رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید

غالب: سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

مطلع میں غالب کہتا ہے کہ خاک میں دفن ہونے والے حسین چہروں میں سے کچھ ہی لالہ و گل بن کر ظاہر ہوئے، باقی ہمیشہ کے لیے چھپ گئے [1]۔ غزل میں قصۂ یوسفؑ کے حوالے بھی ہیں، اور…

غالب: سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
علامتی تصویر

مرزا اسد اللہ بیگ خاں غالب (1797–1869)2

پس منظر

مطلع میں غالب کہتا ہے کہ خاک میں دفن ہونے والے حسین چہروں میں سے کچھ ہی لالہ و گل بن کر ظاہر ہوئے، باقی ہمیشہ کے لیے چھپ گئے1۔ غزل میں قصۂ یوسفؑ کے حوالے بھی ہیں، اور "رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج، مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں" اردو کے مقبول ترین اشعار میں ہے۔

غزل

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیںخاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاںلیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہو گئیں

تھیں بنات النعش گردوں دن کو پردے میں نہاںشب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں

قید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبرلیکن آنکھیں روزن دیوار زنداں ہو گئیں

سب رقیبوں سے ہوں نا خوش پر زنان مصر سےہے زلیخا خوش کہ محو ماہ کنعاں ہو گئیں

جوئے خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شام فراقمیں یہ سمجھوں گا کہ شمعیں دو فروزاں ہو گئیں

ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقامقدرت حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں

نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیںتیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں

میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھل گیابلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں

وہ نگاہیں کیوں ہوئی جاتی ہیں یارب دل کے پارجو مری کوتاہیٔ قسمت سے مژگاں ہو گئیں

بسکہ روکا میں نے اور سینے میں ابھریں پے بہ پےمیری آہیں بخیۂ چاک گریباں ہو گئیں

واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جوابیاد تھیں جتنی دعائیں صرف درباں ہو گئیں

جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیاسب لکیریں ہاتھ کی گویا رگ جاں ہو گئیں

ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسومملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں

رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنجمشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

یوں ہی گر روتا رہا غالبؔ تو اے اہل جہاںدیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں

مشکل الفاظ

  • لالہ و گل: لالے اور گلاب کے پھول
  • پنہاں: چھپا ہوا
  • رنگا رنگ بزم آرائیاں: طرح طرح کی محفلیں سجانا
  • طاق نسیاں: بھول کا طاق؛ بھولی بسری جگہ
  • بنات النعش: سات ستاروں کا جھرمٹ (دب اکبر)
  • گردوں: آسمان
  • عریاں: کھلا، ظاہر
  • یعقوب: حضرت یعقوبؑ، جو بیٹے یوسفؑ کی جدائی میں روتے رہے
  • روزن: سوراخ، جھروکا
  • زنان مصر: مصر کی عورتیں، قصۂ یوسفؑ میں
  • ماہ کنعاں: کنعان کا چاند، یعنی حضرت یوسفؑ
  • فروزاں: روشن
  • دبستاں: مکتب، درس گاہ
  • پے بہ پے: لگاتار
  • بخیۂ چاک گریباں: پھٹے گریبان کا ٹانکا
  • درباں: دربان، چوکیدار
  • موحد: ایک خدا کو ماننے والا
  • کیش: مسلک، طریقہ
  • ترک رسوم: رسموں کو چھوڑ دینا
  • خوگر: عادی

ماخذ

  1. ریختہ (Rekhta), مرزا غالب، غزل "سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں"، متن جوں کا توں اسی صفحے سے (16 اشعار)، دیکھا گیا 18 اکتوبر 2026. https://www.rekhta.org/ghazals/sab-kahaan-kuchh-laala-o-gul-men-numaayaan-ho-gaiin-mirza-ghalib-ghazals?lang=ur
  2. ریختہ (Rekhta), "مرزا غالب: پروفائل اور سرگزشت": اصل نام مرزا اسد اللہ بیگ خاں، پیدائش 27 دسمبر 1797 آگرہ، وفات 15 فروری 1869 دہلی. https://www.rekhta.org/poets/mirza-ghalib/profile?lang=ur
  3. "Ghalib", Wikipedia (English): pen names Asad and Ghalib; titles Najm-ud-Daula and Dabir-ul-Mulk from Bahadur Shah Zafar in 1850 (citing Pavan K. Varma, Ghalib: The Man, The Times, Penguin, 1989). https://en.wikipedia.org/wiki/Ghalib

کلام: تمام تحریریں ←