رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید

لیف ایرکسن اور “ون لینڈ”: کولمبس سے پانچ سو برس پہلے امریکہ کا ساحل

ہم اسکول میں پڑھتے ہیں کہ امریکہ 1492ء میں کولمبس نے "دریافت" کیا۔ مگر کینیڈا کے جزیرے نیو فاؤنڈ لینڈ کے شمالی سرے پر گھاس سے ڈھکے چند ٹیلے ایک اور کہانی سناتے ہیں۔ وہاں سے ملی لکڑی کے تین…

لیف ایرکسن اور “ون لینڈ”: کولمبس سے پانچ سو برس پہلے امریکہ کا ساحل
علامتی تصویر

ہم اسکول میں پڑھتے ہیں کہ امریکہ 1492ء میں کولمبس نے "دریافت" کیا۔ مگر کینیڈا کے جزیرے نیو فاؤنڈ لینڈ کے شمالی سرے پر گھاس سے ڈھکے چند ٹیلے ایک اور کہانی سناتے ہیں۔ وہاں سے ملی لکڑی کے تین ٹکڑوں نے 2021ء میں سائنس دانوں کو بتایا کہ یورپی ملاح ٹھیک 1021ء میں اس ساحل پر درخت کاٹ رہے تھے۔ یہ لوگ شمالی یورپ کے وائکنگ (Vikings) تھے، اور ان کی کہانیوں کا ہیرو ایرک سرخ نامی سردار کا بیٹا تھا: لیف ایرکسن (Leif Erikson)۔

ایک بے چین خاندان

ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق لیف غالباً 970ء اور 980ء کے درمیان آئس لینڈ میں پیدا ہوا۔ اس کے والد ایرک دی ریڈ (Erik the Red) کو قتل کے مقدمات کے بعد آئس لینڈ سے جلا وطن کیا گیا تو وہ مغرب کی طرف سمندر میں نکلا اور گرین لینڈ جا پہنچا۔ تقریباً 985ء میں اس نے وہاں نارس (Norse) لوگوں کی پہلی بستی بسائی اور اپنا فارم "براٹاہلیڈ" (Brattahlíð) قائم کیا۔ لیف اسی نئی اور سخت سرزمین میں بڑا ہوا جہاں چند سو آبادکار مویشی پال کر گزارا کرتے تھے۔

اس کی زندگی کے بارے میں جو کچھ ہم جانتے ہیں وہ زیادہ تر دو آئس لینڈی داستانوں سے آتا ہے: "گرین لینڈ والوں کی داستان" (Saga of the Greenlanders) اور "ایرک سرخ کی داستان" (Erik the Red's Saga)۔ انہیں مل کر "ون لینڈ کی داستانیں" کہا جاتا ہے۔ یہ تیرہویں صدی میں، یعنی واقعات کے دو سو برس سے زیادہ بعد لکھی گئیں اور عینی شاہدوں کا بیان نہیں۔ پھر بھی مؤرخ مانتے ہیں کہ زبانی روایت کے ذریعے ان میں حقیقی لوگوں اور واقعات کی یاد محفوظ رہی۔

داستان کا سفر: پتھر، جنگل اور انگور

گرین لینڈ والوں کی داستان کے مطابق ایک ملاح بیارنی ہیرولفسن (Bjarni Herjólfsson) طوفان میں راستہ بھٹک کر ایک انجانی زمین کے پاس سے گزرا تھا مگر ساحل پر نہیں اترا۔ لیف نے اس سے جہاز خریدا اور پینتیس آدمیوں کا عملہ جمع کیا۔ داستان کہتی ہے کہ بوڑھا ایرک بھی ساتھ جانے کو نکلا مگر راستے میں گھوڑے سے گر کر گھر لوٹ گیا۔

لیف کا جہاز پہلے ایک ایسے ساحل پر پہنچا جہاں گھاس نہ تھی، اندر برف کے پہاڑ تھے اور سمندر سے پہاڑوں تک چپٹی چٹانیں۔ لیف نے اسے "ہیلولینڈ" (Helluland) یعنی "پتھریلی سلوں کی زمین" کا نام دیا۔ دوسری زمین ہموار اور جنگلوں سے ڈھکی تھی، ساحل پر سفید ریت کے میدان؛ اس کا نام "مارک لینڈ" (Markland) یعنی "جنگل کی زمین" رکھا گیا۔ مؤرخوں کا اندازہ ہے کہ پہلی جگہ شمالی لیبراڈور یا بیفن جزیرہ اور دوسری وسطی لیبراڈور تھی۔

