ضلع قلات: خوانین کا پرانا دارالحکومت اور ہربوئی کے دامن کی وادیاں
قلات بلوچستان کے وسطی پہاڑی سلسلے کی بلند وادیوں کا ضلع ہے، اور اس کا صدر مقام وہی قلات شہر ہے جو کئی صدیوں تک خوانینِ قلات کا دارالحکومت رہا۔ انگریز دور کا گزیٹیئر قلات کو کوئٹہ سے ساڑھے اٹھاسی…

تعارف اور محلِ وقوع
قلات بلوچستان کے وسطی پہاڑی سلسلے کی بلند وادیوں کا ضلع ہے، اور اس کا صدر مقام وہی قلات شہر ہے جو کئی صدیوں تک خوانینِ قلات کا دارالحکومت رہا۔ انگریز دور کا گزیٹیئر قلات کو کوئٹہ سے ساڑھے اٹھاسی میل جنوب میں اور سطحِ سمندر سے 6,783 فٹ کی بلندی پر بتاتا ہے۔ اسی گزیٹیئر کے مطابق مقامی لوگ اسے "قلاتِ بلوچ" اور "قلاتِ سیوا" کہتے تھے؛ پہلا نام اسے افغانستان کے قلاتِ غلزئی سے الگ کرنے کے لیے اور دوسرا اس کے روایتی بانی سیوا کے نام پر۔
پاکستان ادارۂ شماریات کی 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع قلات کا رقبہ 7,654 مربع کلومیٹر اور آبادی 271,560 ہے، جس میں 138,611 مرد، 132,942 عورتیں اور 7 خواجہ سرا شامل ہیں۔ آبادی کی کثافت تقریباً 35 افراد فی مربع کلومیٹر ہے اور صرف 16.36 فیصد لوگ شہری علاقوں میں رہتے ہیں۔ ایک گھرانے میں اوسطاً 8.2 افراد ہیں۔ 2017ء میں (موجودہ حدود کے مطابق) ضلع کی آبادی 203,565 تھی، یعنی چھ برس میں سالانہ تقریباً 4.93 فیصد اضافہ ہوا۔
مردم شماری کے جدول کے مطابق ضلع چار انتظامی حصوں پر مشتمل ہے: قلات سب ڈویژن (رقبہ 3,788 مربع کلومیٹر، آبادی 167,405)، منگوچر سب ڈویژن (1,148 مربع کلومیٹر، 80,138)، جوہان سب تحصیل (1,328 مربع کلومیٹر، 15,731) اور گزگ سب تحصیل (1,390 مربع کلومیٹر، 8,286)۔
موجودہ ضلع پہلے کے مقابلے میں چھوٹا ہے۔ ادارۂ شماریات کی صوبائی مردم شماری رپورٹ 2023ء کے مطابق 2017ء کی مردم شماری کے بعد سوراب تحصیل اور اس سے ملحق علاقے قلات سے الگ کر کے ضلع سوراب بنایا گیا۔ جولائی 2026ء میں حکومتِ بلوچستان کی انتظامی تنظیمِ نو کی رپورٹوں کے مطابق قلات ڈویژن ختم کر کے ایک نئی خضدار ڈویژن بنائی گئی جس میں خضدار، قلات، سوراب اور وڈھ کے اضلاع رکھے گئے۔ اس نوٹیفکیشن کا متن ابھی ہمارے سامنے نہیں، اس لیے یہ صفحہ 2023ء کی مردم شماری کی حدود کے مطابق ہے۔
تاریخ
قلات کی ابتدائی تاریخ روایت اور قیاس میں لپٹی ہے۔ گزیٹیئر کے مرتبین لکھتے ہیں کہ شہر کے بانی سیوا کے بارے میں اس کے سوا کچھ معلوم نہیں کہ وہ ہندو تھا؛ قلات کے دہواروں کی ایک شاخ آج بھی "سیوازئی" کہلاتی ہے۔ ادارۂ شماریات کی صوبائی رپورٹ بھی اس علاقے میں ایک ہندو "سیوا خاندان" کی حکمرانی کا ذکر کرتی ہے۔
گزیٹیئر کے مطابق پندرہویں صدی کے لگ بھگ قلات میرواڑیوں کے ہاتھ آیا، جو اپنی روایات کے مطابق پہلے سوراب میں آباد تھے۔ بلوچ سرداروں میر چاکر رند اور گواہرام لاشاری کے دور میں میرواڑی کچھ عرصے کے لیے قلات سے نکالے گئے، مگر میر بجار نے قلات واپس لے لیا۔ مغلوں کے زوال کے ساتھ براہوئی قبائل نے مغل حاکم کو نکال کر میرواڑی خاندان کے میر حسن کو سردار بنایا۔ اسی خاندان کے میر احمد، جن کے نام پر خاندان "احمدزئی" کہلایا، 1666-67ء میں مسند پر بیٹھے اور مستونگ اور خضدار تک اپنا اقتدار پھیلایا۔
اس خاندان کا سب سے نامور حکمران میر نصیر خان اول تھا جس نے 1750-51ء سے 1793-94ء تک، یعنی 44 برس حکومت کی۔ گزیٹیئر کے مطابق اس کی حیثیت ایک مطلق العنان بادشاہ کی نہیں بلکہ سرداروں کے ایک وفاق کے سربراہ کی تھی۔ 1758ء میں احمد شاہ ابدالی سے اختلاف کے بعد افغان لشکر نے قلات کا محاصرہ کیا، مگر گزیٹیئر کے مطابق شہر نے اس کے تین حملے روک لیے۔
