تراشے ہوئے پتھروں کا ایک چبوترا ملا جس کی شمالی دیوار 47 فٹ اور مشرقی دیوار 54 فٹ تک ملی، اور جس کی سجاوٹ گندھارا کے استوپوں جیسی تھی۔ استوپے کے بیچ سے ہڈیوں کے ٹکڑوں والا مٹی کا ایک صندوقچہ ملا، اور پچاس کے قریب ٹوٹے برتنوں کے ٹکڑے جن پر خروشٹی اور براہمی رسمِ خط میں تحریر تھی۔

ماہرِ کتبات سٹین کونو نے 1929ء میں ان ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک تحریر پڑھی: یہ "شاہی یولا میرا" نامی شخص کی طرف سے بدھ بھکشوؤں کے لیے ایک "پانی گھر" کا وقف تھا، یعنی مسافروں کے لیے پانی کی سبیل۔ کونو کا خیال تھا کہ یہ شخص کشانوں کا کوئی مقامی ماتحت حاکم تھا اور تحریر کشان بادشاہ واسودیو کے زمانے یا اس کے بعد کی ہے۔ 2012ء میں بوسٹن یونیورسٹی کے پنکج ٹنڈن نے دکھایا کہ یولا میرا دراصل ایک مقامی خاندان "پاراتا راجا" کا پہلا سکہ جاری کرنے والا بادشاہ تھا، جس کا زمانہ تقریباً 125 تا 150 عیسوی ہے۔ ان بادشاہوں کے سکے لورالائی کے گرد ملنے کی اطلاعات بار بار آئی ہیں، اور یہ خاندان تقریباً 300 عیسوی تک چلا؛ اس کے آخری بادشاہ کے سکے کشانو ساسانی بادشاہ ہرمزد اول کے سکوں پر دوبارہ ٹھپے لگا کر بنائے گئے۔ یعنی کشان دور میں بلوچستان کے اس حصے میں ایک مقامی بدھ حکمران خاندان موجود تھا۔

2020ء میں ہزارہ یونیورسٹی کے ماہرین محمد ظاہر اور محمد ادریس خان نے لورالائی کی تحصیل بوری کا باقاعدہ سروے کیا اور 26 آثاری مقامات ریکارڈ کیے جن میں سے بارہ پر ابتدائی تاریخی یا بدھ دور کے آثار تھے۔ ان کا نتیجہ یہ ہے کہ بلوچستان میں بدھ مت کی آمد، ترقی اور زوال کے بارے میں "عملاً کوئی معلومات نہیں" اور صوبے میں آثاری تحقیق "زیادہ سے زیادہ بے ترتیب" رہی ہے۔ یہ باب اسی اعتراف پر ختم ہوتا ہے: اس دور کے بارے میں ہم جو جانتے ہیں وہ قندھار، گندھارا اور سندھ کے ثبوتوں سے جانتے ہیں۔ بلوچستان کے اندر لورالائی کا تور ڈھیرائی اس دور کی اکیلی روشن کھڑکی ہے، اور وہ بھی ایک صدی سے بند پڑی ہے۔

اگلے اتوار: ساسانی دور: توران اور مکران، جب ایران کی نئی سلطنت نے بلوچستان کو اپنے صوبوں میں شمار کیا۔

