8 دسمبر 1876: معاہدۂ جیکب آباد
جمعہ، 8 دسمبر 1876۔ سندھ کی سرحد پر جیکب آباد میں غیر معمولی ہجوم ہے۔ وائسرائے ہند لارڈ لٹن ایک رات پہلے پہنچے ہیں، اور خانِ قلات میر خداداد خان اپنے سرداروں کے ساتھ ان کے منتظر تھے۔ سنڈیمن کے…

تاریخ کے اوراق: یہ تحریر روزنامہ اعتماد کے اجرا (اکتوبر 1970) سے پہلے کے ایک دن کی کہانی ہے، جو دستیاب تاریخی ماخذ سے مرتب کی گئی ہے۔
جمعہ، 8 دسمبر 1876۔ سندھ کی سرحد پر جیکب آباد میں غیر معمولی ہجوم ہے۔ وائسرائے ہند لارڈ لٹن ایک رات پہلے پہنچے ہیں، اور خانِ قلات میر خداداد خان اپنے سرداروں کے ساتھ ان کے منتظر تھے۔ سنڈیمن کے سوانح نگار ٹی ایچ تھارنٹن کے مطابق معاہدے کے مسودے پر رات گئے تک بحث ہوئی اور آخر متن طے ہو گیا۔ آج سہ پہر ساڑھے تین بجے، سندھ فرنٹیئر فورس کے کمانڈر کی رہائش گاہ "جیکب کیسل" کے دربار ہال میں، اس پر دستخط ہوں گے۔ بلوچستان میں انگریزی عمل دخل کا ایک نیا دور اسی دستاویز سے شروع ہوا۔
انتشار کے بیس برس
امپیریل گزیٹیئر (1908) کے مطابق میر خداداد خان 1857 میں کم عمری میں خان بنے، اور اس کے بعد 1876 تک قلات کی تاریخ "بدنظمی، بغاوت اور زیادتی" کی طویل داستان ہے جس میں سات بڑی اور کئی چھوٹی بغاوتیں ہوئیں۔ مارچ 1863 میں خان کے چچازاد شیردل خان نے ان پر قاتلانہ حملہ کیا اور مسند پر قابض ہو گئے؛ خداداد خان 1864 میں واپس آئے۔
1907 کے ضلعی گزیٹیئر کے مطابق مارچ 1873 میں انگریز پولیٹیکل ایجنٹ قلات سے واپس بلا لیا گیا اور خان کا سالانہ وظیفہ روک دیا گیا۔ خان کو بتایا گیا کہ 1854 کے معاہدے کے تحت تجارت کی حفاظت اور سرحد پر امن ان کی ذمہ داری ہے، اور گڑبڑ ہوئی تو انگریزی حکومت خود اقدام کرے گی۔ 1875 میں حکومتِ ہند نے کیپٹن رابرٹ سنڈیمن کو خان اور سرداروں میں صلح کرانے بھیجا۔ امپیریل گزیٹیئر کے مطابق یہ پہلا مشن پوری طرح کامیاب نہ ہوا، اور اس کے فوراً بعد مینگل سردار نورالدین اپنے کئی ساتھیوں سمیت خان کے ہاتھوں مارے گئے؛ الزام یہ تھا کہ وہ خان کی جان کے خلاف سازش میں شریک تھے۔ 1876 کے موسمِ بہار میں سنڈیمن بڑے دستے کے ساتھ دوبارہ آئے۔
مستونگ کا دربار
ملاقات کے لیے مستونگ چنا گیا۔ تھارنٹن لکھتے ہیں کہ خان پہلے قلات سے نکلنے پر آمادہ نہ تھے: انگریزی سرپرستی میں اپنے باغی سرداروں سے ملنا انہیں ذاتی سبکی لگتا تھا، انہیں سرداروں کی دغا کا ڈر تھا اور شاید انگریزوں کے ارادوں پر بھی شبہ تھا۔ سنڈیمن نے وائسرائے کا خط کیپٹن وائلی کے ہاتھ بھیجا اور خان آ گئے۔
تھارنٹن کے مطابق ثالثی کمیٹی بنی: تین ارکان خان کے، تین سرداروں کے، منشی ہٹی رام سیکرٹری اور سنڈیمن آخری ثالث۔ کمیٹی نے 9 سے 11 جولائی تک فریقین کے دعوے سنے، اور 13 جولائی کو بڑا دربار ہوا جس میں شرائط کا اعلان ہوا اور اسلامی رواج کے مطابق حلف لیے گئے؛ 1907 کا گزیٹیئر دربار کی تاریخ 14 جولائی لکھتا ہے۔ سراوان اور جھالاوان کے سرداروں نے خان کی اطاعت کا اقرار کیا، اور خان نے ان کے "قدیم حقوق اور مراعات" بحال کر کے وعدہ کیا کہ جب تک وہ وفادار رہیں، ان سے حسنِ سلوک ہوگا۔ امپیریل گزیٹیئر نے اس تصفیے کو براہوی کنفیڈریسی کا "میگنا کارٹا" کہا۔
معاہدے میں کیا تھا
