ضلع گوادر: مکران کا ساحل، عمانی قلعے سے گہرے پانی کی بندرگاہ تک
گوادر بلوچستان کا جنوب مغربی ساحلی ضلع ہے، جو بحیرۂ عرب کے کنارے مغرب میں ایران کی سرحد سے مشرق میں اورماڑہ تک پھیلا ہوا ہے۔ شمال میں اس کی سرحد ضلع کیچ سے ملتی ہے، مشرق میں لسبیلہ اور…

تعارف اور محلِ وقوع
گوادر بلوچستان کا جنوب مغربی ساحلی ضلع ہے، جو بحیرۂ عرب کے کنارے مغرب میں ایران کی سرحد سے مشرق میں اورماڑہ تک پھیلا ہوا ہے۔ شمال میں اس کی سرحد ضلع کیچ سے ملتی ہے، مشرق میں لسبیلہ اور آواران سے۔ ضلع کا صدر مقام گوادر شہر ہے جو ایک ایسے تنگ خشکی کے ٹکڑے پر آباد ہے جس کے دونوں طرف سمندر ہے؛ اسی لیے اس کی بناوٹ کو "ہتھوڑے کے سر" سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ ضلع مکران ڈویژن کا حصہ ہے جس کا صدر مقام تربت ہے۔
پاکستان کے ادارۂ شماریات کی 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع گوادر کا رقبہ 12,637 مربع کلومیٹر اور آبادی 305,160 ہے، جس میں 160,744 مرد اور 144,385 عورتیں ہیں۔ آبادی کی کثافت تقریباً 24 افراد فی مربع کلومیٹر ہے، مگر 2023ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی 52 فیصد سے زیادہ آبادی، یعنی 159,035 افراد، شہری علاقوں میں رہتی ہے۔ 2017ء کی مردم شماری میں ضلع کی آبادی 262,253 تھی، یعنی چھ برس میں سالانہ تقریباً 2.56 فیصد اضافہ ہوا۔ تحصیل گوادر کی آبادی 2023ء میں 147,673 درج ہے۔
انتظامی طور پر ضلع کی چار تحصیلیں گوادر، پسنی، اورماڑہ اور جیونی رہی ہیں، جن میں 2011ء کے ضلعی ترقیاتی پروفائل کے مطابق تیرہ یونین کونسلیں تھیں۔ 8 جولائی 2026ء کو محکمۂ مال بلوچستان کے ایک نوٹیفکیشن سے صوبے کو 11 ڈویژنوں اور 41 اضلاع میں دوبارہ ترتیب دیا گیا۔ ڈان کے مطابق اس نوٹیفکیشن میں مکران ڈویژن کا نام "مکُران" رکھا گیا اور ضلع گوادر میں اورماڑہ اور جیونی کی نئی سب ڈویژنیں بنائی گئیں۔ ضلع کی حدود میں کوئی تبدیلی رپورٹ نہیں ہوئی۔
تاریخ
مکران کا یہ ساحل تاریخ کے ہر دور میں آباد رہا ہے۔ دریائے دشت کے کنارے سوتکاگن ڈور اور پسنی کے شمال میں سوتکا کوہ کے ٹیلے وادیٔ سندھ کی تہذیب کی مغربی ترین بستیاں ہیں، جہاں ساڑھے چار ہزار برس پہلے وہی برتن بنتے تھے جو موہنجو دڑو میں بنتے تھے۔ امریکی ماہرِ آثار جارج ڈیلز نے 1960ء میں ان کا سروے کیا اور انہیں ہڑپہ کی تجارتی چوکیاں قرار دیا۔
گوادر کی جدید تاریخ عمان سے جڑی ہے۔ اطالوی محقق بیاٹریس نکولینی کے مطابق اٹھارہویں صدی کے آخر میں قلات کے خان میر نصیر خان اول نے گوادر کی بندرگاہ مسقط کے شہزادے سلطان بن احمد کو عطا کی جو مسقط سے بھاگ کر آیا تھا۔ وہ بعد میں مسقط کا سلطان بن گیا، مگر گوادر مسقط ہی کے پاس رہا۔ سلطان نے یہاں ایک والی مقرر کیا جس نے خلیج کے کنارے قلعہ تعمیر کیا۔ 1906ء کے گزیٹیئر آف بلوچستان کی مکران کی جلد، جو برطانوی افسر آر ہیوز بُلر نے مرتب کی، گوادر کو مسقط کے والی کے زیرِ انتظام ایک الگ علاقے کے طور پر بیان کرتی ہے جبکہ باقی مکران قلات کی ریاست کا حصہ تھا۔
پاکستان بننے کے بعد حکومت نے گوادر کی واپسی کے لیے بات چیت شروع کی۔ گوادر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے تاریخی صفحے کے مطابق پاکستان نے 8 ستمبر 1958ء کو یہ علاقہ عمان سے حاصل کیا اور 8 دسمبر 1958ء کو گوادر باقاعدہ طور پر پاکستان کا حصہ بن گیا۔ اس کے بعد گوادر مکران ضلع کی ایک تحصیل رہا۔ یکم جولائی 1977ء کو مکران کو ڈویژن کا درجہ دے کر اسے تین اضلاع گوادر، کیچ اور پنجگور میں تقسیم کیا گیا، اور گوادر شہر نئے ضلع کا صدر مقام بنا۔
لوگ اور زبانیں