پہلی افغان جنگ کے دوران 13 نومبر 1839ء کو جنرل ولشائر کی سربراہی میں برطانوی فوج نے قلات پر حملہ کر کے اسے فتح کیا۔ خان میر محراب خان اور ان کے کئی سردار اس لڑائی میں مارے گئے۔ گزیٹیئر کے مطابق شہر کے مستونگی دروازے پر اس وقت (1907ء) بھی برطانوی توپوں کے نشان موجود تھے۔ ایک سال بعد سراوان کے سرداروں نے میر محراب خان کے بیٹے نصیر خان دوم کی حمایت میں قلات پر قبضہ کر لیا، اور 1841ء میں انگریزوں نے انہیں ہی خان تسلیم کر لیا۔ 1854ء اور پھر 1876ء کے معاہدوں نے قلات اور برطانوی حکومت کے تعلقات کی نئی شکل متعین کی۔
لوگ اور زبانیں
2023ء کی مردم شماری کے مادری زبان کے جدول کے مطابق ضلع قلات میں سب سے بڑی زبان براہوئی ہے، جو 198,844 افراد، یعنی تقریباً 73 فیصد آبادی کی مادری زبان ہے۔ دوسرے نمبر پر بلوچی ہے جسے 69,320 افراد (تقریباً 25.5 فیصد) نے مادری زبان بتایا۔ پشتو (1,826) اور سندھی (937) بولنے والے ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔
مذہب کے جدول کے مطابق ضلع کے 271,560 باشندوں میں سے 269,533 مسلمان ہیں؛ ان کے علاوہ 1,060 ہندو اور 840 مسیحی درج ہیں۔ قلات کی ہندو برادری پرانی ہے: گزیٹیئر کے مطابق 1901ء کے آس پاس شہر میں ہندو تاجروں کے پچاس ساٹھ خاندان آباد تھے، اور قلعے کے نیچے کالی دیوی کا ایک مندر تھا جسے مرتبین نے "غالباً اسلام سے پہلے کا" قرار دیا۔
تعلیم کی صورتِ حال کمزور ہے۔ مردم شماری کے مطابق دس سال اور اس سے زیادہ عمر کی آبادی میں شرحِ خواندگی 39.70 فیصد ہے: مردوں میں 49.54 فیصد اور عورتوں میں 29.41 فیصد۔ صوبائی رپورٹ قلات کو ان اضلاع میں شمار کرتی ہے جہاں اسکول سے باہر بچوں کی شرح 50 سے 60 فیصد کے درمیان ہے۔
معیشت
قلات کی معیشت کی بنیاد زراعت اور گلہ بانی رہی ہے۔ 1907ء کے گزیٹیئر کے مطابق سراوان کے علاقے میں سب سے زیادہ کاشت گندم کی ہوتی تھی اور یہی لوگوں کی بنیادی خوراک تھی، جبکہ خربوزہ سب سے اہم بیل دار فصل تھی۔ امپیریل گزیٹیئر (1908ء) ریاست قلات کے باغات میں انار کو سب سے عام درخت بتاتا ہے، اور ساتھ خوبانی، بادام، شہتوت، انگور اور سیب کا ذکر کرتا ہے۔ وہی ماخذ لکھتا ہے کہ قلات شہر کے قریب بڑے گدھے پالے جاتے تھے۔
گزیٹیئر کے مطابق قلات شہر میں کوئی بڑی صنعت نہیں تھی، البتہ گھریلو استعمال کے لیے عمدہ ریشمی کشیدہ کاری ہوتی تھی۔ انگریزوں کی آمد سے پہلے قلات افغانستان سے ہندوستان جانے والے قافلوں کی گزرگاہ تھا، مگر 1907ء تک تجارت پرچون تک محدود ہو چکی تھی۔
ضلع کی موجودہ زرعی پیداوار کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار اس صفحے کی تیاری کے دوران دستیاب نہیں ہو سکے؛ یہ حصہ نظرِ ثانی میں مکمل کیا جائے گا۔
قابلِ دید مقامات
میری (قلعہ) اور پرانا شہر: گزیٹیئر کے مطابق شہر شاہِ مردان پہاڑی کے ایک ابھار پر آباد ہے اور اس کے گرد دس برجوں والی فصیل تھی۔ شمال، جنوب اور مشرق کے تین دروازے مستونگی، گلکند اور دلدار کہلاتے تھے۔ شہر کے اوپر "میری" یعنی پانچ منزلہ قلعہ تھا جس میں خان رہتے تھے اور جہاں سے وادی اور ہربوئی کے جونیپر سے ڈھکے پہاڑ نظر آتے تھے۔
احمدزئی قبرستان: شہر کے مشرق میں واقع اس قبرستان میں گزیٹیئر کے مطابق میر سمندر خان، میر نصیر خان اول، میر محمود خان اول اور میر محراب خان کے مقبرے ہیں۔