ایچی سن کے مجموعے میں چھپے متن کے مطابق معاہدہ لارڈ لٹن نے انگریزی حکومت کی طرف سے اور میر خداداد خان نے اپنی طرف سے کیا۔ اس نے 14 مئی 1854 کے معاہدے کی تجدید کی اور "دائمی دوستی" کا اعلان کیا۔ انگریزی حکومت نے قلات کی "آزادی کا احترام" کرنے اور ضرورت پڑنے پر خان کی مدد کا وعدہ کیا۔ قلات میں انگریز ایجنٹ مستقل رہیں گے؛ خان اور سرداروں کا تنازع پہلے ایجنٹ کی مصالحت اور پھر انگریزی حکومت کی ثالثی میں جائے گا جس کا فیصلہ خان مانیں گے۔ خان کی درخواست پر انگریزی فوج کا دستہ ان جگہوں پر رہے گا جو انگریزی حکومت طے کرے، اور اسی کی مرضی سے واپس جائے گا۔ ریل اور تار کی لائنیں باہمی طے شدہ شرائط پر بنیں گی، تجارت آزاد ہوگی، وظیفہ پچاس ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے سالانہ ہوگا، اور تجارتی راستوں کے لیے مزید 20,500 روپے سالانہ ملیں گے۔
تھارنٹن کے مطابق دستخط کے بعد وائسرائے نے خان کو خالی خزانے کے لیے تین لاکھ روپے کا تحفہ دیا اور اعلان کیا کہ سنڈیمن ان کے دربار میں انگریزی نمائندے ہوں گے۔ ایچی سن کے مطابق لٹن نے اسی موقع پر وعدہ کیا کہ سنڈیمن مکران جا کر وہاں کے معاملات طے کریں گے۔ تھارنٹن یہ بھی لکھتے ہیں کہ دستخط سے پہلے ہی سنڈیمن نے خان کی اجازت سے اپنے محافظ دستے کا ایک حصہ کوئٹہ میں ٹھہرا دیا تھا۔
دو نقطۂ نظر
انگریزی بیان۔ تھارنٹن کے نزدیک 1854 کے معاہدے میں صرف خان فریق تھے، جب کہ 1876 میں سرداروں کا بھی ذکر ہے؛ اور ایجنسی اور ثالثی کی شقوں نے عدم مداخلت کی پرانی پالیسی ختم کر کے خانیت میں "مسلسل خانہ جنگی" کی جگہ امن قائم کیا۔ حکومتِ ہند نے 23 مارچ 1877 کے مراسلے میں امید ظاہر کی کہ یوں قلات سلطنت کی ایک "اضافی فصیل" بن جائے گا۔
تنقیدی بیان۔ محمد نعیم اور نسرین افضل (دی ڈائیلاگ، 2025) کے مطابق 1838 سے 1876 تک کے معاہدوں نے خانیتِ قلات کو ایک آزاد ریاست سے انگریزوں کی "باجگزار ریاست" بنا دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ کاغذ پر قلات کی آزادی تسلیم کی گئی، مگر عملاً تعلق بدل گیا: "سنڈیمن سسٹم" نے سرداروں کو انگریزی سرپرستی میں خان کے برابر کر دیا اور خان ایسے سربراہِ ریاست رہ گئے جن کے پاس اختیارات نہ تھے۔
دنیا میں اس مہینے
- 5 دسمبر 1876، نیویارک: بروکلین تھیٹر میں آگ سے کم از کم 278 افراد ہلاک ہوئے۔
- 6 دسمبر 1876، امریکہ: پنسلوینیا میں امریکہ میں پہلی بار میت کو جلایا گیا۔
- 23 دسمبر 1876، استنبول: یورپی طاقتوں کی قسطنطنیہ کانفرنس شروع ہوئی۔
آگے کیا ہوا
- یکم جنوری 1877: خان، سنڈیمن کے ساتھ، دہلی کے شاہی دربار میں شریک ہوئے؛ اسی دن سنڈیمن کو سی ایس آئی کا اعزاز ملا۔
- 21 فروری 1877: سنڈیمن ایجنٹ ٹو دی گورنر جنرل مقرر ہوئے، صدر مقام کوئٹہ رکھا گیا، اور انگریزی فوج کوئٹہ اور مٹھڑی میں ٹھہرائی گئی۔ ایچی سن کے الفاظ میں یہ معاہدہ "بلوچستان ایجنسی کی بنیاد" تھا۔
- دوسری افغان جنگ کے دوران: خان انگریزوں کے ساتھ رہے؛ گزیٹیئر کے مطابق انہیں جی سی ایس آئی اور تین لاکھ روپے انعام ملا۔
- 1883: کوئٹہ کا علاقہ 25 ہزار روپے سالانہ پر انگریزوں کو پٹے پر دیا گیا۔
- 1893: خداداد خان اپنے بیٹے میر محمود خان کے حق میں دستبردار ہوئے۔