گوادر کی آبادی تقریباً یک زبان ہے۔ 2023ء کی مردم شماری کی مادری زبان کی جدول کے مطابق ضلع کے 305,160 باشندوں میں سے 295,733، یعنی تقریباً 97 فیصد، کی مادری زبان بلوچی ہے۔ براہوی، سندھی، پنجابی، اردو اور پشتو بولنے والے ہر ایک کی تعداد ایک فیصد سے کم ہے۔ ساحلی علاقے میں بلوچی کا مکرانی لہجہ بولا جاتا ہے۔
مگر یک زبان ہونے کا مطلب یکساں ہونا نہیں۔ نکولینی لکھتی ہیں کہ عمانی دور میں گوادر عرب اور مشرقی افریقہ سے وسطی ایشیا کی طرف جانے والی تجارت کا ایک مرکز تھا، اور پرانے بازار کی افریقی نسل کی آبادی اور خوجہ برادری اسی تاریخ کی یادگار ہیں۔
معیشت
صدیوں سے اس ساحل کی معیشت سمندر پر کھڑی ہے۔ 1906ء کے گزیٹیئر میں مکران کے ساحلی باشندوں کا بنیادی پیشہ ماہی گیری درج ہے، اور گوادر، پسنی اور اورماڑہ اسی زمانے میں مچھلی کی بندرگاہیں تھیں۔ آج بھی ماہی گیری ضلع کی بڑی آبادی کا ذریعۂ روزگار ہے۔
ضلع کی معیشت کا دوسرا ستون بندرگاہ ہے۔ ڈان کے مطابق 1954ء میں امریکی ماہر ورث کونڈرک نے ساحل کے سروے کے بعد یہاں گہرے پانی کی بندرگاہ کی سفارش کی تھی، مگر عملی کام نصف صدی بعد شروع ہوا۔ 22 مارچ 2002ء کو گہرے پانی کی بندرگاہ کا سنگِ بنیاد رکھا گیا، اور اسی برس ایک صدارتی آرڈیننس کے تحت گوادر پورٹ اتھارٹی قائم ہوئی جو بندرگاہ کی تعمیر، انتظام اور دیکھ بھال کی ذمہ دار ہے۔ 2007ء میں سنگاپور کی کمپنی پی ایس اے کو بندرگاہ چلانے کا ٹھیکہ ملا، اور 18 فروری 2013ء کو بندرگاہ کا انتظام چین کی سرکاری کمپنی چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کے حوالے کر دیا گیا۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) نے گوادر کو اپنے منصوبوں کا ایک مرکز بنایا۔ سی پیک کے سرکاری صفحے پر گوادر کے منصوبوں میں 168 ملین ڈالر کی ایسٹ بے ایکسپریس وے، 230 ملین ڈالر کا نیا گوادر بین الاقوامی ہوائی اڈہ، فری زون کی ترقی، بریک واٹر، بندرگاہ کی کھدائی، ایک ہسپتال اور شہر کا ماسٹر پلان شامل ہیں۔ سی پیک کے مشترکہ ورکنگ گروپ کے مطابق فری زون کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور 2,221 ایکڑ پر دوسرا مرحلہ شروع ہوا ہے۔
قابلِ دید مقامات
گوادر کا جزیرہ نما: شہر دو خلیجوں کے درمیان ایک تنگ پٹی پر آباد ہے، اور جنوب میں سمندر کے اندر پھیلا ہوا وہ "ہتھوڑے کا سر" ہے جس نے 1954ء کے سروے میں یہاں بندرگاہ کی سفارش کا سبب دیا۔
استولا جزیرہ: پسنی سے تقریباً 39 کلومیٹر دور سمندر میں واقع یہ جزیرہ پاکستان کا پہلا سمندری محفوظ علاقہ ہے۔ حکومتِ بلوچستان کے محکمۂ جنگلات و جنگلی حیات نے 15 جون 2017ء کے نوٹیفکیشن سے اسے یہ حیثیت دی۔ یہ سبز کچھوؤں کی افزائش کی جگہ ہے اور اس کے گرد مونگے کی چٹانیں ہیں۔
سوتکاگن ڈور اور سوتکا کوہ: دریائے دشت کے کنارے اور پسنی کے شمال میں شادی کور کی وادی میں ہڑپہ دور کی یہ دو بستیاں ضلع کی سب سے قدیم یادگاریں ہیں۔ سوتکا کوہ میں آج تک باقاعدہ کھدائی نہیں ہوئی۔
پسنی، اورماڑہ اور جیونی: یہ تینوں ساحلی قصبے صدیوں سے ماہی گیری کی بندرگاہیں ہیں اور ضلع کی تحصیلوں کے صدر مقام ہیں۔ جیونی مغرب میں ایران کی سرحد کے قریب خلیجِ گواتر پر واقع ہے، اورماڑہ مشرق میں لسبیلہ کی سرحد کے قریب۔
ماخذ