ہربوئی کا پہاڑی سلسلہ: قلات کے مشرق میں تقریباً 9,000 فٹ بلند یہ سلسلہ گزیٹیئر کے مطابق جونیپر کے جنگلات کے لیے مشہور تھا۔ اس کی ایک چوٹی کو 9,830 فٹ بلند بتایا گیا ہے۔
نمایاں شخصیات
میر نصیر خان اول (وفات 1794ء): احمدزئی خاندان کا سب سے نامور خان، جس نے 44 برس حکومت کی۔ گزیٹیئر کے مطابق اس نے مکران میں نو مہمات بھیجیں، پنجگور، کیچ اور خاران پر اپنا اقتدار قائم کیا اور سندھ سے کراچی کی بندرگاہ حاصل کی۔ اس کا انتقال 1794ء کی بہار میں گنداوہ میں ہوا۔
ماخذ
- Pakistan Bureau of Statistics, 7th Population and Housing Census 2023, Table 1: Area, Population by Sex, Sex Ratio, Population Density, Urban Population, Household Size and Annual Growth Rate (Balochistan districts), PDF pp. 3–4 (Kalat district, sub-divisions and sub-tehsils). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_1_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Census 2023, Table 11: Population by Mother Tongue, Sex and Rural/Urban (Balochistan districts), PDF p. 12 (Kalat district). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_11_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Census 2023, Table 12: Literacy Rate, Enrolment and Out of School Population (Balochistan districts), PDF p. 17. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_12_balochistan_district.pdf ; Table 9: Population by Religion (Balochistan districts), PDF p. 14. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_9_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Provincial Census Report 2023: Balochistan, Islamabad, 2025: p. 34 (Sewa dynasty), p. 36 (accession of 27 March 1948 and the revolt of Prince Abdul Karim), p. 46 (Table 2.3, creation of Surab district from Kalat), p. 94 (out-of-school brackets). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/2020/07/Provincial-Census-Report-2023-Balochistan-1.pdf
- Government of Balochistan, "History" (About Balochistan). https://balochistan.gov.pk/about/history/
- C. F. Minchin (ed.), Baluchistan District Gazetteer Series, Vol. VI: Sarawan, Kachhi and Jhalawan (Sarawan part), Bombay: Times Press, 1907: p. 7 (Harboi range), pp. 25–35 (Mirwaris, Ahmadzai Khans, Nasir Khan I, 1839–41), p. 43 (Ahmadzai cemetery), p. 81 (principal crops), p. 149 (Kalat niabat), pp. 230–232 (Kalat town). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.22668
- R. Hughes-Buller (comp.), Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, Calcutta: Superintendent of Government Printing, 1908: pp. 153–154 (Kalat State, orchards and livestock), pp. 163–164 (Kalat Town). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.120382
- July 2026 restructuring, as recorded in content/districts/00-district-list.md: Dawn, "Balochistan undergoes major restructuring", 12 July 2026, https://www.dawn.com/news/2014773/balochistan-undergoes-major-restructuring ; ProPakistani, "Balochistan Govt Notifies New Divisions and Districts", 12 July 2026, https://propakistani.pk/2026/07/12/balochistan-govt-notifies-new-divisions-and-districts/ (not opened in this session)