کیا آپ کے پاس سنڈیمن کے دور، مستونگ کے دربار یا جیکب آباد کے اس معاہدے سے متعلق کوئی پرانی تحریر، سند یا تصویر ہے؟ ہمیں ضرور بھیجیں۔ ہم اسے آپ کے نام کے ساتھ اس صفحے پر شامل کریں گے۔
ماخذ
- C. U. Aitchison (comp.), A Collection of Treaties, Engagements and Sanads relating to India and Neighbouring Countries, vol. XI, 5th ed., "revised and continued up to 1929", Calcutta, 1933: Kalat narrative (Sandeman's missions, Mastung darbar "in July 1876", treaty "concluded on the 8th" of December; the treaty as "the foundation of the Baluchistan Agency"; Sandeman appointed Agent on 21 February 1877, headquarters at Quetta, troops at Quetta and Mitri; Lytton's promise on Makran) and Treaty No. XII, full text, signed at Jacobabad, December 1876. https://archive.org/details/acollectionoftreatiesengagementsandsanadsaitchisonc.u.vol11_83_O
- Baluchistan District Gazetteer Series, vols. VI, VI-A and VI-B: Sarawan, Kachhi and Jhalawan, Bombay: Times Press, 1907, pp. 39–40 (withdrawal of the Political Agent and stopping of the subsidy in March 1873; Sandeman's missions; Mastung darbar "on the 14th of July"; treaty concluded at Jacobabad "on the 8th of that month"; terms; the Khan's G.C.S.I. and bonus after the Afghan war). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.22668
- T. H. Thornton, Colonel Sir Robert Sandeman: His Life and Work on our Indian Frontier, London: John Murray, 1895, chs. IX–X, pp. 80–95 (the Khan's reluctance; the arbitration committee, 9–11 July; the durbar of 13 July; the Viceroy's arrival on 7 December; execution "at 3.30 p.m. on the 8th" in Jacob's Castle; the gift of three lakhs; the escort at Quetta; Delhi, 1 January 1877; Sandeman's C.S.I. and appointment of 21 February 1877; Government of India despatch of 23 March 1877). https://archive.org/details/india.history.resource.92336
- Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan (compiled by R. Hughes-Buller), Calcutta: Superintendent of Government Printing, 1908, pp. 16–17, 121 and the section on Native States (seven rebellions 1857–1876; Sherdil Khan, 1863; Sandeman's first mission and Nur-ud-din Mengal; Mastung agreement as "the Magna Charta of the Brahui confederacy"; treaty terms; Quetta leased in 1883 for Rs. 25,000). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.120382
- Muhammad Naeem and Nasreen Afzal, "The British Occupation of Kalat: A Critical Appraisal of the Establishment of British Rule in Baluchistan", The Dialogue (Qurtuba University), vol. 20, no. 2, April–June 2025 (treaty signed at Jacobabad on 8 December 1876; Kalat turned into a "British vassal state"; the "Sandeman system" and the Khan's reduced role). https://journals.qurtuba.edu.pk/ojs/index.php/thedialogue/article/download/86126/469/7682