ماخذ

  1. Appian, Syrian Wars 55 (Seleucus "crossed the Indus and waged war with Androcottus, king of the Indians … until they came to an understanding with each other and contracted a marriage relationship"), in Appian's Roman History, translated by Horace White, Loeb Classical Library, vol. II, 1912, p. 209. https://archive.org/details/appiansromanhist0002hora_s7t8/page/n220
  2. Strabo, Geography 15.2.9 (the Paropamisadae, Arachoti and Gedroseni; "Seleucus Nicator gave them to Sandrocottus, upon terms of intermarriage and of receiving in exchange five hundred elephants"), Loeb Classical Library vol. VII, 1930, p. 143, and 11.11.1 (the Greeks of Bactria, Menander and "Demetrius, the son of Euthydemus the king of the Bactrians"; Patalena), Loeb vol. V, 1928, pp. 279–281, translated by H. L. Jones. https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.57231/page/n153 · https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.57229/page/n285
  3. D. C. Sircar, Inscriptions of Asoka, revised edition, Publications Division, Government of India, Delhi, 1967: Chandragupta founder of the dynasty, Seleucus repulsed "About 305 B.C." and areas of Afghanistan and Baluchistan ceded, Bindusara and Ashoka (c. 272–232 B.C.), the Kandahar edicts, pp. 13–14; Antiyoka = Antiochus II, p. 17; the bilingual Greek–Aramaic edict at Shar-i-Kuna near Kandahar and "another edict of the same type", rocks and pillars, Mansehra and Shahbazgarhi, pp. 29–30; the pillars in the Nepalese Tarai, p. 35; Rock Edict XIII, p. 58. https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.53393/page/n19 · https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.53393/page/n36
  4. D. D. Kosambi, "Notes on the Kandahar Edict of Asoka", Miscellanea, pp. 204–205 (on the edition by G. Pugliese Carratelli and G. Levi Della Vida; "the Aramaic is not a translation of the Greek, but … both derive from a common source"; "The edict was composed specially for the frontier region"; non-killing and attentiveness to parents and elders). Journal offprint on archive.org. https://archive.org/details/notes-on-the-kandahar-edict-of-asoka-d.-d.-kosambi
  5. Justin, Cornelius Nepos, and Eutropius, literally translated by J. S. Watson, Bohn's Classical Library, London, 1853: Justin 41.4 ("Theodotus, governor of the thousand cities of Bactria, revolted, and assumed the title of king"), p. 275; 41.6 ("Demetrius king of the Indians"), p. 277. https://archive.org/details/justincorneliusn00watsuoft/page/n296
  6. A. D. H. Bivar, "Demetrius", Encyclopaedia Iranica VII/3, p. 257, 15 December 1994 (son of Euthydemus I; campaigns in India; Eucratides "around 175 B.C.E."; Demetrius "defeated, and apparently slain"; Justin 41.6 calls him king of India). https://www.iranicaonline.org/articles/demetrius
  7. Robert C. Senior, "Indo-Scythian Dynasty", Encyclopaedia Iranica, 20 July 2005 (Maues "the first (Indo-)Scythian king of India"; "With so little else revealing the history of this period, it is left to an analysis of the surviving numismatic material"). https://www.iranicaonline.org/articles/indo-scythian-dynasty
  8. Isidore of Charax, Parthian Stations 18–19 ("Sacastana of the Scythian Sacae"; Arachosia, "the Parthians call this White India"; Alexandropolis, "the metropolis of Arachosia; it is Greek"), translated by Wilfred H. Schoff, Philadelphia, 1914, p. 9; Schoff's note identifying Alexandropolis with "the modern Kandahar", p. 34. https://archive.org/details/schoff-1914-parthian-stations-isidore-charax/page/n11
  9. A. D. H. Bivar, "Gondophares", Encyclopaedia Iranica XI/2, pp. 135–136, 2002 (Gondophares 20–46 CE in Drangiana, Arachosia and especially the Punjab; the Takht-i Bahi inscription), and Christine Fröhlich, "Indo-Parthian Dynasty", Encyclopaedia Iranica XIII/1, pp. 100–103, 2004 (rule "from Seistan … to Sindh"; Arachosian mints in the Kandahar area and the Begram region). https://www.iranicaonline.org/articles/gondophares · https://www.iranicaonline.org/articles/indo-parthian-dynasty
  10. A. D. H. Bivar, "Kushan Dynasty i. Dynastic History", Encyclopaedia Iranica, 15 July 2009 (the Yuezhi defeated by the Xiong-nu in 176 BCE and their migration west; Azes II in Arachosia and the Punjab in 6 CE; Kujula and the Tochari confederacy; the Rabatak genealogy; Vima Kadphises; Buddhist monuments and Gandhara sculpture "characterized by the human Buddha figure with classical draperies"; Shapur I's claim to Kušān-šahr; the era of Kanishka beginning 127/8 CE). https://www.iranicaonline.org/articles/kushan-dynasty-i-history
  11. Pankaj Tandon, "The Location and Kings of Pāradān", Studia Iranica 41 (2012), pp. 25–56 (coins reported repeatedly around Loralai, dynasty c. 125–300 CE, p. 27; Stein's potsherds of 1926–27 and Konow's reading, p. 31; Yolamira "the first to issue coins … dated to c. 125-150 CE", p. 32; overstrikes of Datayola II on Hormizd I, p. 35). Scan: https://archive.org/details/Tandon2012TheLocationAndKingsOfParadan/page/n6
  12. Muhammad Zahir and Muhammad Adris Khan, "Tracking the Kingdom of Paradan in Balochistan Through Contextualization of the Early Historic/Buddhist Material Culture from Systematic Archaeological Survey at District Loralai, Pakistan", Sindh Antiquities (Culture, Tourism, Antiquities and Archives Department, Government of Sindh) vol. 6 no. 1 (2020), pp. 25 ff. (26 sites, 13 multi-period, all but one with early historic/Buddhist material, and research "sporadic at best", p. 25; Tor Dherai, the 47 x 54 ft platform and Gandharan parallels, pp. 26–27; the relic casket citing Stein 1929, pp. 66–67, Konow's views and the prapa "for travellers", p. 27; "practically no information" and the century of neglect, p. 40). Journal PDF: https://www.saj.sindhculture.gov.pk/images/SAJ/Vol6No12020/03_Tracking_the_Kingdom_of.pdf · scan: https://archive.org/details/sindh-antiquities-volume-6-no-01/page/n27
  13. Sten Konow (ed.), Kharoshthi Inscriptions with the Exception of those of Aśoka, Corpus Inscriptionum Indicarum vol. II part I, Government of India Central Publication Branch, Calcutta, 1929 (Yola Mira "to belong to the time of Vasudeva or even later", p. lxxxii; the Tor Dherai potsherds, about fifty, five in Brahmi, pp. 173–176; prapa "a place or hall for providing water"; Yola Mira "a local governor or chief, probably under Kushana suzerainty", p. 175; translation, p. 176). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.53483/page/n377
  14. Aurel Stein, An Archaeological Tour in Waziristan and Northern Baluchistan, Memoirs of the Archaeological Survey of India no. 37, Calcutta, 1929 (Tor-dherai "above the left bank of the Thal river", p. 64; the base, north side "47 feet" and east side "54 feet", mouldings and pilasters, p. 65). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.35549/page/n69

بلوچستان: تاریخ کا سفر: تمام تحریریں ←