- Pakistan Bureau of Statistics, 7th Population and Housing Census 2023, Table 1: Area, Population by Sex, Sex Ratio, Population Density, Urban Proportion, Household Size and Annual Growth Rate, Balochistan districts, Islamabad, 2023. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_1_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, 7th Population and Housing Census 2023, Table 11: Population by Mother Tongue, Gender and Rural/Urban Residence, Balochistan districts, Islamabad, 2023. https://www.pbs.gov.pk/sites/default/files/population/2023/tables/table_11_balochistan_districts.pdf · Provincial report: https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/2020/07/Provincial-Census-Report-2023-Balochistan-1.pdf
- R. Hughes-Buller, Baluchistan District Gazetteer Series, Vol. VII: Makrán, text and appendices, Bombay, 1906 (scan, Digital Library of India). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.279674
- Beatrice Nicolini, "International trade networks: The Omani Enclave of Gwadar", German and International Research on Oman conference, Bonn, 1998 (Oman Studies Centre). http://www.oman.org/bonn_007.htm
- Gwadar Development Authority, "History of Gwadar" (purchase on 8 September 1958; part of Pakistan on 8 December 1958; district headquarters from 1 July 1977). https://gda.gov.pk/history-of-gwadar
- Planning and Development Department, Government of Balochistan, with UNICEF, District Development Profile 2011: Gwadar, Quetta, 2011 (4 tehsils, 13 union councils). https://www.cophcgwadar.com/files/pdf/District_Development_Profile_2011_Gwadar.pdf
- Dawn, "Balochistan undergoes major restructuring", July 2026 (Revenue Department notification of 8 July 2026: 11 divisions, 41 districts; Makran renamed Makuran; new Ormara and Jiwani sub-divisions in Gwadar). https://www.dawn.com/news/2014773/balochistan-undergoes-major-restructuring
- Dawn, "Gwadar port: 'history-making milestones'", 14 April 2008 (Worth Condrick's 1954 survey; groundbreaking 22 March 2002; PSA contract 2007). https://dawn.com/news/297994 · AFP, "Pakistan port transferred to China", The Peninsula, 19 February 2013 (handover to China Overseas Ports Holding Company on 18 February 2013). https://thepeninsulaqatar.com/article/19/02/2013/pakistan-port-transferred-to-china
- Gwadar Port Authority, "About GPA" and "About Gwadar", Ministry of Maritime Affairs, Government of Pakistan (authority created by ordinance in 2002). https://gwadarport.gov.pk/about.aspx · https://gwadarport.gov.pk/gwadar.aspx · China-Pakistan Economic Corridor Secretariat, Ministry of Planning, Development and Special Initiatives, "Gwadar Projects under CPEC" (project list and costs) and "6th Meeting of Joint Working Group on Gwadar" (free zone phase 2, 2,221 acres). https://cpec.gov.pk/gwadar · http://cpec.gov.pk/news/216
- IUCN Pakistan, "Astola Island – Pakistan's first ever Marine Protected Area", June 2017 (notification by the Balochistan Forest and Wildlife Department, 15 June 2017). https://iucn.org/news/pakistan/201706/astola-island-%E2%80%93-pakistan%E2%80%99s-first-ever-marine-protected-area · Dawn, "Astola island declared country's first marine protected area", June 2017: https://www.dawn.com/news/1339850
- G. F. Dales, Jr., "A Search for Ancient Seaports", Expedition 4(2), Penn Museum, 1962 (Sutkagen Dor and Sotka Koh). https://www.penn.museum/sites/expedition/a-search-for-ancient-seaports/