آخر وہ ایک سرسبز علاقے میں اترے۔ داستان کے مطابق وہاں دریا اور جھیل میں اتنی بڑی سامن مچھلی تھی جو انہوں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی، اور دن رات کی لمبائی گرین لینڈ اور آئس لینڈ کی نسبت زیادہ برابر تھی۔ انہوں نے ایک بڑا گھر بنا کر سردیاں وہیں گزاریں۔ ایک شام لیف کا بچپن کا اتالیق ٹیرکر (Tyrker)، جو عملے میں شامل تھا، گم ہو گیا۔ لوٹا تو خوشی سے بے حال تھا: اس نے انگور کی بیلیں ڈھونڈ لی تھیں۔ لیف نے بہار میں جہاز کو لکڑی اور انگوروں سے بھرا اور اسی نسبت سے اس زمین کا نام "ون لینڈ" (Vinland) یعنی "انگوروں کی زمین" رکھا۔ واپسی پر اس نے سمندر میں ایک چٹان پر پھنسے لوگوں کو بچایا، اور داستانوں کے مطابق اسی وجہ سے "خوش قسمت لیف" کہلایا۔

ایرک سرخ کی داستان میں بیارنی کا ذکر نہیں؛ اس میں خود لیف ناروے سے لوٹتے ہوئے راستہ بھٹک کر اس نئی زمین تک پہنچتا ہے جہاں خودرو گندم، انگور اور میپل کے درخت تھے۔

نیو فاؤنڈ لینڈ کے ٹیلے

صدیوں تک یہ کہانیاں محض کہانیاں سمجھی گئیں۔ پھر 1960ء میں ناروے کے سیاح ہیلگے انگسٹاڈ (Helge Ingstad) کو لانس او میڈوز (L'Anse aux Meadows) نامی ماہی گیروں کی بستی کے قریب ایک مقامی باشندے جارج ڈیکر (George Decker) نے گھاس سے ڈھکے ٹیلے دکھائے۔ ان کی اہلیہ، ماہرِ آثار این اسٹائن انگسٹاڈ (Anne Stine Ingstad) نے 1961ء سے 1968ء تک وہاں کھدائی کی۔

کھدائی میں گھاس اور مٹی کی دیواروں والی آٹھ عمارتیں ملیں: کئی کمروں والے بڑے ہال اور ان کے ساتھ چھوٹی جھونپڑیاں۔ ایک عمارت میں لوہار کی بھٹی تھی، دوسری میں بڑھئی کا کارخانہ، اور کشتیوں کی مرمت کی جگہ بھی تھی۔ پتھر کا ایک تکلا (spindle whorl) بتاتا ہے کہ چند عورتیں بھی ساتھ تھیں۔ سب سے دلچسپ چیز "بٹرنٹ" (butternut) نامی اخروٹ کے چھلکے تھے، جو اس علاقے میں نہیں اگتے بلکہ کہیں جنوب میں خلیج سینٹ لارنس کے آس پاس ملتے ہیں۔ گویا یہاں رہنے والے مزید جنوب تک بھی گئے۔

ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اس بستی میں ستر سے نوے افراد رہ سکتے تھے اور یہ غالباً دس برس سے کم آباد رہی۔ یہ ایک اڈا تھا جہاں عملے سردیاں گزارتے اور گرمیوں میں لکڑی، کھالیں اور انگور جمع کرنے نکلتے۔ گرین لینڈ سے تین ہزار کلومیٹر سے زیادہ کی دوری، کم آبادی اور مقامی باشندوں سے کشمکش نے آخرکار یہ مہم ترک کروا دی۔ کینیڈا نے اس جگہ کو قومی تاریخی مقام قرار دیا اور 1978ء میں یونیسکو نے اسے عالمی ورثہ کی فہرست میں شامل کیا۔

