سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا
خواجہ میر دردؔ کی غزل۔

خواجہ میر دردؔ کی غزل۔
غزل
سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیابس ہجوم یاس جی گھبرا گیا
تجھ سے کچھ دیکھا نہ ہم نے جز جفاپر وہ کیا کچھ ہے کہ جی کو بھا گیا
کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مریجی میں یہ کس کا تصور آ گیا
میں تو کچھ ظاہر نہ کی تھی جی کی باتپر مری نظروں کے ڈھب سے پا گیا
پی گئی کتنوں کا لوہو تیری یادغم ترا کتنے کلیجے کھا گیا
مٹ گئی تھی اس کے جی سے تو جھچکدردؔ کچھ کچھ بک کے تو چونکا گیا
مشکل الفاظ
- سینہ و دل: سینہ اور دل
- حسرت: ادھوری آرزو
- چھا گیا: بھر گیا، ڈھک لیا
- ہجومِ یاس: مایوسی کی بھیڑ
- جفا: ظلم
- تصور: خیال، تصویر
- ڈھب: انداز، طریقہ
- لوہو: لہو، خون
- کلیجے: جگر، دل
- جھچک: ہچکچاہٹ
- بک کے: بے سوچے بول کر
- چونکا: ہوشیار ہو گیا
پس منظر
چھ شعروں کی اس غزل کی ردیف "گیا" ہے۔ تیسرا شعر، "کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مریجی میں یہ کس کا تصور آ گیا"، ایک ہی خیال میں کھو جانے کی تصویر ہے۔ ریختہ کے تعارف کے مطابق دردؔ کے عشق میں بے چینی کے بجائے ایک طرح کی طمانیت اور پاکیزگی ہے2؛ اس غزل میں بھی شکایت دھیمے لہجے میں ہے۔ متن ریختہ کے صفحے سے ہے1۔
متن کا ماخذ: ریختہ پر شائع متن، لفظ بہ لفظ1۔
ماخذ
- ریختہ، خواجہ میر دردؔ: "سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا" (غزل کا متن)۔ https://www.rekhta.org/ghazals/siina-o-dil-hasraton-se-chhaa-gayaa-khwaja-meer-dard-ghazals?lang=ur
- ریختہ، خواجہ میر دردؔ: تعارف۔ https://www.rekhta.org/poets/khwaja-meer-dard/profile?lang=ur
- دیوانِ درد، مرتبہ نسیم احمد، archive.org (حوالے کے لیے)۔ https://archive.org/details/DeewanEDard
- ریختہ لغت (مشکل الفاظ کے معانی کے لیے)۔ https://www.rekhta.org/urdudictionary?lang=ur