1021ء: درختوں کے چھلوں کی گواہی

مگر یہ بستی ٹھیک کس سال آباد تھی؟ پرانے ریڈیو کاربن ٹیسٹ پورے وائکنگ دور پر پھیلے ہوئے نتائج دیتے تھے۔ 2021ء میں ہالینڈ کی گرونیگن یونیورسٹی کی ماہر مارگوٹ کوئٹمز (Margot Kuitems) اور ان کے ساتھیوں نے سائنسی جریدے "نیچر" (Nature) میں ایک نیا طریقہ پیش کیا۔

993ء میں خلا سے آنے والی شعاعوں کے ایک طوفان نے فضا میں ریڈیو کاربن کی مقدار اچانک بڑھا دی تھی، اور اس سال کا نشان دنیا بھر کے درختوں کے سالانہ چھلوں میں محفوظ ہے۔ محققین نے لانس او میڈوز سے ملی لکڑی کے تین ٹکڑوں میں یہ نشان والا چھلا تلاش کیا، پھر چھال تک چھلے گنے۔ یہ ٹکڑے تین مختلف درختوں کے تھے اور ان پر دھات کے اوزار سے کٹائی کے صاف نشان تھے، جبکہ اس دور کے مقامی باشندے ایسے اوزار نہیں بناتے تھے۔ تینوں درخت ایک ہی سال، 1021ء میں کاٹے گئے تھے۔ مقالے کے مطابق یہ تاریخ امریکہ سے یورپیوں کی واقفیت کا ایک پکا نشان ہے، اور وہ پہلا معلوم لمحہ ہے جب انسانوں نے زمین کا پورا دائرہ مکمل کر لیا۔

خوش قسمت لیف کی میراث

لیف ایرکسن نے ون لینڈ کے بعد باپ کی جگہ گرین لینڈ کی سرداری سنبھالی۔ تحریری ریکارڈ میں وہ آخری بار 1019ء میں زندہ ملتا ہے اور 1025ء تک اس کا بیٹا تھورکل سردار بن چکا تھا، اس لیے اندازہ ہے کہ اس کا انتقال ان برسوں کے درمیان ہوا۔ مؤرخوں کی رائے ہے کہ لانس او میڈوز کی عمارتیں ایک بڑے سردار کی موجودگی بتاتی ہیں، اس لیے لیف کم از کم ایک مہم کا حقیقی قائد ہونے کا اچھا امیدوار ہے۔

داستانیں، کھدائی اور سائنسی تجربہ گاہ، تینوں نے مل کر ایک ہزار برس پرانا سچ سامنے رکھا؛ اور جس ساحل کو وائکنگ "نئی زمین" سمجھ رہے تھے، وہاں ان سے صدیوں پہلے انسان آباد تھے۔

ماخذ

  1. Margot Kuitems, Birgitta L. Wallace, Charles Lindsay et al., "Evidence for European presence in the Americas in AD 1021", Nature, vol. 601 (2022), pp. 388–391, published online 20 October 2021. https://www.nature.com/articles/s41586-021-03972-8
  2. Emma Groeneveld, "Leif Erikson", World History Encyclopedia, 20 September 2018. https://www.worldhistory.org/Leif_Erikson/
  3. Emma Groeneveld, "Vinland", World History Encyclopedia, 10 September 2018. https://www.worldhistory.org/Vinland/
  4. Julius E. Olson (ed.), The Northmen, Columbus and Cabot, 985–1503 (Original Narratives of Early American History), Charles Scribner's Sons, New York, 1906; contains A. M. Reeves's translations of the Vinland sagas, incl. "The Vinland History of the Flat Island Book". Project Gutenberg eBook #18571. https://www.gutenberg.org/ebooks/18571
  5. "L'Anse aux Meadows National Historic Site: Culture and history", Parks Canada (discovery in 1960, George Decker, eight buildings, spindle whorl). https://parks.canada.ca/lhn-nhs/nl/meadows/culture
  6. "L'Anse aux Meadows National Historic Site", UNESCO World Heritage Centre (inscribed 1978). https://whc.unesco.org/en/list/4
  7. "L'Anse aux Meadows", Wikipedia (pointer only). https://en.wikipedia.org/wiki/L%27Anse_aux_Meadows

مہمات: تمام تحریریں ←